سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو دیکھی کہ پاک وطن میں ’’یومِ خواتین‘‘ منعقد ہوا جس میں کثیر تعداد میں خواتین نے شرکت کی اور مختلف قسم کے نعرے لگائے۔ خواتین کے ہاتھوں میں مختلف بورڈ اور بینر تھے، جن پر عجیب قسم کے جملے لکھے گئے تھے: ’’میرا جسم میری مرضی‘‘، ’’میں آزاد ہوں‘‘ وغیرہ۔ اگر واقعی یہ ریلی خواتین کے حق میں ہوتی، تو اس میں مذکورہ جملوں اور عجیب قسم کے نعروں کی بجائے یہ آواز اٹھتی کہ ’’مجھے وراثت میں حصہ دو۔‘‘، ’’تعلیم میرا حق ہے۔‘‘، ’’گھر کے کاموں میں عورتوں کا ہاتھ بٹانا سنتِ رسولؐ ہے۔‘‘، ’’بہترین مسلمان وہ ہوتا ہے، جو عورتوں کے ساتھ اچھائی سے پیش آتا ہے۔‘‘، ’’مومن مردو، اپنی آنکھیں نیچی رکھو‘‘، ’’عورت نہ صرف مرد کی بلکہ ریاست کی بھی ذمہ داری ہے۔‘‘، ’’باعزت روزگار ہر عورت کا بنیادی حق ہے۔‘‘، ’’ماں کے قدموں تلے جنت ہے۔‘‘، ’’بیٹیوں کو اچھی تعلیم اور تربیت دینے والا مرد جنت میں حضورؐ کا ساتھی ہے۔‘‘، ’’قیامت کے دن تم سے عورتوں کے حقوق کے بارے میں پوچھ گچھ ہوگی۔‘‘، ’’بیٹیاں اللہ کی رحمت ہیں۔‘‘، ’’ہمارا احترام سوسائٹی پر فرض ہے۔‘‘، ’’لڑکیوں کی اچھی تربیت جنت کی ضمانت ہے۔‘‘، ’’ہم مائیں، بہنیں، بیٹیاں، قوموں کی عزت ہم سے ہے۔‘‘، ’’ہم شوکیس میں رکھے کھلونے یا مارکیٹ میں بکنے والی کوئی چیز یا ٹی وی پر چلنے والا اشتہار نہیں بلکہ اک قابلِ عزت زندگی اور جیتی جاگتی حقیقت ہیں۔‘‘
قارئینِ کرام! تاریخِ عالم کا مطالعہ کیا جائے، تو یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہے کہ اسلام سے پہلے دنیا کے مختلف ممالک میں عورت اپنے بنیادی حقوق سے بالکل محروم تھی۔ فرانس میں عورت کے بارے میں یہ تصورِ بد تھا کہ یہ آدھا انسان ہے۔ اس لیے معاشرے کی تمام خرابیوں کا ذریعہ یہی بنتی ہے۔ چین میں عورت کے بارے میں یہ تصور تھا کہ اس میں شیطانی روح ہوتی ہے۔ لہٰذا یہ برائیوں کی طرف انسان کو دعوت دیتی ہے۔ جاپان میں عورت کے بارے میں تصور کیا جاتا تھا کہ یہ ناپاک پیدا کی گئی ہے، اس لیے عبادت گاہوں سے اس کو دور رکھا جاتا تھا۔ ہندو ازم میں جس عورت کا خاوند مرجاتا تھا، اس کو معاشرے میں زندہ رہنے کے قابل نہیں سمجھا جاتا۔ عیسائی دنیا میں عورت کو معرفتِ الٰہی کے راستے میں رکاوٹ سمجھا جاتا۔ جزیرۂ عرب میں بیٹی کا پیدا ہونا عار سمجھا جاتا تھا۔ لہٰذا ماں باپ خود اپنے ہاتھوں سے بیٹی کو زندہ درگور کیا کرتے تھے، لیکن دنیا میں صرف اسلام واحد ایسا مذہب اور دین ہے کہ اس نے عورتوں کا مقام اونچا کیا۔ آپؐ نے آکر عورتوں کا مقام نکھارا۔ بتلایا کہ اے لوگو! اگر یہ بیٹی ہے، تو تمہاری عزت ہے۔ اگر بہن ہے، تو تمہارا ناموس ہے۔ اگر بیوی ہے، تو زندگی کی ساتھی ہے۔ اگر ماں ہے، تو اس کے قدموں تلے تمہاری جنت ہے۔
نبی کریمؐ نے عورت کی کھوئی ہوئی عزت کو بحال کیا اور بتلایا کہ اسلام میں رہبانیت نہیں ہے، بلکہ دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ اگر عورت کے ساتھ تم ازدواجی زندگی گزاروگے، تو یہ اللہ تعالیٰ کی معرفت کے راستے میں تمہاری ممد و معاون بنے گی۔
اسلام نے عورت کو سارے حقوق دیے ہیں۔ وراثت میں اس کا حق مقرر کیا۔ حق مہر شوہر کے ذمے لازم کیا۔ تعلیم و تربیت پر جنت کی ضمانت دی۔ یہاں تک کہ قرآن میں مکمل ایک سورت ’’سورۂ النساء‘‘ کے نام سے نازل فرمایا۔ حضورؐ نے فرمایا، تم میں سے بہترین انسان وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے ساتھ اچھا ہو۔
حضورؐ نے فرمایا، تم زمین والوں پر نرمی کرو، آسمان والا تم پر نرمی فرمائے گا۔ عورت کا نان نفقہ شوہر پر لازم ٹھہرایا۔ اگر بیٹی ہے، تو باپ کا فرض ہے کہ اپنی بیٹی کا خرچہ پورا کرے۔ اگر بہن ہے، تو بھائی کے ذمے۔ اور اگر ماں ہے، تو اولاد کا فرض ہے کہ وہ اپنی ماں کا خرچہ پورا کریں۔
اس طرح عورت کو کوئی ایسی جگہ مہیا کردینا جہاں وہ سر چھپائے یہ خاوند کی ذمہ داری ہے۔ اسلام نے عورت کو وہ سارے حقوق دیے ہیں، جو کسی دوسرے مذہب میں نہیں ہیں۔ لیکن افسوس یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں کوئی اسے حقوق دینے کے لیے تیار نہیں۔ خواتین کے ساتھ جو ظلم و ستم ہوتے ہیں، وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ وراثت سے انہیں محروم کیا جاتا ہے۔ ان کو تعلیم دینا عار سمجھا جاتا ہے۔ اگر کوئی خاتون وراثت کا مطالبہ کرتی ہے، تو اس کے ساتھ رشتہ ختم کر دیا جاتا ہے۔ بعض علاقوں میں عورت کا نکاح بھی نہیں کیا جاتا، کہ کہیں یہ ہم سے وراثت کا مطالبہ نہ کر دے۔ غیرت کے نام پر انہیں قتل کیا جاتا ہے۔ گھروں کے اندر رہ کر ان کے ساتھ جو زیادتی ہوتی ہے، وہ لکھنے کے قابل نہیں۔
قارئین، عورتوں کو باعزت روزگار دلانا حکومتِ وقت کی ذمہ داری ہے۔ اگر یومِ خواتین پر ذکر شدہ خواتین پُرامن احتجاج کرتیں اور مذکورہ بالا حقوق مانگ لیتیں، جو اسلام نے ان کو دیے ہیں، تو بہتر ہوتا۔
میں بذاتِ خود خواتین کے احتجاج کے حق میں ہوں، لیکن ان کے بے ہودہ نعروں کے حق میں نہیں ہوں۔ کیوں کہ ان خواتین کی کھوپڑی میں دماغ نہیں بلکہ بھوسا بھرا ہے۔ اسلام میں مرد اور عورت کو یکساں حقوق حاصل ہیں۔ قرآن میں ارشاد ہے: عورتوں کے مردوں پر وہ حقوق ہیں جو مردوں کے عورتوں پر ہیں۔
یہ الگ بات ہے کہ حکومتِ وقت اور اس معاشرے کے لوگ عورت کو وہ حقوق دینے کے لیے تیار نہیں ، اس میں مذہب کا کیا قصور؟
previous post
