چیف ایڈیٹر : فیاض ظفر
ایڈیٹر : امجد صحاب
ریزیڈنٹ ایڈیٹر: عطااللہ خان بابا
طارق عزیزکالم

بلی کے گلے میں گھنٹی باندھے گا کون؟

کافی عرصہ سے جاری سابق ڈکٹیٹر پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کا فیصلہ پچھلے ہفتے سنایا گیا، جس میں مشرف کو سزائے موت دینے کا فیصلہ کیا گیا۔
ایک جج صاحب نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ اگر مجرم اس سے پہلے وفات ہوجائے، تو اس کی لاش 3 دن تک ڈی چوک میں لٹکائی جائے۔
اس فیصلے پر باقی عوام اور سیاسی جماعتوں کا ردِ عمل مناسب تھا، لیکن حکمران جماعت کو اس فیصلے پہ جتنا دکھ پہنچا ہے، اتنا تو شائد مشرف صاحب کو خود بھی نہیں پہنچا ہوگا۔ حکمران جماعت کے اس فیصلے پر ردعمل سے ناقدین کے اس شک کو تقویت مل گئی کہ عمران خان کا 2013ء دھرنا مشرف صاحب کو بچانے کے لیے تھا۔ جب کہ مخالف جماعتوں کا کارکن اور رہنما اسے بھی ”ابو بچاؤ مہم“ قرار دے رہے ہیں۔ میری خواہش تھی کہ اس فیصلے کے بارے میں کچھ لکھوں، لیکن ایک غیر متعلقہ قصہ نے ذہن میں آکر ساری توجہ خراب کردی۔ لہٰذا میں وہ قصہ آپ کو بھی سناہی دیتا ہوں۔اگر چہ اس قصے کا سابق آرمی چیف اور صدر کے خلاف ہونے والے فیصلے سے کوئی ربط نہیں۔ آپ اپنی ذمہ داری پہ کسی واقعہ سے اس کی کڑی ملانا چاہتے ہیں، تو بے شک کیجیے لیکن میرا ایسا کوئی مقصد نہیں۔
مشہور قصہ ہے کہ دنیا کے کسی کونے میں چوہوں کی مملکت پر ایک بلی نے ناجائز قبضہ کرکے اقتدار کی کرسی سنبھالی، اور اپنی رعایا پر ظلم و بربریت کا آغاز کیا۔ ہر روز کسی نہ کسی بہانے سے چوہے کا شکار کیا جاتا، اور یوں بادشاہ سلامت کی زندگی مزے سے گزرتی تھی۔ جب بلی کے ظلم و ستم کا سلسلہ حد سے تجاوز کرگیا اور چوہوں کو احساس ہوا کہ بادشاہ ہمارے ساتھیوں کو ایک ایک کرکے اٹھا رہا ہے۔ اگر یہ نسل کشی ایسے جاری رہی، تو ایک دن ایسا آئے گا کہ اس مملکت میں چوہوں کا نام و نشان ختم ہوجائے گا۔ اس لیے سب کی خیر اسی میں ہے کہ اس ظلم و بربریت کے خلاف کوئی اقدام کیا جائے۔ اس سلسلے میں چوہوں نے یک نِکاتی ایجنڈے پر ایک گرینڈ میٹنگ بلالی۔ طویل بحث و مباحثے اور مختلف آپشن زیرِ غور آئے، لیکن آخر میں شرکا اس نتیجے پر پہنچے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی ڈالی جائے، تاکہ جب بلی شکار کے لیے ہماری طرف آئے، تو ہمیں پیشگی اطلاع ملے، اور یوں ہم اپنے مورچوں میں چھپ کر اپنا دفاع کرسکیں۔ شرکا اپنی میٹنگ کا مشترکہ اعلامیہ جاری کرنے ہی والے تھے کہ ایک بزرگ چوہے نے ان کی توجہ ایک خاص نکتہ کی طرف مبذول کرانی چاہی۔ شائد یہ بات اس کے ذہن میں پہلے سے موجود تھی، لیکن بوڑھے کو محفل میں بولنے کا موقع نہیں ملا۔ اس لیے آخری وقت میں اس نے اپنے ساتھیوں سے پوچھ لیا کہ بلی کے گلے میں گھنٹی ڈالنے کا فیصلہ اچھا ہے، لیکن یہ گھنٹی ڈالے گا کون؟ جس پر تمام چوہے ایک بار پھر فکر مند ہوگئے، اور یوں ان کی میٹنگ بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوئی۔ نتیجتاً بلی کا ظلم وستم پہلے کی طرح جاری رہا۔

Related posts

چِرڑو سنیما

Ba Khabar Swat

fazal mehmood rokhan

Ba Khabar Swat

؎بنجیر بابا

Ba Khabar Swat

Leave a Comment