(باخبرسوات ڈاٹ کام) بحرین سے کالام تک 32 کلومیٹر N95 سڑک پر 12 پلوں کی تعمیر سیاست کی نذر ہوگئی۔ 2010ء کے سیلاب میں کالام سے بحرین تک مکمل سڑک پانی میں بہہ گئی تھی۔ سیکورٹی فورسز نے کالام تک کچی سڑک تعمیر کی جس کے بعد اس کی پکی تعمیر کے لئے حکومت پاکستان نے ایشین ڈیولپمنٹ بنک سے سڑک کی تعمیر کے لئے قرضہ لیا اور اس پر کام کا آغاز کردیا۔ بحرین سے کالام تک بین الاقوامی طرز پر اس سڑک کو تعمیر کیا گیا لیکن اس میں آنے والے بارہ پل ابھی تک تعمیر نہ ہوسکے، جس کی وجہ سے کالام روڈ پر آئے روز ٹریفک جام رہتی ہے اور حادثات ہوتے ہیں۔بحرین اور کالام کی سول سو سائٹی کے مطابق پلوں کی تعمیر کے لئے انہوں نے کئی بار احتجاج بھی کیا لیکن کوئی اثر نہیں ہوا۔ بحرین سے کالام تک 32 کلومیٹر کا یہ سفرایک گھنٹے میں مکمل ہوتا ہے لیکن ان پلوں کی عدم تعمیر سے اب یہ سفر 3 سے 6 گھنٹے میں طے ہوتا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ان پلوں پر اکثر اوقات گاڑیاں پھنس جاتی ہیں جس کی وجہ سے ٹریفک جام ہوجاتی ہے۔ امسال یکم جنوری سے اب تک اعداد و شمار کے مطابق ان خراب پلوں کی وجہ سے حادثات میں 23 افراد جاں بحق اور134 زخمی ہوئے ہیں۔ گذشتہ روز ٹریکٹر گرنے سے ڈرائیور کی لاش ابھی تک دریائے سوات سے نہیں ملی۔ اس حلقہ کے سابق ایم پی اے سید جعفر شاہ نے باخبر سوات ڈاٹ کام کو بتایا کہ پلوں کی عدم تعمیر کی وجہ دو سیاسی پارٹیوں کے درمیان جنگ ہے جس کی وجہ سے عوام اور سیاح خوار ہورہے ہیں۔ بحرین کالام سڑک پر پلوں کی عدم تعمیر کے حوالے سے وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید سے بار بار فون پر رابطہ کیا گیا لیکن ان کا فون بند آرہا تھا۔ اس سلسلے میں پراجیکٹ ڈائریکٹر زاہد مروت سے باخبر سوات ڈاٹ کام نے فون پر رابطہ کیا، تو انہوں نے کہا کہ ان کو اس بارے بات کرنے کی اجازت نہیں۔ اس سلسلے میں این ایچ اے کا مؤقف ہیڈ کواٹر میں پبلک رلیشن آفیسر سے لے لیں۔ این ایچ اے کے ہیڈ کواٹر میں باخبر سوات ڈاٹ کام نے فون پر رابطہ کیا، تو وہاں موجود اہلکار نے بتا یا کہ پی ار او آج موجود نہیں۔ ان کا موبائل نمبر دینے سے انکار کیا۔ اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر سوات جنید خان سے رابطہ پر انہوں نے بتایا کہ ان پلوں کا ٹھیکا ہوچکا ہے اور جلد ان پر کام کا آغاز ہو جائے گا۔ اس سڑک اور پلوں کے سابق ٹھیکیدار اور ن لیگ کے صوبائی صدر انجینئر امیر مقام نے رابطہ پر باخبر سوات ڈاٹ کام کو بتایا کہ انہوں نے اس روڈ کو ن لیگ کی حکومت میں منظور کیا تھا۔ جب ان پلوں کا ٹینڈر ہوا، تو ان کی کمپنی نے ٹینڈر جیتا اور کام شروع کیا۔ ان پلوں کا 80 فیصد کام مکمل کیا ہے جو پلوں کے قریب گارڈر کی شکل میں پڑا ہے، لیکن جب موجودہ حکومت آئی، تو انہوں نے ایک خط کے ذریعے یہ کہہ کر کہ کام میں ناقص میٹریل کا استعمال ہورہا ہے، ہمارا ٹینڈر منسوخ کیا۔ جب دوبارہ ان پلوں کا ٹینڈر ہوا تو ہماری کمپنی نے دوسرے ٹھیکیدار کے نام پر ٹینڈر جیتا اور کام شروع کیا، لیکن وفا قی حکومت کو جب معلوم ہوا، تو انہوں نے وہی ٹینڈر بھی منسوخ کیا۔ جب تیسری مرتبہ ٹینڈر ہوا،تو میں نے اپنی کمپنی کو کہا کہ ہمارا کروڑوں کا نقصان ہورہا ہے، لیکن اس بار آپ ٹینڈر میں حصہ نہ لیں، تاکہ پل تعمیر ہوسکیں اور عوام اور سیاحوں کی مشکلات ختم ہو جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ان بارہ پلوں کی تعمیر کا اسی فیصد کام ہماری کمپنی نے مکمل کیا ہے لیکن این ایچ اے نے ابھی تک ایک پائی کی ادائیگی ان کو نہیں کی ہے۔
previous post
