چیف ایڈیٹر : فیاض ظفر
ایڈیٹر : امجد صحاب
ریزیڈنٹ ایڈیٹر: عطااللہ خان بابا
طلحہ خانکالم

کیا بچوں کی تربیت ایسی ہوتی ہے؟

”تمباکو نوشی مضرِ صحت ہے!“
یہ الفاظ تو آپ نے سگریٹ کے ہر ڈبے پہ لکھے ہوئے دیکھے ہوں گے،لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کون اس پر عمل کرتا ہے؟ حکومتِ پاکستان کے قانون کے تحت 18 سال سے کم عمر بچوں کو سگریٹ فروخت کرنا یا دینا جرم ہے، جس کی سخت ترین سزا ہے۔
اپنی بات مکمل کرنے سے پہلے میں آپ کو کچھ دن پہلے میرے ساتھ پیش آنے والے واقعے کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں۔ کچھ دن پہلے مَیں اور میرے والد صاحب اپنے گھر سے واک کے لیے نکلے۔ راستے میں مختلف موضوعات پر بات چیت ہو رہی تھی، اور ساتھ میں ہنسی مذاق بھی چل رہا تھا۔ واک کرنے کے بعد ہم واپس گھر کی طرف روانہ ہوئے، تو راستے میں کیا دیکھتے ہیں کہ تین بچے سگریٹ کے کش لگاتے ہوئے راستے پہ جا رہے تھے۔ مجھے بہت حیرانی ہوئی کہ اتنے کم عمر بچے اور سگریٹ……! تینوں بچے مجھ سے عمر میں چھوٹے تھے، اور حیرانی کی بات تو یہ تھی کہ اُن میں سے ایک بچہ تقریباً سات یا آٹھ سال کا ہوتا ہوگا، جس کو دیکھ کر میرے ہوش اُڑ گئے۔ مَیں نے اپنے والد صاحب سے پوچھا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ اتنے کم عمر بچے کھلے عام سگریٹ پی رہے ہوں؟ میرے والد صاحب مسکرائے اور کہا، ”یہ تو کچھ بھی نہیں، تم نے ابھی دیکھا ہی کیا ہے؟ یہاں تو نئی نسل ایسے ایسے کام کرتی ہے کہ توبہ ہی بھلی۔“
پھر باتوں باتوں میں بات تربیت پہ آگئی۔ جیسے ہی میرے والد صاحب نے تربیت کے بارے میں بات کی، تو میرے ذہن میں یہ خیال آیا کہ ان کے ماں باپ نے ہی اِنہیں ایسی تربیت دی ہوگی، تبھی تو رات کے وقت یہ بچے نشہ کرتے ہیں، یعنی سگریٹ پیتے ہیں۔
مَیں نے اس واقعے کے بارے میں بہت سوچا، اورمجھے بار بار اس بات کا خیال آرہا تھا کہ ان جیسے بچوں کو ماں باپ کی طرف سے اچھی تربیت نہیں ملی ہوگی۔ اب اگر دیکھا جائے، تو بظاہر غلطی تو ان بچوں کی ہے، لیکن اصل غلطی ان کے والدین کی ہے۔ بچوں میں بعض خامیوں کی وجوہات بہت گہری اور نفسیاتی ہوتی ہیں۔ اس کی مثال اس طرح دینا چاہوں گا کہ بعض والدین جب آپس میں جھگڑتے ہیں، اور بچوں کے لیے گھر میں پُرامن ماحول نہیں ہوتا، تو اس سے بھی بچوں پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ جو والدین آپس میں لڑتے ہیں، وہ اپنے بچوں کو مناسب وقت نہیں دے پاتے۔ اس کے علاوہ وہ اپنے بچوں کو ایک اچھا ماحول بھی نہیں دے پاتے، جس میں بچے خود ہی کچھ اچھا سیکھ سکیں۔ نتیجے کے طور پر جب بچوں کو اپنے گھر میں سکون اور توجہ نہیں ملتی، تو وہ اپنا زیادہ تر وقت باہر گزارنا شروع کردیتے ہیں۔ وہ چوں کہ اپنے گھر میں سکون اور توجہ سے محروم رہتے ہیں، اس لیے وہ سکون اور خوشی کے لیے ایسے دوستوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا شروع کرتے ہیں جو سگریٹ نوشی یا کوئی اور مضر صحت نشہ کرتے ہیں۔ یوں وہ بھی ان نشہ آور چیزوں کے عادی ہوجاتے ہیں۔ چوں کہ ان کے والدین اپنے گھریلو جھگڑوں میں پڑے ہوتے ہیں، اور وہ اپنے بچوں کو ضرورت کے مطابق توجہ نہیں دے سکتے، اس لیے انہیں پتا نہیں ہوتا کہ ان کے بچے اپنا فارغ وقت کہاں گزارتے ہیں، کس کے ساتھ گزارتے ہیں اور وہ گھر سے باہر کیا کچھ کرتے ہیں؟
ہمارے ملک میں بہت سے بچے ہیں جن کے گھروں کا ماحول ان کی بہتر تربیت کے لیے مناسب نہیں ہے، اور جیسا کہ میں نے ذکر کیا کہ وہ گھر میں رہنا پسند نہیں کرتے، تو اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ غلط دوستوں سے دوستی رکھیں گے اور جب دوست غلط ہوں گے، تو ان کی عادتیں بھی اچھی نہیں ہوں گی۔
قارئین، یہ تو مَیں نے آپ کو ماں باپ کی دی ہوئی تربیت کے بارے میں بتایا، لیکن سگریٹ یا دیگر نشہ آور چیزوں کے حوالے سے اس میں والدین کی غلطیوں کے ساتھ ہمارے ملک کے متعلقہ محکموں کی غفلت بھی کارفرما ہے، کیوں کہ وہ اس قانون کے نفاذ میں کوتاہی کے مرتکب ہوتے ہیں جس کے تحت انڈر ایج بچوں کو سگریٹ فروخت کرنا جرم ہے۔ دکان دار حضرات بھی اس جرم میں برابر کے شریک ہوتے ہیں، جو اپنے معمولی سے فائدے کے لیے معصوم بچوں کو سگریٹ فروخت کرتے ہیں۔ حالاں کہ ان کو پتا ہوتا ہے کہ اٹھارہ سال سے کم عمر بچے کوسگریٹ فروخت کرنا قانوناً جرم ہے۔
لہٰذا والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے گھریلو جھگڑوں میں نہ پڑیں کہ اس سے بچے نفسیاتی طور پر متاثر ہوتے ہیں اور وہ غلط ماحول میں چلے جاتے ہیں۔
اس طرح حکومت کے متعلقہ محکموں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس معاملے میں موجود قوانین کے عملی نفاذ کے سلسلے میں اپنی ذمہ داریاں پوری کرے، اور دکان دار حضرات کو لگام دے کہ وہ اپنے معمولی منافع کے لیے نئی نسل کو نشے کی لت لگانے میں معاون نہ بنیں۔

Related posts

An Article By Mohammed Sherjan Sinakhel

Ba Khabar Swat

چڑھتے سورج کی سرزمین، دید و شنید (2) کالم :فضل خالق

Ba Khabar Swat

آج کچھ میرے بارے میں

Ba Khabar Swat

Leave a Comment