فياض ظفرکالم

نئے وزیر اعلیٰ سے عوام کی توقعات

سوات اور ملاکنڈ ڈویژن کے عوام کو کوئی توقع نہیں تھی کہ کبھی اس ضلع یا ڈویژن کا وزیر اعلیٰ بھی آئے گا اور سوات ، ملاکنڈ ڈویژن کے عوام کی احساس محرومی کو دور کرے گا ۔ گذشتہ روز سوات کے نو منتخب ایک درویش ایم پی اے محمود خان کی وزیر اعلیٰ خیبر پختون خواہ کی نامزدگی پر سوات کی ہر سیاسی جماعت اور عوام کو بہت خوشی ہوئی ۔ مختلف سیاسی جماعتوں کے سابق امیدواروں اور ضلعی عہدیداروں سے جب میری بات ہوئی، تو انہوں نے بھی محمود خان کی نامزدگی پر خوشی کا اظہار کیا ۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ محمود خان کی شخصیت کی وجہ سے ہر طبقۂ فکر کے لوگ ان کی نامزدگی پر خوش ہے ۔ اس سے پہلے جنوبی اضلاع ، پشاور ، چارسدہ، مردان ، نوشہرہ اور ہزارہ سے جو وزرائے اعلیٰ منتخب ہوئے، انہوں نے اپنے اضلاع کا حلیہ ہی بدل دیا ۔جو ہم بنوں ، نوشہرہ ، پشاور ، چارسدہ یا ایبٹ آباد کی شکل میں دیکھ سکتے ہیں ۔اور اب شورش ، سیلاب سے انتہائی متاثرہ ضلع سوات سے وزیر اعلیٰ کے انتخاب کے بعد محمود خان سے سوات کے لوگوں نے بہت ساری توقعات وابستہ کر رکھی ہیں ۔
سوات، جو پاکستان کا سب سے بڑا سیاحتی علاقہ ہے اور یہاں کی سب سے بڑی صنعت سیاحت کے شعبہ سے وابستہ ہے۔ اس لئے سب سے پہلے سوات سے تعلق رکھنے والے وزیر اعلیٰ کو سوات کی سڑکوں کی حالت بہتر بنانے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر کام کرنا ہوگا ۔ کرنل شیر خان انٹر چینج سے چکدرہ تک سوات ایکسپریس وے کو جلد مکمل کرنے کے بعد اس ایکسپریس وے کو موٹر وے میں تبدیل کرکے تین لین کرنا ہوگا۔ تاکہ کم وقت اور محفوظ سفر میں مالاکنڈ ڈویژن کے لوگ اور سیاح بہ آسانی سوات پہنچ سکیں ۔ چکدرہ سے مدین تک سعودی حکومت کے مالی تعاؤن سے بننے والی سڑک کو دو رویہ کرنا ہوگا تاکہ اس سڑک پر لوگ بہ آسانی مینگورہ اور دیگر علاقوں تک پہنچ سکیں ۔ سالنڈہ سے مالام جبہ کی سڑک جو صوبائی حکومت بنارہی ہے، اس سڑک کو جلد از جلد تکمیل تک پہنچانا اور برف باری کے دوران اس سڑک کو ٹریفک کے لئے کھولنا بھی نئے وزیر اعلیٰ کے لئے چیلنج ہوگا ۔ اس وقت جب وفاق اور صوبے، دونوں میں تحریک انصاف کی حکومت ہوگی، اس لئے ملنسارنامزد وزیر اعلیٰ محمود خان کو این ایچ سے بات کرکے کالام تک کی سڑک کو جلد از جلد مکمل کرنا ہوگا ۔ کالام سے مہو ڈنڈ اور قریبی سیاحتی علاقوں تک جانے والی سڑکوں کی تعمیر بھی محمود خان کی ذمہ داری ہوگی ۔ اس طرح سوات کے دیگر خوبصورت اور پرفضا مقامات گبینہ جبہ ، جاروگو آبشار ، شنگر دار آبشار اور دیگر جھیلوں تک اگر محمود خان نے سڑکوں کا جال بچھا دیا، تو اس سے سوات کی سیاحت سال کے بارہ ماہ رواں دواں رہے گی۔ جس کی وجہ سے لوگوں کو روزگار کے مواقع ملیں گے اور لوگوں کی معیشت بہتر ہوگی۔اس طرح جامبیل کوکارئی کی سڑک جو انتہائی خراب حالت میں ہے اور کوکارئی گاؤں سے نامزد وزیر اعلیٰ کا ایک خاص رشتہ بھی تعلق رکھتا ہے، اس لئے توقع کی جارہی ہے کہ وزیر اعلیٰ حلف اٹھانے کے بعد اس سڑک کے لئے فنڈریلز کریں گے ۔ سوات میں ایم ایم اے دور کے ایم پی اے محمد امین نے بارہ سو بستروں پر مشتمل سیدو شریف تدریسی ہسپتال کا سنگ بنیاد رکھا تھا۔ جس کے فیز 1میں عمارت مکمل ہوچکی ہے لیکن سامان اور سٹاف کی کمی کی وجہ سے عمارت بند ہے اور خراب ہورہی ہے۔ اس لئے وزیر اعلیٰ منتخب ہونے کے بعد وہ اس ہسپتال کے پہلے فیز کے لئے سامان اور عملہ تعینات کریں گے اور عوام کو امید ہے کہ وزیر اعلیٰ صاحب فیز 2پر بھی کام کا آغاز کرکے اس کا افتتاح اپنے دست مبارک سے اپنے ہی دور حکومت میں کریں گے ۔ اس طرح سوات کے باقی علاقوں کے ہسپتالوں اور بنیادی مراکزِ صحت کی اپ گریڈیشن کریں گے تاکہ مریضوں کو ان کی دہلیز پر بنیادی سہولیات میسر ہوسکیں ۔ سوات میں اس وقت سب سے بڑا مسئلہ لوڈ شیڈنگ کا ہے ۔ وزیر اعظم کے سابق مشیر امیر مقام نے سوات میں لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے لئے کچھ عملی اقدامات کئے تھے جن میں تھانہ ملاکنڈ کا گریڈ سٹیشن اور سوات تک نئی لائن بچھانے کا کام شامل ہے۔اگر مینگورہ کے گریڈ سٹیشن سمیت سوات کے تمام گریڈ سٹیشنوں کی اپ گریڈیشن کی جائے، تو سوات میں لوڈشیڈنگ نہ ہونے کی برابر ہو جائے گی اور اس کا سہرا امیر مقام اور محمود خان کے سر سجے گا ۔ مینگورہ شہر سمیت سوات کے بیشتر علاقوں میں پینے کے صاف پانی کا بھی بڑا گھمبیر مسئلہ ہے۔ امید کی جارہی ہے کہ نئے وزیر اعلیٰ یہ مسئلہ بھی حل کرکے ایک نئی تاریخ رقم کریں گے ۔ اس طرح مینگورہ شہر میں ٹریفک کا مسئلہ حل کرنے میں بھی وہ خصوصی دلچسپی لے کر ان مسائل کو حل کریں گے ۔ وزیر اعلیٰ سے سوا ت کے عوام کی توقعات بہت ہیں اور ان میں ایک یہ بھی ہے کہ وہ سوات ٹوور اِزم ڈویلپمنٹ کے نام سے ایک نیا محکمہ قائم کریں گے جو صرف اور صرف سوات کی سیاحت پر توجہ دے گا اور سوات میں سیاحت کو فروغ دے گا ۔ نئے وزیر اعلیٰ سے یہ بھی توقع ہے کہ وہ سوات میں قابل ، ایماندار ، فرض شناس اور دیانت دار افسروں کا تقرر کریں گے اور ان سے ماہانہ کی بنیاد پر رپورٹ طلب کریں گے۔اگر انہوں نے ایسا کیا تو سوات کے بہت سارے مسائل حل ہو جائیں گے اور سوات کے لوگ محمود خان صاحب کو والئی سوات کی طرح ہمیشہ اچھے الفاظ میں یاد کریں گے۔ آئندہ نسلیں بھی محمود خان کا نام والئی سوات کی طرح یاد کریں گی ۔
سوات کے عوام کی دعا ہے کہ محمود خان صاحب سوات کے عوام کی توقعات پر پورا اتریں اور ان کو شورش ، سیلاب اور نظر انداز ہونے کی وجہ سے متاثرہ یتیم و بے آسرا لوگوں کے مسائل حل کرنے کا موقع دیں ، آمین صم آمین ۔

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں