(باخبرسوات ڈاٹ کام)ملاکنڈڈویژن کی 83 لاکھ آبادی کے لئے قائم واحد سیدوٹیچنگ اسپتال میں برن یونٹ میں روزانہ کی بنیاد پر 15 سے 20 مریض لائے جاتے ہیں۔اس یونٹ میں پلاسٹک سرجن کی نگرانی میں صرف دو ایم اوڈاکٹراور ایک نرس خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اس یونٹ میں ضروری آلات دستیاب ہیں اور نہ آئی سی یو اور ایچ ڈی یو کا کوئی انتظام ہی موجود ہے۔ جلنے اور جھلسنے والے مریضوں کے ڈریسنگ کے لئے ضروری اشیا بھی دستیاب نہیں۔ عوام انہیں بازار سے خریدنے پر مجبور ہیں۔برن یونٹ میں گذشتہ چھے مہینوں کے دوران 800سے زائد مریضوں کا معائنہ کیا گیا ہے، لیکن اس میں ابھی تک ایچ ڈی یو اور آئی سی یو سمیت گرافٹنگ کے لئے بھی مشینری موجودنہیں۔ زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا مریضوں کو وسائل اور وارڈ نہ ہونے کے باعث پشاور یا دیگر اسپتالوں میں منتقل کیا جاتا ہے، جس سے اکثر مریض راستے میں دم توڑ جاتے ہیں۔ اس یونٹ میں پاکستان کے ماہر پلاسٹک سرجن ڈاکٹر کی خدمات حاصل ہیں، لیکن عملہ اور آلات سمیت سہولیات کی عدم دستیابی کی وجہ سے مریضوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔
previous post
