چیف ایڈیٹر : فیاض ظفر
ایڈیٹر : امجد صحاب
ریزیڈنٹ ایڈیٹر: عطااللہ خان بابا
Swat

سیاحت کا عالمی دن، سوات خطیر زرِ مبادلہ کما سکتا ہے (خصوصی رپورٹ)

(باخبر سوات ڈاٹ کام)سیاحت کا عالمی دن 27 ستمبر کو منا یا جاتا ہے۔ سیاحت کا یہ عالمی دن ورلڈ ٹورازم آرگنائزیشن کے ایگزیکٹیو کونسل کی سفارشات پر اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی قرارداد کے مطابق 1970ء سے منایا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سیاحت کے بارے میں قدرتی خوبصورت یا موسم کے اعتبار سے دیگر علاقوں سے مختلف علاقوں میں جانے کو سیاحت نہیں کہتے۔ دنیا بھر میں سیاح مختلف قسم کی سیاحت میں دلچسپی لیتے ہیں۔ خیبر پختون خوا کے تمام اضلاع میں سیاحت کے بہت بڑے مواقع ہیں۔ اس صوبے کے مختلف علاقوں میں گندھارا تہذیب کے آثارموجود ہیں۔ اگر حکومت سیاحت کے شعبے پر توجہ دے، تو ہر سال سیاحت کی مدد سے اربوں روپے کا زرِ مبادلہ کمایا جاسکتا ہے۔ صوبے کے عوام کی اقتصادی حالت بھی بہت حد تک بہتر ہو سکتی ہے۔قدرتی حسن یا موسمی سیاحت، آثارِ قدیمہ کی سیاحت، ثقافتی سیاحت، مذہبی سیاحت، زرعی سیاحت میں سے خیبر پختون خوا کے تمام اضلاع میں کوئی نہ کوئی سیاحت موجود ہے۔ ورلڈ ٹورازم آرگنائزیشن کے مطابق دنیا بھر میں ہونے والی سیاحت میں 40 فیصد سیاحت کلچرل ہیرٹیج کا ہے۔ بہت سارے ممالک کی آمدنی کا بڑا ذریعہ اس شعبے سے وابستہ ہے۔ ماہرِ سیاحت، آثارِ قدیمہ و کلچرل ہیر ٹیج فضل خالق نے بتایا کہ صوبہ خیبر پختون خوا کے بیشتر علاقے گندھارا تہذیب کے خزانے سے بھرے پڑے ہیں۔ دنیا میں لوگ ان کو دیکھنے کے لئے بے تاب ہیں۔ خیبر پختون خوا کی گود میں پانچ ہزار سال سے بھی پرانی تاریخ، ثقافت اور آثارِ قدیمہ موجود ہیں۔ اگر ان کو دنیا کے سامنے رکھا جائے، تو خیبر پختون خوا میں غیر ملکی سیاحوں کے لئے ہوٹل کم پڑیں گے۔ ان کا کہنا کہ جس طرح یہاں کی تاریخ پرانی ہے، اس طرح یہاں کی ثقافت اور رہن سہن کے طریقے بھی بہت پرانے ہیں۔ کیلاش کی ثقافت، پختونوں کی ثقافت، ہندکو بولنے والوں کی ثقافت اور اس طرح کی دیگر ثقافتیں موجود ہیں جن کو قریب سے دیکھنے کے لئے دنیا کے لوگ بے تاب ہیں۔بدھ مت مذہب ماننے والے دنیا بھر میں کروڑوں کی تعداد میں موجود ہیں۔ جس طرح مسلمانوں کی مقدس اور مرکزی عبادت گاہ بیت اللہ شریف مکہ میں واقع ہے۔ اس طرح بدھ مت ماننے والوں کی مرکزی اور مقدس عبادت گاہ خیبر پختون خوا کے ضلع سوات کے مرکزی شہر مینگورہ، گل کدہ(بت کڑہ) میں موجود ہے۔ شورش سے پہلے بڑی تعداد میں بدھ مت کے ماننے والے عبادت کے لئے یہاں آیا کرتے تھے۔ وہ اپنی مرکزی عبادت گاہ کو ”دو متالہ“ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ چین والے اس کو دوسرے نام سے یاد کرتے ہیں۔ اس عبادت گاہ کی 3 ہزار سال پرانی تاریخ موجود ہے۔ تبت کے راہب ارجن پا کے سفر نامے میں انہوں نے لکھا ہے کہ جب بھی میں عبادت کے لئے ”دو متالہ“ گیا، تو میں نے وہاں ہر وقت چھے سے سات ہزار افراد کو عبادت کرتے دیکھا۔ بدھ مت کی مرکزی عبادت گاہ کے علاوہ سوات میں ان کی عبادت کے سیکڑوں پرانے مقامات موجود ہیں۔تبت کے راہب ارجن پا کا اپنا نام کچھ اور تھا، لیکن جب لوگوں کو معلوم ہوا کہ وہ ”دو متالہ“ گئے تھے اور وہاں عبادت کی ہے، تو تبت کے لوگوں نے ان کا نام ارجن پا رکھ دیا۔ ارجن کا مطلب ادھیانہ(سوات کا پرانا نام) اور پا کا مطلب دیکھنے والا یعنی ادھیانہ(مقدس جگہ) کو دیکھنے والا شخص۔ تاریخ کے مطابق جو لوگ عبادت کے لئے یہاں آتے تھے اور پھر سفر مکمل کرکے اپنے علاقے میں واپس جاتے تھے، تو دور دور سے اس مذہب کے ماننے والے اس شخص کے پاس جاتے اور اس کا دیدار کرتے کہ اس نے ”دو متالہ“ جاکر عبادت کی ہے اور وہ مقدس جگہ دیکھنا اس کو نصیب ہوا ہے۔ بدھ مت کے ماننے والوں کا کہنا ہے کہ ”بدھا“ کا انتقال ادھیانہ(سوات) میں ہوا ہے۔ کیونکہ وہ وہاں مقیم تھے۔ ان کو جلانے کے بعد ان کی راکھ شنگردار سٹوپا(مینگورہ پشاور روڈ پر بریکوٹ کے قریب) رکھی گئی ہے۔ یہ سٹوپا ان کے لئے انتہائی مقدس ہے۔ سوات میوزیم میں ایک بڑے پتھر پر پاؤں کے نشان ہیں۔اس مذہب کے ماننے والوں کا کہنا ہے کہ یہ بدھا کے پاؤں کے نشان ہیں۔ اس لئے سوات بدھ مت ماننے والوں کے لئے مختلف حوالوں سے مقدس ترین جگہ ہے۔ اس مذہب کے ماننے والے ہر شخص کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ یہاں کا سفر کرے۔ منگلور کے قریب جہان آباد میں ایک پہاڑی میں کندا کاری کرکے ہزاروں سال پہلے اس وقت کے ہنر مندوں نے بدھا کا مجسمہ بنایا ہے جو اس علاقے کا دوسرا بڑا مجسمہ ہے۔ تاریخ کے مطابق اس مجسمے کے اوپر اس وقت ادھیانہ(سوات کا پرانا نام) کے بادشاہ کنگ اندرا بونی کا محل تھا۔ بدھ مت ماننے والے اس مجسمہ کو بھی انتہائی مقدس سمجھتے ہیں۔ سنگا پور کے نان یانگ یونیورسٹی کے مطابق پاکستان کے صوبہ خیبر پختون خوا کا ضلع سوات دنیا کے ان تیس مقامات میں شامل ہے، جہاں سیاحت کا ہر شعبہ موجود ہے۔ ریسرچ کے مطابق دنیا کے ان تیس مقامات میں بیشتر اس سیاحت سے سب سے زیادہ آمدنی حاصل کرتے ہیں۔ یہ مقامات جن ممالک میں ہیں، وہاں کی ”جی ڈی پی“ زیادہ ہے۔ ان ممالک کے عوام ایسے سیاحتی مقامات کی وجہ سے خوشحال زندگی گزار رہے ہیں، لیکن پاکستان نے ابھی تک اپنے اس اہم مقام پر توجہ نہیں دی جس کی وجہ سے پاکستان اندرونی و بیرونی قرضوں سے نجات حاصل کرسکتا ہے۔ پاکستان کا شمار اس علاقہ کی وجہ سے ترقی یافتہ اور خوشحال ممالک میں ہو سکتا ہے۔

Related posts

سوات، ہاتھوں کی صفائی کا عالمی دن منایاگیا

Ba Khabar Swat

جنگلات کی کٹائی پر پابندی، محکمہ کے اہلکار تنخواہ کس چیز کی لے رہے ہیں؟محمد علی

Ba Khabar Swat

خوازہ خیلہ شالپین، آگ لگنے سے گھر خاکستر

Ba Khabar Swat

Leave a Comment