چیف ایڈیٹر : فیاض ظفر
ایڈیٹر : امجد صحاب
ریزیڈنٹ ایڈیٹر: عطااللہ خان بابا
Swat

کورونا کی وجہ سے وادیِ کالام کی سیاحت ماند پڑگئی، خصوصی رپورٹ

(باخبر سوات ڈاٹ کام) پاکستان کے سب سے خوبصورت ترین وادیِ کالام میں کورونا وائرس کی وجہ سے سیاحت پر پابندی سے سیکڑوں ہوٹل، دکانیں بند،ہزاروں ملازمین بے روزگار اور کروڑوں روپے کا نقصان ہوگیا ہے۔ کالام ہوٹلز ایسوسی ایشن کے صدر عبدالودو نے باخبر سوات ڈاٹ کام کو بتایا کہ کالام میں 251 ہوٹل، 3 سو سے زائد ریسٹورنٹ اور دکانیں ہیں۔ کالام کا تمام کاروبار موسم گرما کے چند مہینوں میں ہوتا ہے، لیکن اس سال کورونا وائرس سے سیاحوں کی آمد پر پابندی سے وادیِ کالام میں کاروبار کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وادیِ کالام میں ہر قسم کا کاروبار اور80 فیصد لوگوں کے معاش کا تعلق سیاحت سے ہے، جو پہلے دہشت گردی، پھر سیلاب اور اب کورونا کی وجہ سے خراب ہوگیا ہے۔ وادیِ کالام کے رہائشی پروفیسر محمد روشن نے باخبر سوات ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان دنوں میں کالام ی سڑکوں اور خاص کر مال روڈ پر تل دھرنے کی جگہ نہیں ہوتی تھی۔ آج کالام بالکل ویران پڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ اور ہوٹل ایسوسی ایشن کو اس مسئلے پر بات چیت کرنی چاہیے، تاکہ حکومتی احتیاطی تدابیر کے تحت ہوٹل کھولے جائیں اور کالام اور دیگر علاقوں کے لوگ کروڑوں روپے کے نقصان سے بچ جائیں۔ ایک ریسٹورنٹ کے مالک عثمان نے باخبر سوات ڈاٹ کام کو بتایا کہ پچھلے سال ان دنوں میں ان کا کاروبار بہت اچھا تھا۔  ان کے ساتھ ریسٹورنٹ میں کافی تعداد میں لوگ کام کر رہے تھے۔ موجودہ صورتحال میں، میں ملازموں کو جیب سے تنخواہ دیتا ہوں۔ ہینڈی کرافٹس کے دکانداروں کا کہنا تھا کہ ہم صرف اس انتظار میں تھے کہ اب لاک ڈاؤن ختم ہو جائے گا، لیکن اب مجبور ہوکر ہم دکانیں بند کرکے جارہے ہیں۔کالام میں زیادہ ہوٹل اور دکانیں موسم گرما میں کھلی رہتی ہیں۔ زیادہ ہوٹلز مالکان اپنے ہوٹل ٹھیکیداروں کو سالانہ کرایہ پر دیتے ہیں اور کرایہ بھی ایڈوانس وصول کرتے ہیں۔ کچھ ٹھیکیدار ایسے ہوتے ہیں جو کئی سالوں سے ہوٹل کرایہ پر اٹھاتے ہیں۔ بعض ہوٹلوں کا سالانہ کرایہ چالیس، پچاس لاکھ سے بھی زیادہ ہوتا ہے۔ اس لئے ہوٹل کرایہ پر اٹھانے  والے افراد پریشان ہیں کہ وہ اس سال کا کرایہ کیسے دیں گے؟ کالا م میں جون اور جولائی کے مہینوں میں تل دھرنے کی جگہ نہیں ہوتی تھی۔ پچھلے سال کالام کے سیکڑوں ہوٹلوں میں کمرے نہیں مل رہے تھے۔ اکثر ہوٹلز کے مین گیٹ پر ”ہاؤس فل“ کے بورڈ لگے ہوتے تھے۔ صبح و شام کالام کے بازار سیاحوں سے بھرے رہتے تھے۔ کالام میں پیسکو یا سرکاری بجلی نہیں۔ ٹربائن کی پاؤر فل بجلی انتہائی کم قیمت پر چوبیس گھنٹے دستیاب ہوتی ہے جس کی وجہ سے رات کو سیکڑوں ہوٹلوں میں روشنی سے رونق رہتی تھی۔ اس سال کالام بازار اتنا ویران ہے کہ لوگوں کو اس پر کرفیو کاگمان ہوتا ہے۔ دس سال بعد کالام سڑک کی تعمیر سے اس سال سیاحت سے وابستہ افراد کا خیال تھا کہ اس سال کالام میں کثیر تعداد میں سیاح آئیں گے۔ 2010ء کے سیلاب میں کالام سے بحرین تک سڑک سیلابی پانی میں بہہ گیا تھا، جس کے بعداس سڑک کو کچا بنایا گیا تھا۔ دس سال تک اس سڑک پر سفر تکلیف دہ ہوتا تھا۔32کلومیٹر کا فاصلہ کئی گھنٹوں میں طے ہوتا تھا۔ اس سال ایشین ڈویلپمنٹ بنک کے مالی تعاون سے بحرین سے کالام تک کی سڑک اعلیٰ معیار کے ساتھ تعمیر ہوگئی جس کے بعد بحرین سے کالام تک کا فاصلہ45 منٹ سے ایک گھنٹہ ہوگیا ہے۔ صوبائی حکومت اور انتظامیہ کی جانب سے ایک جانب کالام میں سیاحوں آمد پر پابندی لگائی گئی ہے۔ دوسری جانب حکومت نے کالام میں سیاحوں کو ایمرجنسی اور صحت سہولیات دینے کے لئے کنٹینر ایمر جنسی سینٹرقائم کردیا ہے۔ ریسکیو 1122 کے جاری کردہ پریس ریلز میں کہا گیا ہے کہ سیاحتی مقام کالام میں سیاحوں کو ایمرجنسی اور صحت سہولیات دینے کے لیے کنٹینر ایمرجنسی سینٹر تیارکیا گیا ہے۔ ڈی ای او سوات نے منگل تیس جون کوسیاحتی مقام کالام میں نئے کنٹینر ایمرجنسی سینٹر کا دورہ کیا۔دورے کے موقع پر انہوں نے تمام تر سہولیات کو مدنظر رکھ کر ریسکیو اہلکاروں کو ہدایات جاری کیں کہ سیاحوں کو ہر قسم ایمرجنسی کے دوران سہولیات اور فرسٹ ایڈ کی فراہمی کی جائے۔

Related posts

سیدوٹیچنگ اسپتال،زیرِ علاج کورونا کے مزید 2 مریض جاں بحق

Ba Khabar Swat

کمشنر ملاکنڈ ڈویژن نے این ایچ اے کو ایک ماہ کی ڈیڈ لائن دے دی

Ba Khabar Swat

ایم پی اے فضل حکیم کا ریجنل انفارمیشن سوات کا دورہ

Ba Khabar Swat

Leave a Comment