سوات (باخبرسوات ڈاٹ کام) سوات سمیت ملاکنڈ ڈویژن کے تمام اضلاع میں وکلا نے ہڑتال کی اور عدالتوں کا بائیکاٹ کیا۔ پشاور ہائی کورٹ مینگورہ بنچ بار کے صدر عبدالعلیم اور سوات بار کے صدر اختر منیر کے مطابق حکومت نے ضابطہ دیوانی قوانین میں ترامیم کی ہیں جس میں وکلا سے رائے نہیں لی گئی۔ اس عمل کے خلاف ڈویژن بھر کے وکلا نے احتجاجاً ہڑتال کی۔ ہڑتال کی وجہ سے وکلا ہائی کورٹ اور دیگر عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے۔ وکلا تنظیموں کے مطابق حکومت کو ترامیم کا حق ہے لیکن اس میں وکلا تنظیموں سے رائے لینا ضروری ہے۔ کیوں کہ وکلا کو ٹرائل میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
