روح الامین نایابکالم

فنکار نہ مری (تبصرہ) کالم روح الامین نایابؔ

’’فنکارنہ مری‘‘ یعنی فنکار نہیں مرتا، یہ پشتو زبان کے شاعر، مصنف، دانشور، محقق اور ریڈیو پاکستان پشاور کے سٹیشن ڈائریکٹر لائق زادہ لائق کی لکھی ہوئی ایک تحقیقی اور تاریخی کتاب ہے۔ اس کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے مجھے پہلی بار کالم کی تنگی دامن کا احساس ہورہا ہے، لیکن بحیثیت ایک پشتون کالم نگار کے میں اپنا یہ فرض سمجھتا ہوں کہ مختصر سہی، مگر لکھنا واجب ہے۔
قارئین کرام ! کیا آپ لوگ جانتے ہیں کہ پشتو زبان کا پہلا گانا کس نے ریکارڈ کرایا؟ مرغز کے اُستاد صحبت خان کو کس نے مار ڈالا؟ میرمن چشتی چمن جان کون تھی؟ عبداللہ جان اُستاد کی مادری زبان کون سی تھی؟ اُستاد سبز علی خان کیسے وفات پاگئے؟ استاد احمد خان کیسے فنکار بنے؟ میرمن گلنار بیگم کا اصل نام کیا تھا؟ میرمن کشور سلطان کس کی بیٹی تھی؟ اُستاد رفیق شنوارے کہاں کے رہنے والے تھے اور استاد فضل ربی آف طورو کون سا ساز بجاتے تھے؟
اس کتاب میں ہر پشتون کو اپنی پشتو موسیقی، موسیقاروں، فنکاروں اور گلوکاروں کی مکمل تاریخ مل جائے گی۔ ہر فنکار کی ذاتی حالات زندگی سے لے کر فنکار بننے کی عجیب و غریب داستان اور زندگی کے آخری ایامِ کے حسرت ناک اور دردناک لمحات کو ایسے خوبصورت اور دلچسپ پیرائے میں بیان کیا گیا ہے کہ قاری لمحہ بھر کے لیے بھی مصنف کی گرفت سے نہیں نکل سکتا۔
قارئین، ’’فنکار نہ مری‘‘ پرانے ہر دلعزیز فنکاروں کی معلومات کا گویا ایک خزانہ ہے۔ اس خزانے کو ڈھونڈنے کے لیے لائق زادہ لائقؔ نے پورے پختونخوا کا کونا کونا چھان مارا۔ بے پناہ محنت کی۔ اس تلاش میں بے شمار فنکاروں کے قبروں کو چوما۔ اُن کی اولاد کو پیار کیا۔ اُن فنکاروں کی حالت زندگی کو ٹوٹے ہوئے آئینے کی کرچیوں کی طرح چن چن کر اکٹھا کیا۔ اس میں لائقؔ صاحب کی انگلیاں لہولہان ہوئی ہوں گی، لیکن اپنی دُھن کا پکا یہ دیوانہ اُس وقت تک ہر گلی کی خاک اور ہر ’’انغری‘‘ کی راکھ چھانتا رہا، جب تک ان ہیروں کی تلاش مکمل نہ ہوئی۔
قارئین کرام! ہمارے پختونوں کا المیہ یہ ہے کہ ہمارا فنکار جب جوبن پر ہوتا ہے، تو وہ ہمارے دلوں پر راج کرتا ہے۔ ہم اُس کے آگے پیچھے چلتے ہیں۔ اُس کے قریب ہونے پر فخر محسوس کرتے ہیں، لیکن جب وہ بوڑھا یا بیمار ہوجاتا ہے، تو ہم اُسے بھول جاتے ہیں۔ نئے فنکاروں اور نغموں میں کھوجاتے ہیں۔ ہم اتنے بے حس ہوجاتے ہیں کہ ہمارے کئی فنکار بے کسی اور تنگ دستی میں مرجاتے ہیں اور ہمیں پتا تک نہیں چلتا۔ یہ پرانے گمشدہ اور گمنام فنکار اصل میں ہمارا سرمایہ ہیں، اثاثہ ہیں پشتون قام کا، ہمارا فخر ہیں۔ یہ ہماری تاریخ ہیں اور جو قوم اپنا سرمایہ، اپنا اثاثہ گم کردے، اپنی تاریخ بھول جائے، کیا وہ قوم زندہ رہ سکتی ہے؟ اُس کی تہذیب و تمدن پھل پھول سکتی ہے؟
لائق زادہ لائقؔ صاحب نے واقعی اپنے لائق ہونے کا ثبوت دے دیا ہے۔ اس کتاب کو اڑتالیس فنکاروں کے حالات زندگی سے مزین کیا گیا ہے۔ لائقؔ صاحب نے اور بھی بہت سی کتابیں لکھی ہوں گی، لیکن یہ کتاب اپنی نوعیت کی نہ صرف انوکھی تخلیق ہے بلکہ یہ ایک شاہکار ہے۔ یہ پشتو ادب کی خدمت کی ایک روشن مینار ہے۔ اسے لائق زادہ لائقؔ نے اپنے لہو سے ایسے رقم کیا ہے کہ یہ تاریخ کے اوراق میں ہمیشہ زندہ رہے گی۔
قارئین کرام، اس کتاب میں مزے کی بات یہ ہے کہ مرد فنکاروں کے ساتھ ساتھ خواتین کو کو بھی برابر کی اہمیت دی گئی ہے جیسے میرمن چشتی چمن جان، میرمن مہر النسا، میرمن حبیب جان، میرمن رحمت دلبر جان، میرمن نذیر جان، میرمن صوبہ جان، خانم جان، میرمن گوہر جان، میرمن روشن زری، میرمن گوہر بیگم، میرمن گلزار بیگم، میرمن کشور سلطان، میرمن گلنار بیگم اور میرمن نگار سلطان قابل ذکر ہیں۔
کتاب کا انتساب اُن بھولی بسری آوازوں کے نام ہے جس کی گونج میں ہماری تہذیب کے تمام رنگ جیسے کل تھے، ویسے آج بھی زندہ ہیں۔ دوسو ستتر صفحات کی اس کتاب میں بعض فنکاروں کی نایاب تصاویر بھی ہیں۔ ان تصاویر میں ریکارڈ گھمانے والے پرانے ’’باجے‘‘ بھی ہیں۔ کالے گول ریکارڈ بھی ہیں۔ جو سوئی کے نیچے آکر خوبصورت نغمے فضاؤں میں بکھیرتے تھے۔
زیر تبصرہ کتاب پر لائق زادہ لائقؔ کی اپنی گزارش کے علاوہ حاجی محمد اسلم، نثار محمد خان، ولایت خان ترکئی بھی اپنے خیالات کو ضبطِ تحریر میں لائے ہیں۔ خاص کر ڈائریکٹر (ریٹائرڈ) ریڈیو پاکستان جناب نثار محمد خان کے خیالات ’’سوری او ستوری‘‘ پڑھنے کے قابل ہے۔ انہوں نے چند صفحات میں پشتو موسیقاروں اور فنکاروں کی تاریخ ایسے انداز میں بیان کی ہے جس میں دلسوزی بھی ہے اور آنسوؤں کی لڑیاں بھی۔
محترم ولایت خان ترکئی مبارک باد کے مستحق ہیں جنہوں نے ایک اچھی کتاب کی چھپائی کی پوری ذمہ داری خندہ پیشانی سے قبول کی۔ اُس کی یہ قربانی رائیگاں نہیں جائے گی۔ دراصل یہ کتاب ’’فنکار نہ مری‘‘ لائق زادہ لائق اور ولایت خان کی پوری پختون قوم پر ایک طرح سے احسان ہے۔
میں اس انوکھی تخلیق پر لائق زادہ لائقؔ اور اُس کے معاونین کو دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ میں ہر پختون کو یہ مشورہ دوں گا کہ وہ یہ کتاب ضرور پڑھے۔ یہ ہر پشتو شاعر، ادیب اور فنکار پر احسان ہے۔ اس سے نئے فنکاروں کے حوصلے بڑھیں گے۔ ہر فنکار کی امیدیں بندھیں گی۔کیوں کہ وہ گم شدہ بھولے بسرے فنکار آج تاریخ کے صفحات میں زندہ ہوگئے ہیں اور یہ بے شک لائق زادہ لائقؔ کا ایک عظیم کارنامہ ہے۔
قارئین، اس خوبصورت مجلد کتاب کی قیمت صرف 300 روپے ہے، لیکن لائقؔ صاحب کی کاوش کے مقابلے میں یہ قیمت کچھ بھی نہیں۔ آخر میں یہی دعا ہے کہ خدا وندِ کریم لائق زادہ لائقؔ کو زندہ سلامت رکھیں، کیوں کہ وہ جتنا زندہ رہیں گے، پشتو زبان و ادب کی خدمت کرتے رہیں گے۔
قارئین، جاتے جاتے کتاب کے سرورق پر درج شعر کے ساتھ اجازت چاہوں گا ، عرض ہے کہ
فنکار مڑ شی ولی فن ئی بیا ژوندے کڑی
دا د فن معجزہ سومرہ عجیبہ دہ

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں