چیف ایڈیٹر : فیاض ظفر
ایڈیٹر : امجد صحاب
ریزیڈنٹ ایڈیٹر: عطااللہ خان بابا
ساجد علی ابوتلتانکالم

سرتور فقیر کے متعلق کتابیں

پختونخوا میں جہاں انگریز حکومت کے حمایت یافتہ جاگیردار اور خوانین موجود تھے، وہاں سر تور فقیر جیسی شخصیت کو دشمنی میں ’’میڈملا‘‘ کا خطاب ملا تھا۔ آپ ’’ملامستان‘‘ کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں۔ اس عظیم مجاہد پر متعدد لوگوں نے تاریخی مقالے لکھے ہیں،جو یقیناًاس کے حق دار بھہ ہیں۔ کیوں کہ انہوں نے اپنے وقت کی سپر طاقت ’’برطانیہ‘‘ کو للکارا تھا۔ سوات کے ثقہ مؤرخ ڈاکٹر سلطان روم اور ڈاکٹر محمد علی دیناخیل نے ان پر تحقیقی مقالے لکھے ہیں۔ ڈاکٹر محمد علی دینا خیل کا مقالہ چوں کہ پشتو میں تھا، اس لیے اس کا اردو ترجمہ امجد علی سحابؔ نے کیا، جو روزنامہ آزادی کی ان صفحات میں قسطوں کی شکل میں چھپ چکا ہے۔ آن لائن نیوز پیپر www.lafzuna.com پر اب بھی اسے ’’سرتور فقیر‘‘ کے عنوان سے پڑھا جاسکتا ہے۔ اس طرح شہباز محمد کی کتاب جو ونسٹن چرچل کی کتاب کا ترجمہ ہے، میں سرتور فقیر کا ذکر موجود ہے۔ اباسین یوسف زئی، کرم مندوخیل، میاں محبوب علی، میاں علی نواب پریشان، دوست محمد طالب جان اور زیراب گل اتمان خیل نے سرتور فقیر پرباقاعدہ نظمیں لکھی ہیں۔ اس طرح روشن خان اور دیگر مصنفین نے ان کا ذکر بھی کیا ہے۔
سرتور فقیر کے موضوع پر ایک مشخص کتاب بعنوان ’’سرتور فقیر د خپلواکی اتل‘‘ ڈاکٹر بدرالحکیم حکیم زئی کی ہے، جو پشتو اکیڈمی بلوچستان کوئٹہ کی جانب سے 2017ء کو شائع ہوئی، جب کہ حال ہی میں دوسری کتاب محقق امجد علی اتمان خیل نے جنوری 2019ء کو شائع کی ہے۔ مذکورہ دونوں کتابیں ہمارا آج کا موضوع ہیں۔ ان پر بحث کرنے سے پہلے سرتور فقیر کا مختصر تعارف کر دیتے ہیں۔
ملک حمداللہ خان کا بیٹا سعداللہ خان عرف سرتور فقیر ریگا بونیر میں پیدا ہوئے۔ جوانی میں ہندوستان، کابل اور تاجکستان کا سفر کیا۔ دورانِ سفر انگریزوں سے آزادی حاصل کرنے کا جذبہ موجزن ہوا۔ اسی جذبۂ حریت کی بدولت واپس آکر بونیر کی بجائے سوات میں سکونت اختیار کی اور فتح پور میں میں رہنے لگے۔ کیوں کہ ان کے مطابق یہی جگہ لشکر تشکیل دینے کے لیے موزوں تھی۔ آپ نے لوگوں کی نفسیات کے مطابق اپنے آپ کو پیری اور بزرگی کی شکل میں آشکارا کیا،جوں ہی عقیدت مندوں میں اضافہ ہوا، تو آپ نے انگریزوں کے خلاف اعلانِ جہاد کیا۔ یوں 28 جولائی 1897ء کو لشکر تیار کیا اور اسی مہینے کی 26 تاریخ کو ملاکنڈ میں میجر ڈین کے کیمپ پر حملہ کیا۔ نتیجتاً انگریز فوج لوٹ مار کرتے ہوئی مینگورہ تک پہنچ گئی۔ سر تور فقیر نے شکست کھائی مگر انہوں نے اس شکست کو تسلیم نہیں کیا۔ اس کے بعد وہ ہر سال انگریزوں پر حملہ کرنے کے منصوبے بناتے تھے۔ جس سے انگریز سخت مشکلات میں گھرے ہوئے تھے۔ اس لیے ان کو مارنے کا منصوبہ تیار کیا۔ ایک خان کو رشوت دی جس نے ایک بوڑھی عورت کے ذریعے شکر کدو میں زہر ملا کر فقیر بابا کو کھلایا۔ زہر کے اثر سے وہ بیمار پڑگئے اور آخرِکار 1917ء کو یہ عظیم مجاہد ہمیشہ کے لیے اس دارِ فانی سے رخصت ہوگئے۔ آپ باغ ڈھیرئی کے قبرستان میں مدفن ہیں۔
قارئین، مردِ مجاہد ’’سرتور فقیر‘‘ کی زندگی اور ناقابل فراموش جرأت پر لکھی گئی کتاب ’’سر تور فقیر دخپلواکی اتل‘‘ ڈاکٹر حکیم زئی کی محققانہ کوشش ہے۔ پشتون زبان کی یہ کتاب سائنسی تحقیق کے جملہ لوازمات پر پورا اترتی ہے۔ اس میں تاریخی حوالے درست اور برمحل ہیں۔ تاریخوں کی درستی کے لیے استدلالی انداز اپنایا گیا ہے۔ الفاظ کی بہترین ترتیب میں مضمون کی سلاست و روانی کتاب کو اچھوتا رنگ دیتی ہے، جو ایک تحقیق کی ضرورت ہوتی ہے۔ ماسوائے آخری صفحہ کے کسی اور جگہ افسانوی انداز نظر نہیں آتا۔ یعنی مبالغہ آرائی سے حتی المکان پہلو تہی کی گئی ہے، جس سے مصنف کی حقیقت نگاری اور تاریخ شناسی ظاہر ہوتی ہے۔
سرتور فقیر پر دوسری کتاب اردو زبان میں ’’ہریان کوٹ درگئی‘‘ کے ایک جوان سال معلم امجد علی اتمان خیل نے ’’سرتور فقیر، جنگ ملاکنڈ 1897ء کا عظیم مجاہد‘‘ کے عنوان سے تحریر کی ہے۔ محقق کی یہ پہلی کوشش محبت اور جذبہ کے ساتھ سامنے آئی ہے۔ اس کتاب میں سرتور فقیر کے ساتھ ساتھ جندول عمرا خان کے کارناموں کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔ نیز ان جنگوں میں زیری ملاکنڈ کے اتمان خیل کی جواں مردی کو بھی شدومد کے ساتھ واضح کیاگیا ہے۔ اس کتاب کی سب سے بڑی خوبی واقعات کے پس منظر میں نایاب تصاویر ہیں،جو واقعات کو پیش نظر رکھنے میں معاونت کرتی ہیں۔ کتاب کے جلد اور اس میں درج معاہدوں کی تصاویر، حوالہ جات،نظموں اور درمان علی خیل، شہباز محمد اور خود امجد علی کے تاثرات سے اندازہ ہوتا ہے کہ کتاب پر کافی محنت ہوئی ہے۔ البتہ پروف کی کوتاہیاں اک آدھ جگہ نظر آتی ہیں۔ اس طرح حوالہ جات میں بعض مقامات پر تحقیق کے مروجہ اصولوں کی پابندی نہیں کئی گئی ہے،جس سے یہ کاوش بعض جگہوں پر تاریخی کتب کا ترجمہ معلوم ہوتی ہے۔ نوابِ دیر کے خلاف متحد ہونے کے لیے فارسی زبان کا ایک معاہدہ کتاب میں چسپاں ہے، جس پر 1886ء تاریخ درج کی گئی ہے۔ معاہدہ کی درستی میں شک کی گنجائش نہیں۔ شائد تاریخ لکھنے میں غلطی ہوگئی ہو۔ پھر بھی یہ کتاب کئی حوالوں سے اپنی مثال آپ ہے۔ مثلاً نقشہ جات، جنگی ساز و سامان، مقبروں، پہاڑ، میدانوں، جنگوں، تاریخی شخصیات، تاریخی مقامات، لشکروں اور لوٹ مار کی تصاویر نے اس کتاب کو ایک طرح سے تاریخ کا انسائیکلو پیڈیا بنا دیا ہے۔ الغرض، یہ کتاب صحیح معنوں میں جنگی واقعات کا مرقع ہے۔
قارئین، جاتے جاتے ڈاکٹر بدرالحکیم حکیم زئی اور امجد علی مندوخیل کو ان کی کاوشوں پر مبارک باد پیش کرتا ہوں۔

Related posts

فتاویٰ ودودیہ تاریخ کے تناظر میں اور ڈی سی سوات

Ba Khabar Swat

ہمایوں مسعود کا شعری مجموعہ

Ba Khabar Swat

کشمیر کے بارے میں پاکستان اور عالمِ اسلام کا کردار

Ba Khabar Swat

Leave a Comment