چیف ایڈیٹر : فیاض ظفر
ایڈیٹر : امجد صحاب
ریزیڈنٹ ایڈیٹر: عطااللہ خان بابا
تصدیق اقبال بابوکالم

کفن کش

سوات کے تاریخی گاؤں درشخیلہ سے تعلق رکھنے والے وکیل خیر الحکیم حکیم زئی ہمارے سنجیدہ ادبی دوستوں میں شمار ہوتے ہیں۔ جسمانی طور پر وہ بڑے نحیف و نزار ہیں۔ پون چلے تو ہچکولے کھانے لگتے ہیں۔ رنگت اُن کی سرخ و سفید جب کہ بال بھی دودھ کی مانند سفید سا لشکارا مارتے رہتے ہیں۔ کچھ تو اُن کی شکل قائد اعظم سے ملتی جلتی ہے، اور کچھ وہ بال بھی اُنہی کی طرح پیچھے کی طرف لٹائے رکھتے ہیں جس طرح قائد اعظم لٹائے رکھتے تھے۔ عموماً سفید کپڑوں پہ کالا کوٹ بھی پہنے رکھتے ہیں۔ چل رہے ہوں، تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی لمبا کوٹ ہی اِدھر اُدھر حرکت کررہا ہے۔ عجب کمال کے آدمی ہیں۔ مخاطب سے بات کررہے ہوں، تو دُر لنڈھاتے جاتے ہیں اور مزے کی بات یہ کہ مسکان زیرِ لبی سجائے ہلکے انداز میں اُن کا ہنسنا اُن کی شخصیت کو اور بھی معتبر اور محترم کرتا جاتا ہے۔ بہت وسیع المطالعہ ہیں اور بلا کا حافظہ بھی رکھتے ہیں۔ چوں کہ خاندانی حوالے سے بھی معتبر ہیں، اس لیے رکھ رکھاؤ، سلیقہ اور مہمان نوازی میں بھی اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ ایک دفعہ ہم اُن کے مہمان تھے۔ وہ ہمارے ساتھ ہی دستر خوان پہ بیٹھ گئے، لیکن حیرت ہوئی کہ انہوں نے چڑیا کی خوراک اتنے چاول کھائے اور کہا کہ ”آج میں نے کچھ زیادہ ہی کھالیا۔“ جب کھانے کا یہ حال ہو، تو صحت بھی پھر ایسی ہی ہوگی۔ اُن کے چھوٹے بھائی پروفیسر ڈاکٹر بدرالحکیم حکیم زیئ بھی علم و ہنر میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔
ہمارے ہاں بلکہ ہر جگہ یہ ریت ہے کہ کسی شاعر کی بلے بلے اور ہوہا تو ہوتی ہے (جو عارضی ابال یا جھاگ کی طرح بیٹھ جانے والی چیز ہوتی ہے) جب کہ علمی، تحقیقی یا تنقیدی کام کرنے والوں کو درخورِ اعتنا نہیں سمجھا جاتا، جو ایک المیہ ہے۔ حالاں کہ دنیا بھر میں معتبر حوالے نثر نگاروں ہی کے ہیں۔
وکیل خیر الحکیم پیشے کے لحاظ سے وکیل ہیں۔ خود کو علم و ادب کے لیے وقف کررکھا ہے۔ ان کی اب تک منظرِ عام پہ آنے والی کتب میں ”د سیند پہ غاڑہ“ (سیاسی ناول)، ”د پختو محاورے“، ”دغہ زمونگ کلے دے“، ”د بر سوات تاریخ“، ”د میگو کوٹگئی“، ”ہمارا نظامِ تعلیم اور پبلک سکولوں کا کردار“، ”سندھی، بلوچ، پشتون فرنٹ (SBPF) سیاسی مقالہ و منشور اور متحدہ قومی اتحاد“ شامل ہیں۔ ان کتابوں کے عنوانات ہی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ بائیں بازو کی طرف جھکاؤ رکھتے ہیں اور ملکی معاشی اور معاشرتی نظام سے مطمئن نہیں۔ اُن کی سوچ غاصب، ظالم اور جابر کے خلاف ہے۔ اُن کی تحریریں بھی غریب، مظلوم اور محکوم عوام کے دل کی ترجمان ہیں۔ انہوں نے جہاں تک ہوسکا حق کی آواز بلند کی ہے۔ اپنے قلم کو نشتر بنایا ہے۔ اُن کا یہ قلمی جہاد ہنوز جاری ہے۔
حال ہی میں 2020ء میں اُن کی ایک اور کتاب ”کفن کش“ چھپ کر منظر عام پہ آئی ہے، جو انہوں نے دستخط ثبت فرما کر ”غگ نیوز“ کے دفتر میں میرے لیے رکھ چھوڑی تھی، اور فون پہ اطلاع دی کہ کتاب وصول کرلیں۔ ہم چائے پہ پھر کبھی آئیں گے۔
یہ کتاب بھی اُن کی طرح یا اُن کی بعض کتابوں کی طرح پتلی پتنگ ہی ہے، یعنی کل 96 صفحات پر مشتمل ہے۔ تاہم اندرونی مواد میں انضمام اور استحکام دیدنی ہے۔ بیشتر مضامین طنز و تشنیع کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے اپنے مختصر سے مضامین، شذروں اور حکایتوں میں بڑے پتے کی باتیں ملفوف کررکھی ہیں، جو قاری کو جھنجھوڑتی ہیں، تو معاشرے اور نظام پر منھ بھی چڑاتی ہیں۔
کتاب پر ڈاکٹر نقیب احمد جان، ڈاکٹر منزہ جبین اور اتل افغان نے بسیط دیباچے لکھ کر اس کے حق میں مہرِ تصدیق ثبت کردی ہے۔ ان چھوٹے چھوٹے مضامین میں ہمارے معاشرے کی کجیوں، خامیوں اور کوتاہیوں کو بے نقاب کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ ہم خود اپنے آپ کو دوست نہیں رکھنا چاہتے، تو پھر معاشرے اور ملکی نظام کی تبدیلی کیا معنی رکھتی ہے۔ وہ ایک مضمون میں فرماتے ہیں: ”ہم عوام کبھی داڑھی والوں، تو کبھی وردی والوں کے آگے آنکھیں بند کرلیتے ہیں۔ اس غلط فہمی کے ساتھ کہ ہمیں کچھ نہیں کہا جائے گا۔“
ایک اور مضمون میں کہتے ہیں کہ ”ایک دفعہ شیرنی اور کتیا کی ملاقات ہوئی۔ شیرنی کے ساتھ صرف دو بچے تھے جب کہ کتیا کے ساتھ درجن بھر بچے تھے۔ دو بچوں کو دیکھ کر کتیا بولی، ”ہائے! تم سال بھر میں دو ہی بچے جنتی ہو۔ مجھے دیکھو میں سال میں دو دفعہ آٹھ دس بچے پیدا کرتی ہوں۔“ تو شیرنی نے جواب دیا، تم چاہے جتنے بچوں کو جنم دو وہ سارے کتے ہی ہوتے ہیں، کبھی شیر نہیں بن سکتے، جب کہ مَیں سال میں صرف دو بچے پیدا کرتی ہوں۔ پر وہ شیر ہوتے ہیں، کتے نہیں۔“ نتیجہ: ڈھیر سارے نکمے بچوں سے ایک ایمان دار اور غیرتی بچہ بہتر ہے۔
وکیل صاحب کی بیان کردہ حکایتیں، کہانیاں، قصے سبھی ہمارے روز مرہ کا حصہ بنتے رہتے ہیں، لیکن ہم نے ان پر کبھی غور نہیں کیا۔ آپ نے ہر واقعے، کہاوت یا قصے کو زندگی سے مربوط کرکے جوڑنے کی کوشش کی ہے۔
ان تحریروں میں تفکر بھی ہے۔ نصیحت بھی، پیغام بھی ہے اور طنز کے ساتھ مِزاح کی ہلکی پھلکی پھلجھڑیاں بھی قاری کو بہت کچھ سوچنے، فکر کرنے اور لطف اُٹھانے کا سامان مہیا کرتی ہیں۔ گویا اس کتاب میں ہر قسم کے قاری کے لیے اُس کی مرضی کا سامان موجود ہے۔
کتاب کو لقمان گرافکس مینگورہ کے اشاعتی ادارے نے زیورِ طبع سے آراستہ کیا ہے۔ ہم وکیل صاحب کو اس کامیاب پڑاؤ پر مبارک باد پیش کرتے ہیں۔

Related posts

An Article By Fazal Raziq Shahab

Ba Khabar Swat

یہی ہے رختِ سفر……!

Ba Khabar Swat

د ایلم ستورے ’’فیاض ظفر‘‘

Ba Khabar Swat

Leave a Comment