چیف ایڈیٹر : فیاض ظفر
ایڈیٹر : امجد صحاب
ریزیڈنٹ ایڈیٹر: عطااللہ خان بابا
Swat

سوات، 813 ملین روپے کی لاگت سے زیرِ تعمیر جیل نے کام کا آغاز کردیا

(باخبر سوات ڈاٹ کام)وزیر اعلیٰ محمود خان کی خصوصی دلچسپی سے813 ملین روپے لاگت سے زیرِ تعمیر صوبے کی اے کلاس ڈسٹرکٹ جیل سوات نے کام کا آغاز کردیا، جس کا افتتاح وزیر اعلیٰ خود کریں گے۔ جیل کے سپرنٹنڈنٹ محمد ایوب باچا نے باخبر سوات ڈاٹ کام کو بتایا کہ 8 اکتوبر 2005ء کے زلزلے میں ریاستِ سوات دور کی اس جیل کو نقصان پہنچا تھا۔ وزیر اعلیٰ محمود خان کی خصوصی دلچسپی سے اس جیل کے ایک حصے کا کام مکمل ہوگیا ہے جس میں اس وقت 660 مرداور 30 کے قریب خواتین قیدی موجود ہیں۔ جیل کی تعمیر سے پہلے ان قیدیوں کو بونیر یا تیمرگرہ جیل میں رکھا جاتا تھا۔ سوات جیل اس وقت صوبے کی اے کلاس جیل ہے، جہاں صفائی کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔ جیل میں قیدیوں کو اعلیٰ کونگ آئل اور ملک کے بہترین مسالوں میں صاف ستھرا کھانا فراہم کیا جاتا ہے۔ قیدیوں کو صبح ناشتہ میں انڈا پراٹھا اور کھانے میں آلو گوشت، گوشت چاول، مرغی، دال اور معیاری کھانے دئے جاتے ہیں،جن کا باقاعدہ معائنہ کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب جیل میں بزرگ قیدیوں کو خصوصی بارک دیا جائے گا، جس میں ان کو چارپائیوں سمیت خدمت گار بھی دئے جائیں گے۔ مرد قیدیوں کو مختلف ہنر سکھائے جائیں گے۔ خواتین قیدیوں کو سلائی کڑائی، خواتین کے زیرِ استعمال مختلف کریم اور بیوٹی پالر کے کورس کرائے جائیں گے، تاکہ قیدی باہر جاکر اچھے انسان بن سکیں اور محنت کرکے حلال روزی کما سکیں۔ سوات جیل میں تعمیراتی کام فنڈز کی موجودگی کے باوجود سست رفتاری سے جاری ہے، جس کی وجہ سے قیدیوں اور عملے کو مشکلات کا سامنا ہے۔ خواتین کے لئے عمارت تعمیر نہ ہونے کی وجہ سے ان کو مردوں کی جیل کے ایک الگ بارک میں رکھا گیا ہے۔ جیل کے سیکورٹی واچ ٹاؤر تا حال تعمیر نہ ہوسکے جس کی وجہ سے سیکورٹی مکمل طور پر نہیں ہورہی۔ جیل کالونی تاحال تعمیر نہ ہوسکی جس کی وجہ سے جیل سٹاف باہر کرایہ کی عمارتوں میں رہائش پذیر ہے۔سوات کے اے کاس جیل میں سیکورٹی کے انتظامات تا حال مکمل نہ ہوسکے۔ جیل میں 660 قیدیوں اور جیل کی سیکورٹی کے لئے صرف60 اہلکار چوبیس گھنٹے ڈیوٹی کے لئے تعینات ہیں۔ تیس سے زیادہ خواتین کے لئے صرف تین خواتین اہلکار ہیں۔ تعمیراتی کاموں کے ٹھیکیداروں نے ابھی تک سی سی ٹی وی کیمرے نہیں لگائے۔ جیل میں کوئی واک تھرو گیٹ نہیں جس کی وجہ سے اس اہم اوراے کلاس جیل کی سیکورٹی پر سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔ جیل میں مریضوں کو ہسپتال پہنچانے کے لئے ایمبولینس اور پولیس اہلکار نہیں۔ ایمرجنسی میں پولیس لائن کبل سے گاڑی منگوائی جاتی ہے، جس کے آنے میں کافی وقت لگتا ہے۔

Related posts

نیم حکیم خطرہ جان کے نام سے عطائیوں کے خلاف طبلِ جنگ بج گیا

Ba Khabar Swat

سوات سے تعلق رکھنے والا موٹروے پولیس افسر حادثہ میں جاں بحق

Ba Khabar Swat

جی او سی ملاکنڈ ڈویژن کی ہدایت پر تقریری مقابلوں کا انعقاد

Ba Khabar Swat

Leave a Comment