خلافِ دین، خلافِ اسلامی اقدار و روایات، خلافِ غیرت، خلافِ قانون، خلافِ تہذیب و تمدن نعرہ ”میرا جسم، میری مرضی“ کے خلاف خلیل الرحمان قمر کا ایک آزاد خیال عورت کے جارحانہ رویے کے رد عمل میں بولنے پر اکثر ٹی وی چینل پر بیٹھیں میڈیا شخصیات دجال کے وفادار کارندے ہونے کا ثبوت پیش کرتے ہوئے چیخ رہی ہیں بلکہ ان کی چیخیں نکل رہی ہیں جیسے ان کے دُم پر پیر آگیا ہو۔ یوں لگ رہا ہے جیسے میڈیا پر ”ٹاک شوز“ میں کبھی کسی کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ اور نوک جھونک اور ہاتھا پائی کی کوئی مثال ہی موجود نہ ہو۔
کسی نے خلافِ شریعت بات ابھی تک کی ہے، نہ انسان کو اللہ کے بعد بڑی ہستی قرار دیا ہے، نہ ایک دوسرے کو تھپڑ رسید کیا ہے، نہ ایک دوسرے کو برتن مارے ہیں اور نہ جوتے مارے اور دکھائے ہیں، نہ خواتین نے ایک دوسرے پر کسی کے بیڈ روم سے سیاست کا آغاز کرنے کا الزام لگایا ہے، نہ کوئی اور غیر اخلاقی رویے کا مظاہرہ کیا گیا ہے، بلکہ یہ ایک انوکھا اور تاریخ کا پہلا غیر مہذب رویہ ہے، جو رونما ہوا ہے اور ایک طوفان برپا ہے، خصوصی ”ٹاک شوز“ کا انعقاد ہو رہا ہے، معافی مانگنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، اور لعن و طعن کا نہ رُکنے والا سلسلہ جاری ہے۔
وجہ اور فرق صرف یہ ہے کہ شیطانی آلہ کاروں کے ایجنڈے پر انگلی میڈیا کے اندر ہی سے اُٹھی ہے، جو کہ ان کے لیے انتہائی غیر متوقع اور ناقابلِ یقین ہے۔
چیخیں تو اکثر چینلوں کی نکلی ہیں، اور ابھی تک نکل رہی ہیں، لیکن جیو نیوز کی چیخیں ذرا زیادہ زور اور کراہت سے نکل رہی ہیں۔ دیگر ”ٹاک شوز“ کے علاوہ شاہ زیب خانزادہ اور اے آر وائی کے منصور علی خان کچھ زیادہ بے قرار اور تکلیف میں دکھائی دیے۔
منصور علی خان تو باقاعدہ اس آزاد خیال اور دین بے زار خاتون کا مدعی بن کر خلیل الرحمان قمر کے ساتھ اپنے پروگرام میں ایسے رویے میں بات کرتا سیخ پا نظر آرہا ہے جیسے ملزم کو کٹہرے میں کھڑا کیا ہو، اور ذاتی رنجش نکال رہا ہو۔
شاہ زیب خانزادہ تو خلیل الرحمان قمر کے اظہارِ خیال پر ایسے افراد کے تبصرے پیش کر رہا ہے، جیسے یہ شخصیات قوم کے اکثریتی نمائندے ہوں، پسندیدہ ہوں، ان کا تبصرہ حرفِ آخر ہو یا متوازن ہو، غیر جانب دار ہو، یا کوئی علمی، مذہبی اور قابلِ احترام اور قابلِ قبول پیشے سے وابستہ ہو،بلکہ خانزیب ایسے افراد کے تبصرے پیش کر رہا ہے کہ وہ افراد خود اس بے ہودہ نعرے کے علمبردار ہیں، ناپسندیدہ شعبوں سے متعلق ہیں اور قوم کے لاکھوں میں سے ایک کے بھی نمائندے نہیں۔
ماہرہ خان، اداکارہ صنم سعید، گلوکار شہزاد رائے، پروڈیوسر مہرین جبار، صرمد وغیرہ وغیرہ۔ ان کی کیا حیثیت اور وقعت ہے کہ انہوں نے برا مانا تو بات بری ہوئی۔
بات تب ہوتی کہ آپ کسی ذی عقل و فہم و شعور، کوئی علمی و مذہبی اور قابلِ احترام و صاحب الرائے، و صائب الرائے شخصیات کے پینل کو بٹھاتے اور اس موضوع کے ہر پہلو پر گفتگو کرتے، مگر وہ تو ممکن ہی نہیں۔
حیرانی اس بات پر ہوتی ہے کہ ملالہ یوسف زئی کے والد ضیاء الدین یوسف زئی بھی اس قابل ہوگئے کہ اب وہ ہمیں اچھے اور برے کی تمیز سکھا سکیں۔
ستم بالائے ستم یہ کہ ہیومن رائٹس کمیشن نے بھی اس کو انسانی حقوق کے خلاف سمجھا ہے، اور مذمت کی ہے۔ جیسا کہ اس ملک میں ظلم و استحصال کا بازار گرم نہیں ہو، انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہر نہج پر نہیں ہو رہی ہو، بس یہی ایک انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوگئی۔ باقی تو ویسے بھی راوی چین ہی چین لکھتا ہے۔ افسوس صد افسوس، دجال کا علمبردار شیطانی میڈیا۔
previous post
next post
