(باخبر سوات ڈاٹ کام)ہر سال 9 اکتوبر کو عالمی یومِ ڈاک منایا جاتا ہے۔نو اکتوبر1874ء میں سوئٹزرلینڈ میں پہلی مرتبہ عالمی ڈاک سے متعلق کانفرنس ہوئی جس میں ”جنرل پوسٹل یونین“ نامی تنظیم کی بنیاد ڈالی گئی۔ اس معاہدے کو 22 ملکوں نے منظور کیا۔ یکم جولائی1875ء سے یہ نظام نافذالعمل ہوا۔ اب ہر سال نو اکتوبر کو ڈاک کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اِس کا مقصد تمام ممالک میں ڈاک کی ترسیل کی ترقی اور ڈاک کے نظام کی بہتری ہے۔ پاکستان پوسٹ کا شمار پاکستان کے اولین محکموں میں ہوتا ہے۔یہ 1947 میں قائم کیا گیا تھا۔ اِس وقت پاکستان میں 13419 ڈاکخانے ہیں جن میں 50 ہزار سے زائد ملازمین کام کرتے ہیں۔ پاکستان پوسٹ کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے پہلے نجی کورئیرز کمپنیوں نے ان کی جگہ لی۔ اس پر طرہ یہ کہ جدید ٹیکنالوجی کی وجہ سے اب خطوط لکھنے کا کام تقریبا ختم ہوکر رہ گیا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کے کام سے تعلق رکھنے والے آصف شہزاد نے باخبر سوات ڈاٹ کام کو بتایا کہ پہلے لوگ خط لکھتے تھے اور ان کو معلوم نہیں ہوتا تھا کہ وہ کب اس شخص کو ملے گا، لیکن جدید ٹیکنالوجی کی وجہ سے اب سیکنڈوں میں لکھا گیا پیغام بھیجا جاتا ہے۔بھیجنے والے کو اس بات کی بھی تصدیق ہو جاتی ہے کہ اس نے پیغام پڑھا ہے کہ نہیں۔ پاکستان پوسٹ کے سینئر پوسٹ ماسٹر قاضی ماجد الحق نے رابطہ پر باخبر سوات ڈاٹ کام کو بتایا کہ یہ بات درست ہے کہ خطوط میں کمی آئی ہے، لیکن پاکستان پوسٹ اب ایک بنک بھی ہے۔ بیمہ کا کام بھی کرتا ہے۔ یوٹیلٹی بل تقسیم کرنا اور بل جمع کرنے کے ساتھ بیرونی ممالک سے آنے والی رقوم بھی ڈاکخانوں سے وصول کی جاتی ہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی نے جہاں ڈھیر ساری چیزوں کو نقصان پہنچایا، وہاں سب سے زیادہ نقصان ”قلمی دوستی“ کو پہنچایا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی سے پہلے مختلف رسالوں اور اخبارات میں قلمی دوستی کے صفحات ہوا کرتے تھے۔ لوگ خطوط کے ذریعے ایک دوسرے کو دیکھے بنا دوستی رکھتے تھے۔ جوابی خط کا بے چینی سے انتظار کیا جاتا، لیکن جدید ٹیکنالوجی کی وجہ سے اب دوستی سیکنڈوں میں سوشل میڈیا کے ذریعے ہو جاتی ہے۔لمحوں میں ایک دوسرے کو دیکھ بھی لیا جاتا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی نے ڈاکخانوں اور نجی کورئیر سروس کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کی وجہ سے لوگوں کے پاس وقت کم ہوگیا ہے، جس سے آن لائن خریداری کا کام شروع ہوگیا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں اب لوگ سبزی اور گوشت تک بیشتر اشیا آن لائن خریدتے ہیں۔کمپنیاں مذکورہ سامان کورئیر کمپنیوں کے ذریعے پہنچاتی ہیں۔ امریکہ کی کمپنی ”ایمازون“ اور چین کی ”علی ایکسپریس“ اس کی مثال ہے جو روزانہ لاکھوں، کروڑوں کی تعداد میں دنیا بھر میں اشیا لوگوں تک پہنچاتی ہیں۔ لیکن کورونا کے بعد فضائی آپریشن میں کمی کی وجہ سے آن لائن کمپنیوں اور کورئیر سروس کا کاروبار بھی متاثر ہوا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی نے جہاں ڈاک کے نظام کو متاثر کیا، وہاں ”پی او بکس“ پوسٹ باکس بھی ختم ہوگئے۔ جدید ٹیکنالوجی سے پہلے لوگ ڈاکخانوں میں پی او باکس لیتے تھے۔ ایک سال کے لئے باکس کی چابی ان کے پاس ہوتی تھی۔ وہ دفتری اوقاتِ کار میں اپنا باکس کھول کر خطوط لے سکتے تھے۔ اکثر کمپنیاں یا لوگ اپنے اشتہارات یا پتا دینے کے لئے لکھتے تھے”پی او باکس نمبر23پشاور کینٹ“ اب مذکورہ پی او باکس تو ہر سرکاری ڈاکخانوں میں موجود ہے، لیکن خالی پڑا رہتا ہے۔
next post
