(باخبر سوات ڈاٹ کام)معذوروں کا عالمی دن پاکستان سمیت دنیا بھر میں ہر سال 3 دسمبر کو منایا جاتا ہے۔ یہ دن منانے کا مقصد دنیا بھر میں معذوروں کو درپیش مسائل کا اُجاگر کرنا اور معاشرے میں ان افراد کی اِفادیت پر زور ڈالنا ہے۔ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق دنیا میں اس وقت چھ سو ملین افراد معزور ہیں یعنی دنیا میں ہر دس میں ایک شخص معذور ہے۔ ترقی پزیر ممالک میں اسّی سے نوے فیصدخصوصی افراد کوزندگی میں آگے بڑھنے کے مواقع میسر نہیں، جب کہ ترقی یافتہ ممالک میں اس کا تناسب پچاس سے ستر فیصد ہے۔ جبکہ ان میں سے اسّی فیصد کا تعلق ترقی پذیر ممالک سے ہے۔ 3 دسمبر کو ملک کے مختلف حصوں میں معذور افراد نے یہ دن ”یومِ سیاہ“ کے طور پر منایا گیا۔ خیبر پختون خوا کے خصوصی افراد کا کہنا تھا کہ حکومت نے سرکاری نوکریوں میں خصوصی افراد کا کوٹہ چار فیصد کرنے کا اعلان کیا تھا، لیکن یہاں دو فیصد پرانے کوٹہ پر بھی معذوروں کو نوکریاں نہیں مل رہیں اور نہ کوئی سہولیات ہی مل رہی ہیں۔ پاکستان میں 18 سال سے کم عمر 60 لاکھ بچے کسی نہ کسی طرح کی معذوری کا شکار ہیں۔ ادارہ شماریات کے مطابق 2012ء میں پاکستان کی کل آبادی 181 ملین تھی جس میں سے معذور افراد کی تعداد ایک کروڑ ساٹھ لاکھ یعنی کل آبادی کا 7 فیصد تھی، جن میں ذہنی معذور افراد کی تعداد 30 فیصد، نابینا پن کا شکار 20 فیصد، قوتِ سماعت و گویائی سے محروم 10 فیصد جب کہ جسمانی معذوری کا شکار افراد 40 فیصد تھے۔ صوبائی سطح پر آبادی کے تناسب سے سب سے زیادہ معذور افراد سندھ میں 3.05 فیصد ہیں، جب کہ پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں یہ تعداد 4.3 لاکھ کے قریب شمار کی گئی۔ وزارتِ سوشل ویلفیئر کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کے تقریباً ہر گاؤں میں 10 سے 20 بچے ایسے ہیں جو کسی نہ کسی طرح کی معذوری کا شکار ہیں۔ایسے بچوں کی تعلیم و تربیت کے ادارے پاکستان میں نہ ہونے کے برابر ہے۔ اگر کچھ ہے بھی تو صرف بڑے شہروں تک محدود اور وسائل کی کمی کا شکار نظر آتے ہیں۔ ہمارے ہاں خصوصی بچوں کی تعلیم و تربیت اور نگہداشت کا کوئی منظم نظام موجود ہی نہیں۔ 1987ء میں جنرل ضیاء الحق نے خصوصی افراد کے لیے ایک علیحدہ وزارت اور اداروں کے قیام کے ساتھ ملازمتوں میں 2 فیصد کوٹا کا صدارتی آرڈیننس جاری کیا۔ پچھلے سال تین دسمبر کو خیبر پختون خوا کے وزیر اعلیٰ نے ان افراد کے لئے سرکاری ملازمتوں میں کوٹہ دو فیصد سے چار فیصد کرنے کا اعلان کیا تھا، لیکن اس پر بھی ابھی تک عمل نہیں ہوا۔ آسٹریلیا، کینیڈا، اسکاٹ لینڈ اور انگلینڈ جیسے کئی ممالک میں خصوصی افراد کے لیے حکومت کی طرف ماہانہ 1500 ڈالرز رقم باعزت طور پر باقاعدگی سے فراہم کی جاتی ہے۔ انہیں سفری سہولیات اور تعلیمی اداروں میں داخلے میں خاص رعایت اور آسانی دی جاتی ہے۔ تمام پارکس، سرکاری عمارتوں اور شاپنگ سینٹرز میں ان کی ضرورت کے مطابق علیحدہ گزرگاہ، واش روم اور پارکنگ کی جگہ بنائی گئی ہیں۔ اس سب کے برعکس وطنِ عزیز میں خصوصی افراد کا معیارِ زندگی انتہائی پستی کا شکار ہے۔ ذہنی پسمانگی، کم آگاہی اور ظالمانہ طبیعت کے سبب خصوصی افراد پر فقرے کسنا، برے القابات سے پکارنا اور ان کے باہر نکلنے پر ان کو عجیب سوالیہ نظروں سے گھُور کر دیکھنا معمول کی بات ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں ایسے افراد کو ترجیح دی جاتی ہے اور ان کی عزت کی جاتی ہے۔
