(باخبر سوات ڈاٹ کام)شورش کے دوران سوات میں سب سے افسوس ناک دھماکے جن میں 62 افراد جاں بحق اور سیکڑوں زخمی ہوئے تھے، کو 13سال مکمل ہوگئے۔ 2008ء میں سوات سے تعلق رکھنے والے ڈی ایس پی لکی مروت ریمورٹ کنٹرول بم دھماکہ میں جاں بحق ہوئے تھے۔ ان کی لاش جب سوات پہنچا دی گئی، تو نمازِ عشا کے بعد حاجی بابا سکول مینگورہ کے گراؤنڈ میں ان کی نماز جنازہ جب ادا ہوئی، تو جنازے کی دوسری صف میں موجود خود کش بمبار نے خود کو اڑا دیا۔ اس میں ڈی ایس پی جاوید اقبال جن کا جنازہ تھا، ان کے جواں سال بیٹے سمیت62افراد جن میں دو، دو بھائی بھی شامل تھے جاں بحق ہوئے تھے۔ ڈی ایس پی جاوید اقبال کا تعلق مکان باغ سے تھا۔اس محلہ کے زیادہ تر لوگ جنازے میں شریک تھے۔ اس لئے مکان باغ ہی سے تعلق رکھنے والے زیادہ تر افراد دھماکے میں جاں بحق ہوئے تھے۔ مکان باغ کے ہر گھر میں ماتم تھا۔ اس افسوس ناک دھماکے کو 13سال مکمل ہوگئے لیکن ابھی تک مینگورہ کے لوگ اس درد ناک دن کو نہیں بولے ہیں۔
previous post
