(باخبر سوات ڈاٹ کام)سوات قومی جرگہ کے زیر اہتمام ”سوات قومی کانفرنس“ میں مقررین نے واضح کیا ہے کہ سوات کی سر زمین پر دہشت گردی یا دہشت گردوں کو کسی صورت قبول نہیں کیا جائیگا۔ سوات کے عوام کی بھاری جانی و مالی قربانیوں کی وجہ سے سوات میں امن قائم ہوا ہے۔ کسی کو سوات کے عوام یہ اجازت نہیں دیں گے کہ وہ امن عامہ کی صورتحال کو خراب کرے یا مسلح افراد کو سوات میں داخل کرے۔ سوات قومی جرگہ کے زیر اہتمام سوات پریس کلب میں سوات قومی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں علاقائی مشران، سیاسی جماعتوں کے نمائندوں اور تمام فعال تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر سیکورٹی کے غیر معمولی انتظامات کئے گئے تھے۔ جرگہ سے اپنے خطاب میں مقررین نے کہا کہ2006ء میں مسلح افراد کو سوات میں اسلام کے نام پر داخل کیا گیا تھا، لیکن اب 2006ء نہیں بلکہ 2022ء ہے۔ سوات کے عوام کو اس دفعہ کوئی بے وقوف نہیں بناسکتا۔ اس دفعہ دہشت گردوں اور دہشت گردی کا مقابلہ سوات کے عوام خود کرنا جانتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئینِ پاکستان کے تحت حکومت اور ان کے اداروں کی ذمے داری ہے کہ وہ شہریوں کی حفاظت کریں۔ مقررین نے چند روز قبل تحصیل مٹہ کے علاقہ کنالہ میں مسلح افراد کے داخل ہونے کی شدید مذمت کی اور کہا کہ سوات کے عوام کو بتایا جائے کہ یہ افراد افغانستان سے سوات میں کیسے داخل ہوئے اور کیسے واپس گئے؟ جرگہ مشران نے متفقہ مطالبہ کیا کہ خوازہ خیلہ میں پُرامن مظاہرین کے خلاف پولیس کی ایف آئی آر کو فوری واپس لیا جائے اور سوات موٹروے فیز ٹو کو زرعی زمینوں کے بجائے دریائے سوات کے کنارے بنجر زمین پر تعمیر کیا جائے، تاکہ سوات کی رہی سہی زرعی زمین بچ سکے۔
