(باخبر سوات ڈاٹ کام) موٹاپے سے لاحق ہونے والی بیماریوں اور اس کے آپریشن کے بارے میں دو روزہ سمینار لقمان انٹرنیشنل ہسپتال میں منعقد ہوا جس میں خیبر میڈیکل کالج کے ڈین سرجن ڈاکٹر شہزادہ میاں گل محمود اورنگزیب، امریکہ، برطانیہ، پشاور، اسلام اباد، لاہور اور کراچی سے آئے ہوئے ماہر سرجنوں نے شرکت کی۔ سمینار میں سوات کے مقامی سرجنوں نے بھی شرکت کی۔ سمینار میں سرجنوں نے موٹاپے کے شکار افراد کے ”بریاٹرک“ آپریشن کیے جن کو شرکا نے کانفرنس روم میں براہِ راست دیکھا۔ اس موقع پر ڈین شہزادہ میاں گل محمود اورنگزیب نے کہا کہ موٹاپے کو بیماریوں کی ماں کہا جاتا ہے۔ اس کے شکار لوگوں کو دل، بلڈ پریشر، شوگر، دمہ، بانچھ پن اور کینسر کی بیماریاں لاحق ہوسکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پچاس سال کی تحقیق کے بعد اب معدہ میں خوراک کی نالی کا آپریشن کیا جاتا ہے جس میں موٹاپے کے شکار افراد کے معدہ میں خوراک کی نالی میں کمی لائی جاتی ہے۔ اس موقع پر سمینار کے منتظم سرجن ڈاکٹر شاہ عباس نے کہا کہ اس وقت موٹاپے کے شکار افراد میں امریکہ پہلے نمبر پر اور پاکستان نویں نمبر پر ہے۔ اگر پاکستان میں موٹاپے کی شرح اس طرح رہی، تو 2030ء تک پاکستان اس لسٹ میں دوسرے یا تیسرے نمبر پر جگہ پاسکتا ہے۔ا نہوں نے کہا کہ مشروبات، جنک فوڈ، ملاوٹ شدہ کھانے، چربی کے زیادہ استعمال اور ورزش نہ کرنے والے افراد موٹاپے کا شکار ہوتے ہیں۔
