سوات (باخبر سوات ڈاٹ کام) سوات میں پاکستان پیڈیاٹرک کانفرنس کے دوران ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ اس وقت پاکستان میں ایک کروڑ بچے ہیپاٹائٹس بی اور سی کا شکار ہیں۔ بچوں کو حفاظی ٹیکے اور ویکسین نہ پلانے کے باعث شرحِ اموات میں خطرناک حدتک اضافہ ہوگیا ہے۔ گندی غذا اور گندے پانی کے باعث بچوں میں ہیپاٹائٹس اے تیزی سے پھیلنے لگا ہے۔ دوروزہ کانفرنس کا انعقاد پاکستان پیڈیاٹرک ایسوسی ایشن سوات نے کیا تھا۔ کانفرنس میں کراچی سے پروفیسر ڈاکٹر اقبال میمن،لاہورسے پروفیسر ڈاکٹر ساجد مقبول اور پروفیسر ڈاکٹر نادیہ وحید، اسلام آباد سے پروفیسر ڈاکٹر اعجاز،پشاور سے پروفیسر ڈاکٹر اشفاق احمد اور پروفیسرڈاکٹر گوہر رحمان (صدر پاکستان پیڈیاٹرک ایسوسی ایشن) اور سوات سے پروفیسرڈاکٹر نعیم اللہ سمیت دیگر ماہرینِ اطفال نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران ماہرین نے اپنے مقالے پیش کیے اور بچوں کو درپیش بیماریوں ہیپاٹائٹس، سانس کی بیماریوں، ماں کے دودھ اور گردوں کی بیماریوں کے حوالے سے لیکچرز دئے۔ ماہرین نے انکشاف کیا کہ پاکستان میں بچوں کو بیماریوں سے بچانے کا سب سے بڑا ذریعہ احتیاط ہے، جس کی بنا پر بچوں کو ہمیشہ کی معذوری اور مہلک امراض سے بچایا جاسکتا ہے۔
previous post
