ساجد امانکالم

ون مین آرمی ’’فیاض ظفر‘‘

یہ 2009ء کے ظالم طویل دن تھے، جن میں ایک ایک لمحہ گھنٹے جتنا لمبا محسوس ہوتا تھا۔ سوات میں قانون نامی شے کا وجود نہیں تھا۔ ریاست سرنگوں تھی۔ مولانا صوفی محمد کو ریاست نے زمین پر ناک رگڑ کر باعزت رہا کیا تھا۔ سید طلعت حسین صاحب سے شناسائی کے لیے کئی حوالے تھے۔ کچھ چکوال کے دوست اُن پر فخر کرتے تھے۔ کچھ بہاولپوریے دوست اُن کے لہجے اور تلفظ میں نکھار کو بہاولپور کی تربیت کہتے تھے۔ کچھ اُن کے پڑھے لکھے خاندان خاص کر بھائی اور دانش ور، پروفیسر و نقاد کی تربیت کا تراشیدہ ہیرا کہتے تھے۔ کچھ کتاب دوست لاہور کے مال روڑ پر اُن کی کتابوں سے عقیدت ان کے زیرک ہونے کی نشانی گردانتے۔
مَیں ذاتی طور پر سید طلعت حسین صاحب کے طرزِ بیاں کا بڑا قائل تھا۔ بلاشبہ ٹی وی کے سنجیدہ پروگراموں کی میزبانی کو اُنھوں نے نیا رُخ دیا اور مقصدیت کا عنصر اُجاگر کیا۔ مزید اُن کا سیاسی مسخرے پن سے متاثر ہوئے بغیر پیشہ ور رہنا میرے لیے اُن سے عقیدت کی بڑی وجہ بنا۔
یہ اپریل 2009ء کے ایک اتوار کی بات ہے، اتفاق سے مَیں سوات میں تھا۔ گراسی گراؤنڈ میرے گھر سے چند قدم کے فاصلے پر ہے۔ اسی گراؤنڈ میں ایک ریاستی باغی کو حکومت کی وکالت کرنے لایا گیا تھا۔ ملکی میڈیا نے بھرپور کوریج کا اہتمام کیا تھا۔ خود ’’آج ٹی وی‘‘ سے طلعت صاحب اور نصرت صاحب بھی تشریف لائے تھے۔ سیدوں کے ساتھ نوخیز فیاض ظفر بھی کھڑا تھا، مجھے اُس پر رشک آ رہا تھا۔ اس یقین کے ساتھ کہ ایسے لوگوں کی تربیت میں فیاض ظفر کی گرومنگ بہت اعلا ہوگی اور وہ مستقبل میں اہلِ سوات کی آواز بنے گا۔
مولانا صوفی محمد کے مایوس کن خطاب اور کردار نے ریاستی بیانیے کو غرق کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ جو وکالت کرنے آیا تھا، وہ باغیانہ تنقید کرکے چلا گیا۔ میری سیدوں کے ساتھ علیک سلیک ہوئی، مگر فیاض ظفر نے مجھے قطعی نظر انداز کیا اور کرنا بھی چاہیے تھا۔ وہ اُس وقت مجھے نہیں جانتا تھا۔ مَیں بھی ایک غیر اہم شخص کے طور پر جلسے کا حصہ تھا۔ مجھے یاد ہے وہ جلسے کے خاتمے کے وقت پُل کی طرف بھاگ رہا تھا، تاکہ پارک کی ہوئی گاڑی نکال سکے (شاید)۔ تب طلعت حسین صاحب نے یہ جملہ کہا، ’’اللہ تعالا اس خطے اور لوگوں کی حفاظت کرے، اپنا خیال رکھیں……!‘‘ اور چل دیے۔
طلعت صاحب کے الفاظ میں نااُمیدی، بے چارگی، دُکھ اور بے بسی مجھے اور بھی ’’ڈی پریس‘‘ کرگئی۔ بہ ظاہر وہ مسکرا کر الوداع کہتے ہوئے شاید یہ جملہ رسمی طور پر کَہ گئے تھے۔ مجھے اُن کے جاتے ہوئے ہاتھ ہلانا یوں لگا جیسے وہ ایک ڈوبتی ہوئی کشتی سے اُتر رہے ہوں۔ شاید اُن کو گمان تھا کہ وہ سب کچھ اس طرح دوبارہ سلامت دیکھ نہیں پائیں گے۔
صوفی محمد کا جلسہ واقعی مایوس کن تھا۔ بیچ میں طالبان کی نعرے بازی سونے پر سہاگا ثابت ہوئی۔ ریاست اور ڈیپ سٹیٹ پالیسی حلق میں اٹک کر رہ گئی تھی۔ فائر بیک بہت بھیانک تھا۔ وہ مجموعی طور پر ایک مایوس دن تھا۔ سوات کے لیے حکومت نے ایک ناکام پتا کھیلا تھا۔
اس دوران میں فیاض ظفر نے کئی پروگرام بہ راہِ راست منعقد کروائے، جن میں طلعت حسین صاحب میزبان ہوتے اور پروگرام سوات سے بہ راہ راست ٹیلی کاسٹ ہوتے۔ سید صاحب سٹوڈیو سے میزبانی کرتے۔
قارئین! جب کبھی میرا سوات آنا ہوتا، فیاض ظفر سے رسمی بات چیت ہوجایا کرتی۔ شام کو سیرینا ہوٹل کے ہیلتھ اینڈ فٹنس سنٹر جاتا۔ زیادہ لمبی بات نہ ہوتی، مگر صاحب سلامت کا سلسلہ چلتا رہتا۔ وہ شاید مستقل طور پر فٹنس سنٹر آتے تھے۔ مَیں اُن میں طلعت حسین صاحب کی شبیہہ دیکھتا اور اس کے احترام کی واحد وجہ وہ شمع تھی، جو میرے خیال میں مستقبلِ قریب میں روشنی دینے والی تھی۔ فیاض ظفر صاحب نے ہر قدم پر ثابت کیا کہ میرا مشاہدہ ٹھیک تھا۔
دوسری طرف سوات کی صحافتی اقدار اور ثقافت میں چند بڑے مقام والے صحافیوں کے علاوہ کچھ بونے اور پستہ قد صحافیوں کے غول بھی سر اٹھاتے رہے۔
فیاض ظفر ایک درخشندہ ستارے اور توانا آواز کی طرح ہمیشہ ممتاز رہا۔ ایک صحافی کے طور پر بے باک اور تونا آواز جس نے طاقت کے ایوانوں کی قلعی کھول کر رکھ دی۔ عام آدمی کا کوئی سوال، ذہن میں کوئی شک یا شبہ واضح موقف کے ساتھ حکم رانوں اور طاقت ور ایوانوں میں پیش کیا۔ سپہ گردی ہو، یا پولیس گردی…… فیاض نے آواز بلند کی۔ دہشت گردوں نے سر اُٹھایا، تو فیاض نے آواز بلند کی۔ نتیجتاً سوات کی سڑکوں پر لاکھوں انسان غول در غول اُمنڈ آئے۔ مملکتِ خداداد میں شاید پہلی بار ایسا ہوا کہ گولی کے مقابلے میں دلیل جیت گئی۔ عوام کی شعوری سطح بلند ہوئی۔ یہ کام ’’ون مین آرمی‘‘ فیاض ظفر نے انجام دیا۔
اس طرح ’’سوات اولسی پاسون‘‘ یا دیگر شعوری تحاریک کو جلا فیاض نے بخشی۔ فیاض نے احتساب کے لیے نعرہ بلند کیا، تو وہ زبان زدِ عام ہوا۔ آئس اور منشیات کے پھیلاو کے خلاف فیاض ڈٹ گیا، تو معاشرہ اُس کی پشت پر کھڑا ہوگیا۔ سوات میں عسکریت پسندی کے خلاف اجتماعی شعور کی پرورش اور حوصلہ افزائی فیاض کی وجہ سے ممکن ہوئی۔ جہاں خوف کے سائے تھے، فیاض نے خوف کے ہر بت کو ریزہ ریزہ کرنے کی سعی کی۔ فیاض وہ واحد صحافی ہے، جسے ہر مکتبہ فکر کی غیر مشروط حمایت، عزت اور محبت حاصل ہے۔
کرپٹ، سماج دشمن عناصر، منشیات فروشوں، قبضہ مافیا اور دہشت گردوں کے خلاف ایک موثر آواز کو ہمارے جیسے معاشروں میں کیسے برداشت کیا جاسکتا ہے؟ اس لیے سماج دشمن عناصر نے چن چن کر کچھ گرے ہوئے، بدبودار اور بے کردار عناصر، گندے انڈوں کی طرح اکھٹے کیے اور فیاض کے اُجلے دامن پر دے مارے۔ وہ جو نکاس کے گندے نالے میں پرورش پانے والے حشرات اور کیڑے مکوڑے تھے، اُنھوں نے اپنی بہت کم قیمت لگا کر فیاض کے خلاف محاذ بنالیا۔ مذکورہ بونوں نے اپنا قد بڑھانے کے لیے سرکس کے مسخروں کا کردار ادا کیا۔ مذکورہ مسخروں کا شجرہ یہ شہر جانتا تھا، اُن بونوں کے شور سے فیاض کا کیا نقصان ہونا تھا، شہر ایک طرف اور گند دوسری طرف نظر آنے لگا۔ مذکورہ بونے ایک طرف سے فیاض پر بھونکتے، تو دوسری طرف سے عام عوام اُن بونوں پر لعنت ملامت شروع کرتے۔ ضمیر فروشوں کے پاس عزت ہوتی ہے، نہ غیرت۔ بس پیسے کا لالچ ہوتا ہے۔ یوں ایک قومی ہیرو پر لعن طعن کرنے والے سرکس کے مسخرے بن کر شہر میں گھومنے لگے۔
قارئین! فیاض ظفر جیسے علم دوست، ادب شناس، انسانیت پرست، بلند آواز اور عالی مرتبہ شخصیات کم ہی معاشرے پیدا کرتی ہیں۔ پورے مینگورہ شہر میں فیاض ظفر ایک ایسا صحافی ہے، جس کو قومی سطح پر پیش کرکے سر فخر سے بلند کیا جاسکتا ہے۔ ان کی قومی و بین الاقوامی اداروں کے لیے رپورٹنگ اور پروگرام اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کے نام سے شائع شدہ مواد نظر کھینچ لیتا ہے۔
مینگورہ شہر کے صحافتی اودھم میں کچھ اعلا پائے کے صحافیوں کی موجودگی ہے، مگر وہ یا تو معاشی مجبوریوں یا مسلسل جد و جہد کے بعد اتنے پُرجوش نہیں رہے، مگر ان کا مقام شہر کی نظر میں ایک عام سے صحافی سے بڑھ کر اہلِ دانش کی فہرست میں بھی آتا ہے۔ کچھ ایسے پیشہ ور صحافی بھی ہیں، جنھوں نے سفید پوشی کا بھرم مشکل قائم رکھا ہے، مگر خوشامد، چاپلوسی، نذرانوں اور قلم فروشی کے دھندے میں نہیں گئے۔ کچھ یوں ہیں کہ دہائیوں سے صحافتی خدمات انجام دیتے ہوئے بھی مشکل سے پیٹ کی آگ بجھا پاتے ہیں اور کرائے کے مکانوں میں رہایش پذیر ہیں۔باقی ماندہ اُن آکاس بیلوں یا خودرو جھاڑیوں کی طرح ہیں، جو ایمان کب کا بیچ چکے، ایمان داری کے معنی اُنھیں معلوم نہیں، ان کا عزت و غیرت سے دور کا تعلق نہیں۔ حکم رانوں کے سوشل میڈیائی پیچ چلانے، اُن کی وکالت کرنے، کرپٹ اور بدعنوان افراد کی چاکری کرنے کو مزدوری سمجھتے ہیں۔ اس غیر صحت مند، غیر پیشہ ورانہ ماحول میں فیاض اور دوسرے باضمیر صحافیوں کی موجودگی بتا رہی ہے کہ ذاتِ باری ابھی تک اس معاشرے سے مایوس نہیں ہوئی۔
کچھ لوگوں کے پاس مادی معنوں میں عہدے بھی ہیں، پیسے بھی…… مگر اُن کی کوئی وقعت نہیں۔ اُن پر معاشرے کو کچھ اعتماد نہیں۔
فیاض کی معمول کی پیشہ ورانہ ذمے داریاں تو ہیں، اس میں اس کا مختلف اور منفرد انداز ہے، لیکن دہشت گردوں کا سوات میں دوبارہ داخلہ، فورسز کا ہر ماورائے عدالت عمل، پولیس کا اختیارات سے تجاوز، منشیات فروشی، کرپشن، قبضہ مافیا، پولیس کے اختیارات کی منتقلی، قومی ورثہ کی حفاظت، یا چاہے ماحولیات پر بات ہو، جنگلات کی بے دریغ کٹائی ہو یا قومی اتحاد کی ضرورت، پشتون لیڈرشپ کا گھیراو کرنے کی ریاستی پالیسی ہو یا پشتون دانش وروں، شاعروں، ادیبوں اور روشن خیالوں کا تاریک راہوں میں قتل…… ایک مزاحمتی آواز ’’فیاض ظفر‘‘ ہے جو خود بھی اُٹھ کر آواز بلند کرتا ہے اور اس کی تقلید میں ہر سیاسی نظریات والا یک زباں ہوکر مزاحمت کی علامت بن جاتا ہے۔
فیاض ظفر ایک عظیم ماں کی آغوش میں پلا بڑھا ہے۔ ہر محب وطن اس کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہے۔
جاتے جاتے میری بس یہی دعا ہے کہ شہر نے اُس کو جتنا پیار اور محبت دی ہے، اُس میں ہزار گنا اضافہ ہو اور سوات کی تاریخ میں فیاض ظفر کا نام ’’ون مین آرمی‘‘ کے طور پر درج ہو، آمین!

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں