ایک طرف بائیس سالہ سیاسی جدوجہد کی کامیابی پر خوشیاں منائی جا رہی ہیں، تو دوسری طرف قیامِ پاکستان سے بھی پہلے موجود کچھ سیاسی پارٹیوں اور ان کے لیڈرز بدترین شکست سے دوچار ہوئے ہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان بننے کے بعد ملک کو کرپشن کی دیمک لگ گئی جس نے ملک کے تمام اداروں کو کھوکلا کردیا۔ حکمران کرپشن اور عیاشیوں میں مگن رہے۔ نتیجتاً مہنگائی بڑھتی رہی۔ بیروزگاری، غربت اور افلاس میں اضافہ ہوتا رہا۔ ملک غیر ملکی قرضوں کے بوجھ تلے دبتا رہا۔ حکمرانوں اور ان کی اولاد کے اثاثوں میں اضافہ ہوتا رہا۔ ایسے میں 1971ء میں قومی منظر نامے پر نمودار ہونے والے پاکستان کے مقبول ترین کھلاڑی جس نے 1992ء میں انتہائی مشکل حالات میں ورلڈکپ جیت کر دلوں کو فتح کیا۔ اس نے نہ صرف سیاست سے بالا تر ہوکر اس ملک کو کینسر کے علاج کے لیے ورلڈ کلاس کے بہترین اسپتال بناکر دیے بلکہ بین الاقوامی معیار کی نمل یونیورسٹی بھی بناکر دی۔ ضیاء الحق سے لے کر نوازشریف تک ہر حکمران نے انہیں سیاست میں آنے کی دعوت دی، جسے ہر بار ٹکرایا۔ حالاں کہ وہ کسی بھی حکومت میں رہ کر اپنی مرضی کی وزارت حاصل کرسکتے تھے۔
پھر کرکٹ کے اس کھلاڑی اور چمپئن نے ملک میں کرپشن کے خلاف علمِ بغاوت بلند کیا۔ وقت کے حاکموں کو چیلنج کرتے ہوئے 25 اپریل 1996ء کو ظلم، جبر، لاقانونیت اور ناانصافی کے خلاف ایک نئی سیاسی جماعت ’’تحریک انصاف‘‘ کی بنیاد رکھی۔ ان کی سیاسی جدوجہد میں 30 اکتوبر 2011ء لاہور کے عظیم الشان جلسہ نے ان کو قومی سطح کا مقبول ترین لیڈر اور پنجاب میں ن لیگ کے مدمقابل کے طور پر سامنے لایا۔
قارئین، عمران خان جنہوں نے پرسوں پاکستان کی وزرات عظمی کا حلف اٹھایا ہے، پاکستانی عوام نے ان سے بہت زیادہ توقعات وابستہ کی ہوئی ہیں۔ خان صاحب! آپ کو وزارتِ عظمیٰ کا منصب مبارک ہو، لیکن آپ کا اصل امتحان اب شروع ہوگیا۔ قوم کے پاس اب چوتھا کوئی آپشن نہیں۔آپ کو بہر صورت عوام سے کیے گئے وعدوں پر پورا اترنا ہوگا ۔
قارئین، دنیا تیزی سے تبدیلی کی طرف رواں دواں ہے۔ نوجوان قوم کے مستقبل کے معمار ہیں۔ آج کے نوجوانوں کے ہاتھ میں سمارٹ فون اور کمپیوٹرز ہیں۔ HD نیوز چینلز، انٹرنیٹ، یوٹیوب اور سوشل میڈیا کے ذریعے ان تک تازہ ترین خبریں، بہترین تجزیے، ملکی اور غیر ملکی حالات کی خبریں پہنچ رہی ہیں۔ سیاسی زعما جو دھاندلی دھاندلی کے شور میں قوم سے اپنی ناقص کارکردگی کو چپھانے کے جتن میں مصروف ہیں، وہ ان نوجوانوں کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ ان کی ناکامی میں ایک سبب نیا سیاسی شعور، ملک و قوم کی خیرخواہی کا جذبہ بھی کار فرما ہے۔ پرانے ورژن اور ویژن کے حامل سیاست دانوں کو عوام نے مسترد کر دیا ہے۔ مسترد شدہ سیاسی جماعتوں کو اپنے بیانیوں پر نظرِثانی کرنا چاہیے اور جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگی پیدا کرکے نوجوان نسل کے معیار پر پورا اترنے اور ان کو سمجھنے کی کوشش بھی کرنی چاہیے۔ ہمارے کئی بزرگ سیاست دان سمارٹ فون کے استعمال تک سے ناواقف ہیں جب کہ آج کے دور میں ایک چار سالہ بچے کو بھی سمارٹ فون سے آشنائی حاصل ہے۔ وہ گیلری میں اپنی من پسند ویڈیوز دیکھتے ہیں۔ مختلف گیم کھیلتے ہیں، جن سے ہم نابلد ہیں۔ وہ کیمرے والے فون کا مطالبہ بھی کرتے ہیں۔ انہیں سمجھنا اتنا آسان نہیں۔
قارئین، پاکستانی سیاسی جماعتوں کی سیاسی جدوجہد پر نظر ڈالی جائے، تو یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ واقعی نئی سوچ نے ان کو بری طرح شکست دے دی ہے، لیکن ہمارے سیاست دانوں میں وقار کے ساتھ شکست تسلیم کرنے کا رواج نہیں۔ اگر کسی سیاسی رہنما نے اپنی شکست تسلیم بھی کی ہو، تو بعد میں وہ احتجاج کرتے بھی نظر آئے ہیں جو کہ ایک غیراخلاقی عمل ہے۔ ہر الیکشن کے بعد دھاندلی کا الزام لگا دیا جاتا ہے اور یہی سب کچھ 2013ء کے الیکشن میں بھی ہوا۔ کل کے جو حکمران تھے، وہ دھاندلی کو تسلیم نہیں کر رہے تھے جب کہ آج وہ خود دھاندلی کے الزامات لگا رہے ہیں۔ الیکشن کمیشن کے مشکوک کردار نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ کئی حلقوں کے نوٹیفکیشن جاری نہ کرنا، ایس آر ٹی سسٹم کی خرابی اور نتائج پر اثرانداز ہونا تحقیق طلب مسئلہ ہے۔ نئی حکومت سے امید ہے کہ وہ الیکشن کمیشن میں باکردار فرض شناس اور بے داغ ماضی رکھنے والا عملہ تعینات کرے گی،تاکہ دھاندلی کا مسئلہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم ہوجائے۔
دوسری بات، ہمارے سیاست دانوں اور لیڈرز میں اتنی اخلاقی جرأت ہو کہ کھلے دل سے انتخابی نتائج تسلیم کرنے میں عار محسوس نہ کریں۔ آر ایس ٹی نظام میں خرابی پیدا کرکے حقیقت میں پی ٹی آئی کے پر کاٹنے کی کوشش کی گئی تھی، تاکہ کسی بھی طریقہ سے عمران خان کو وزارتِ عظمی سے دور اور یا انتہائی مجبور کیا جائے اور ایسا حکمران ہو جو اپنی مرضی کے فیصلے صادر کرنے سے قاصر ہو۔ یہی کچھ نظر بھی آ رہا ہے۔ تمام تجزیہ نگاروں کے تجزیے غلط ثابت ہوئے جو مسلسل اس بات پر مصر تھے کہ معلق پارلیمنٹ وجود میں آئے گا، مگر ہوا اس کے برعکس۔ سندھ میں پیپلز پارٹی کی اکثریت سے جیت، پنجاب میں ن لیگ کی اکثریت یہ عجیب دھاندلی تھی۔ الیکشن کمیشن ن لیگ اور پی پی پی کا بنایا ہوا تھا۔
میں نے اپنے گذشتہ کالم میں لکھا تھا کہ کراچی میں تبدیلی کے آثار نمایاں ہوں گے، بلوچستان جوں کا توں رہے گا۔ دھاندلی کے شور میں اپنی ناقص کارکردگی اور ناکامی کو چھپانے کی کوشش کی جارہی ہے، ورنہ جس کو اعتراض ہو، وہ قانونی چارہ جوئی کرے۔ اسپیکر کے انتخاب میں اس وقت دلچسپ صورتحال پیدا ہوئی جب پیپلز پارٹی کے پولنگ ایجنٹ نے دوبارہ گنتی کا مطالبہ کیا۔ تجزیہ نگار یہ سمجھ بیٹھے کہ یا تو ایک ووٹ سے کوئی ایک امیدوار ہارا ہے، یا مقابلہ ’’ٹائی‘‘ ہوا ہے۔ دوبارہ گنتی ہوئی، تو پتا چلا کہ متحدہ اپوزیشن کے امیدوار 27 ووٹوں سے ہارچکے ہیں، تو ہال ایک بار پھر دھاندلی کے نعروں سے گونج اٹھا ۔
الیکشن 2018ء میں جن سیاسی جماعتوں یا ان کے قائدین نے شکست کھائی ہے۔ ان کی سیاسی تاریخ پاکستان سے بھی پرانی ہے۔ یہ کوئی نئی جماعتیں نہیں ہیں بلکہ ان کی سیاست قیام پاکستان سے قبل کی ہے، لیکن بدقسمتی سے یہ ملک اور قوم کو پستی سے نکالنے میں ناکام رہے ہیں۔ ان کی سیاسی جدوجہد پر اگر مختصر نظر دوڑائی جائے، تو جمعیت علمائے اسلام 1857ء کی مسلح جدوجہد آزادیِ ہند تحریک کے بعد بطور جمعیت علمائے ہند 1919ء میں منظر عام پر آئی، لیکن یہ مسلم لیگ کے تقسیم ہند کے فارمولے سے متفق نہیں تھی۔ 1945ء میں مولانا شبیر احمد عثمانی نے جمعیت علمائے اسلام کی بنیاد رکھی، جو 1947ء قیام پاکستان سے لے کر آج تک سیاسی میدان میں موجود ہے اور جس کی سیاسی جدوجہد کی بدولت 1970ء میں مولانا فضل الرحمان کے والد مولانا مفتی محمودؒ صوبہ سرحد (اب خیبرپختونخوا) کے وزیراعلیٰ بنے جب کہ مولانا فضل الرحمان نے 1984ء میں اس جماعت کی سیاسی باگ ڈور سنبھالی۔
عوامی نیشنل پارٹی خان عبدالغفار خان المعروف باچاخان بابا کی سیاسی نظریہ کی حامل جماعت ہے جو 1930ء میں باچاخان بابا کی ’’خدائی خدمت گار تحریک‘‘ سے ہوتے ہوئی 1956ء میں خان عبدالولی خان کی نیشنل عوامی پارٹی (NAP) میں شمولیت اختیار کرنے اور پھر 1986ء میں عوامی نیشنل پارٹی (ANP) کے نام سے الگ سیاسی پارٹی کی قیادت سنبھالنے سے تاحال سیاست کر رہی ہے جو 2008ء کے عام انتخابات میں اکثریت حاصل کرکے کے پی کے میں وزارتِ اعلا حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی تھی ۔
اس طرح مسلم لیگ 1906ء یعنی قیامِ پاکستان سے پہلے سیاست کرتی چلی آ رہی ہے۔ قیامِ پاکستان کے بعد 1962ء میں ٹوٹنے والی مسلم لیگ پھر مختلف حصوں میں تقسیم در تقسیم کا شکار ہوئی جس میں ج، ق، ف اور ن تک کا اضافہ ہوا۔ پھر ن لیگ کی قیادت نواز نے سنبھالی۔ تین بار وزیر اعظم بنے جب کہ ان کے بھائی تیرہ سال (مختلف ادوار)تک وزیراعلیٰ پنجاب رہے ۔ مسلم لیگ کے حصہ میں قیام پاکستان سے لے کر اب تک مجموعی طور پر 13 مرتبہ وزارتِ عظمی (ق لیگ 3مرتبہ شامل نہیں) جب کہ 4 بار صدارت آئی ہے۔
پیپلز پارٹی کی بنیاد ذوالفقارعلی بھٹو نے 30 نومبر 1967ء کو رکھی۔ روٹی، کپڑا اور مکان ان کا معروف سیاسی نعرہ تھا اور ہے۔ مگر افسوس کہ یہ پارٹی مرکز سے سکڑ کر صوبہ سندھ تک محدود ہوگئی۔ ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو سمیت پیپلز پارٹی کے حصہ میں 5 مرتبہ وزارتِ عظمیٰ جب کہ 4 مرتبہ صدارت آئی۔ الیکشن 2018ء میں کرکٹ کے میدان کے کھلاڑی نے ان تمام سیاسی جماعتوں پر سیاسی برتری حاصل کرکے ’’سیاست کے کھلاڑی‘‘ ہونے کا اعزاز حاصل کرلیا۔ اب اللہ کرے، ان کے ہاتھوں اس ملک کی تقدیر بدل جائے، آمین!
previous post
next post
