(باخبر سوات ڈاٹ کام) انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخوا معظم جاہ انصاری نے کہا ہے کہ سوات میں اب کوئی دہشت گرد نہیں۔یہاں پر مکمل امن و امان ہے۔ وزیر اعلیٰ کی خصوصی ہدایت پر سوات کے پہاڑوں میں 18 مستقل پولیس چوکیاں قائم کی جارہی ہیں، تاکہ آئندہ دہشت گرد سوات میں داخل ہونے کی کوشش نہ کریں۔ سیدو شریف میں کمشنر شوکت علی خان یوسف زئی، آر پی او ذیشان اصغراور ڈی آئی جی سی ٹی ڈی جاوید اقبال کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گلی باغ میں سکول وین پر فائرنگ کا واقعہ دہشت گردی کا نہیں تھا۔ یہ ذاتی مسئلہ تھا جس کے ملزمان گرفتار ہوکر ان سے اسلحہ اور واردات میں استعمال ہونے والی موٹر سائیکل برآمد ہوئی ہے۔ ایک ملزم دبئی فرار ہوگیا ہے جس کو انٹرپول کے ذریعے لایا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ سوات میں تمام پہاڑی چوٹیاں دہشت گردوں سے خالی کرا دی گئی ہیں۔ آئندہ چند دنوں میں سوات کی رونقیں دوبارہ بحال ہوں گی۔ مینگورہ بائی پاس واقعے کی بھی تحقیقات جاری ہیں۔ جلد حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔ صوبہ بھر میں ایک سال کے دوران بھتے کی کال دینے والے 63افراد کو گرفتار کر لیا گیاہے۔انہوں نے کہا کہ صوبائی وزیر عاطف خان کو بھتے کی کال اور خط کے حوالے سے بھی تفتیش جاری ہے، تاہم طالبان کی جانب سے آفشلی پیغام سامنے آیا ہے کہ یہ خط انہوں نے نہیں بھیجا، تاہم پھر بھی پولیس تفتیش کر رہی ہے۔
previous post
