(باخبر سوات ڈاٹ کام)سوات کی تحصیل بحرین کے علاقہ آئین میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا ہے جس کی وجہ سے انسانیت شرمسار ہے۔ والد نے اپنے قوت سماعت و گویائی سے محروم 32 سالہ بیٹے کو چار سال تک گدھوں کے ساتھ اصطبل میں زنجیروں سے باندھ کر ننگ دھڑنگ قید رکھا۔کھانا کم ملنے کی وجہ سے وہ چار سال تک گدھوں کا گوبر بھی کھاتا رہا۔ اسسٹنٹ کمشنر بحرین ہدایت اللہ خان نے باخبر سوات ڈاٹ کام کو بتایا کہ ان کو اس بارے میں کسی نے اطلاع دی تھی جس پر وہ ڈی ایس پی، ایس ایچ اوز اور دیگر عملہ کے ساتھ گھر پہنچے۔جہاں اصطبل کا دروازہ کھولا، تو وہاں پر 32 سالہ محی الدین اس سردی میں ننگ دھڑنگ زنجیروں سے باندھا ہوا زمین پر پڑا تھا اور اس کے منہ میں گوبر تھا۔ اس کو کھول کر نہلایا گیا اور کپڑے پہنائے گئے۔ وہ مسلسل اشاروں کی زبان میں اپنی تکالیف بیان کرتا رہا۔ انہوں نے کہا کہ بازیاب نوجوان کی صحت خراب اور وہ انتہائی کمزور ہے جس کی وجہ سے مقامی ڈاکٹر کو بلایا گیا۔ بعد میں اس کے لئے خیمہ، بستر اور فوڈ پیکیج پہنچایا گیا۔بازیاب نوجوان کی والدہ مسماۃ تاجوڑی نے کہا ہے کہ اس کا شوہر شراق الدین چار ماہ کے لیے تبلیغ میں گیا ہے۔ اس کو معلوم نہیں کہ میاں اس وقت کہاں ہے۔ اس نے کہا کہ اس کے کل چار بچے قوت سماعت و گویائی سے محروم ہیں جن میں محی الدین کا دماغی توازن بھی ٹھیک نہیں۔ وہ قبرستان میں قبروں کو مسمار کرتا تھا جس کی وجہ سے والد نے چار سال سے اس کو اصطبل میں باندھے رکھا ہے۔ خاتون نے کہا کہ اس کے شوہر نے دوسری شادی بھی کی ہے۔ اس کے گھر میں ایک کمرہ اور ایک اصطبل ہے۔ کمرہ میں آٹھ افراد رہتے ہیں جن میں صرف تین چارپائیاں ہیں۔ ڈی پی او سوات دلاور خان بنگش نے باخبر سوات ڈاٹ کام کو بتایا کہ اس افسوس ناک واقعے کا سن کر نوجوان کے والد کے خلاف تھانہ بحرین میں ایس ایچ اُو کی مدعیت میں حبسِ بے جا اور انسانی حقوق کی پامالی کی دفعات کے تحت شراق الدین کے خلاف ایف آئی آر درج کردی گئی ہے۔ پولیس اس کی گرفتاری کے لئے کوشش کر رہی ہے، لیکن اس کے گھر والوں کے مطابق وہ چار ماہ کے لئے تبلیغ میں گیا ہے۔ کسی کو معلوم نہیں کہ وہ اب پاکستان کے کون سے شہر میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوات پولیس کی جانب سے متاثرہ نوجوان اور خاندان کے لئے کچھ اشیائے خور ونوش اور سامان بھیج دیا گیا ہے۔بحرین سوات کا بالائی اور شدید سرد ترین علاقہ ہے، جہاں پر کافی برف باری ہوتی ہے۔ ان دنوں بھی وہاں شدید سردی ہے۔ رات کو درجہئ حرارت گرجاتا ہے۔ چار سالوں سے محی الدین اس اصطبل میں کڑاکے کی سردی میں زنجیروں سے بندھا زندگی گزار رہا ہے۔ پشاور ہائی کورٹ کے سابق جسٹس اور ہیومن رائٹس کمیشن پاکستان کے سابق وائس چیئرپرسن شیر محمد خان ایڈوکیٹ نے باخبر سوات ڈاٹ کام کو بتایا کہ یہ واقعہ انسانیت سوز واقعہ ہے۔ایسا عمل جانوروں کے ساتھ بھی جائز نہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ متاثرہ خصوصی نوجوان کا علاج کرایا جائے اور قوتِ سماعت و گویائی سے متاثرہ چاروں بھائیوں کو ان کے مخصوص سکول میں داخل کرایا جائے۔ ان کی رہائش کے لئے ہاسٹل کا انتظام کیا جائے۔ ماہرِ نفسیات ڈاکٹر نظام الدین نے متاثرہ نوجوان کی ویڈیو دیکھنے کے بعد کہا کہ ان کو پاگل پن کا عارضہ لاحق ہے، لیکن یہ قابلِ علاج مرض ہے۔ چار سال تک ایک کمرے میں بند ہونے کی وجہ سے مریض کو دیگر فیزیکل بیماریاں بھی لگی ہیں۔ وہ انتہائی کمزور ہوچکا ہے۔ اس لئے پہلے فیزیشن سے اس کا علاج لازمی ہے جس کے بعد اس کے دماغی امراض کا علاج بھی کیا جائے گا۔
