(باخبر سوات ڈاٹ کام)ڈی پی اُو سوات نے ضرب المثل”احمد کی پگڑی محمود کے سر“ کے مصداق خواجہ سرا کا ایف آئی آر نہ کاٹنے پر ایس ایچ او خوا زہ خیلہ کو معطل کردیا۔ ایف آئی آر ہونے کے بعد خواجہ سرا نے ساٹھ ہزار روپے لے کر ملزمان کے ساتھ راضی نامہ کردیا۔ خواجہ سرا جاوید عرف مردانے نے پولیس کو بتایا کہ تین دسمبر کو وہ ایک تقریب میں شرکت کے بعد واپس آرہا تھا کہ عالم گنج کے مقام پر عثمان نامی نوجوان نے اس کو روک کر تشدد کا نشانہ بنایا۔ پولیس نے عثمان کو تھانے بلایا، تو اس نے ”ڈی آر سی“ ممبران کے سامنے قرآنِ مجید پر ہاتھ رکھ کر حلفاً کہا کہ اس نے ایسا کچھ نہیں کیا، جس پر خواجہ سرا نے عثمان سے 5 ہزار روپے لئے اور چلاگیا۔ بعد میں گذشتہ روز اس نے ڈی پی اُو کو درخواست دی اور کہا کہ ایس ایچ اُو نے ایف آئی آر نہیں کی ہے، جس پر ڈی پی اُو سوات نے ایس ایچ اُو خوازہ خیلہ سیف اللہ کو معطل کرکے خواجہ سرا کا ایف آئی آر کاٹنے کا حکم دیا۔ اس پر پولیس نے خواجہ سرا کی مدعیت میں چار افراد محب خان، اعجاز شفیع اللہ اور امجد ایاز کے خلاف خواجہ سرا پر تشدد کا ایف آئی آر کاٹا جس میں پولیس نے گذشتہ روز ملزمان کو گرفتار کیا اور صبح خوجہ سرا نے ملزمان سے ساٹھ ہزار روپے کے عوض راضی نامہ کردیا۔
