ایڈووکیٹ نصیراللہ خانکالم

وقت کا صحیح استعمال

ایک کہاوت ہے ’’جو بووگے وہی کاٹو گے۔‘‘ یہی کہاوت ایک فرد اور قوم دونوں کی زندگیوں پر صادق آتی ہے۔ وقت کا درست اور غلط استعمال اپنے بھر پور پور نتائج پیدا کرتا رہتا ہے۔ جب وقت کے ساتھ وسائل مینجمنٹ، اصول، متعین ہدف اور تنظیم صحیح ہو، تو اس کے نتائج سامنے آنے کے ساتھ ساتھ وقت کی بچت بھی ہوتی ہے۔ حالاں کہ وقت کا کوئی نعم البدل نہیں، جب یہ ایک دفعہ چلا گیا، تو پھر کبھی واپس ہاتھ نہیں آتا۔ وقت ایک ضروری اکائی ہے۔ لہٰذا آج کی نشست میں کوشش کرتے ہیں کہ اس طرف دیکھا جائے۔ بلکہ میری تو ہر دفعہ یہی کوشش ہوتی ہے کہ ملکی حالات کا ایسا جائزہ پیش کیا جائے کہ جس میں مثبت حالات کا تذکرہ موجود ہو، جس میں امید ہو، مستقبل کا درست نقشہ پیشِ نظر ہو۔ یہ درست ہے کہ مستقبل کا دار و مدار ماضی اور حال کے واقعات پر ہوتا ہے۔ ترقی یافتہ اور پُرامید پاکستان سب کے حق میں ہے۔ خدا نہ کرے لیکن اگر مملکتِ خداداد کے ساتھ کچھ برا ہوتا ہے، تو اس میں کسی کی خیر ہرگز نہیں۔ حتی کہ پڑوسی مملکتوں کو بھی اچھی خبر اور خیر نہیں ملے گی۔ یہاں کی بے چینی اور امن و امان کا بلاواسطہ تعلق وہاں کے امن، معیشت بلکہ سب کچھ کے ساتھ منسلک ہوتا ہے۔ ہم رونا اس لیے شروع کرتے ہیں کہ جو بنیادی آئینی حقوق، آئینِ پاکستان نے دیے ہیں اور جو ساخت ادارتی محکمہ جات کے لیے مقرر ہے، پاکستان میں شائد ہی اس پر عمل ہوتا ہو۔ مذکورہ وقت کے فارمولے کے تناظر میں جب ہم دیکھتے ہیں، تو ماضی کی غلط بوئی ہوئی فصل کو کاٹ رہے ہیں۔ اگر ایک طرف حکومت کی ادارتی تنظیم مملکت کی تنظیم کے لیے کم ہے، تو دوسری طرف یہی تنظیم وسائل کے لحاظ سے بوجھ بن کر کئی گنا زیادہ دکھائی دیتی ہے۔ اس لیے مؤخر الذکر بوجھ کو لے آتے ہوئے، عوامی حقوق متاثر ہوتے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ جب ملک ترقی کرتا ہے اور زرِ مبادلہ کے ذخائر بڑھتے ہیں، تو اس حساب سے ملکی اداروں میں بھرتیاں اور پوسٹنگ کی جاتی ہے۔ معاملہ یہاں مگر الٹا ہے۔ سارا سسٹم ’’ایڈہاکزم‘‘ پر چل رہا ہے۔ مجبوراً کہنا پڑتا ہے، اور پھر نا امیدی لامحالہ سامنے آتی ہے ۔
کیا ہی اچھا ہو اگر اس ملک میں مساویانہ نظامِ حیات ہو۔ اگر اس ملک میں آئین پر عمل ہوتا۔ انصاف کے کمزور اور طاقتور کے لیے الگ الگ پیمانے نہ ہوتے۔ صحت میں درحقیقت انصاف ہوتا۔ تعلیم کا ایک ہی نصاب ترتیب دیا جاتا۔ انصاف غریب اور مالدار کے لیے ایک جیسا ہوتا۔ پانی اور بجلی ہوتی۔ روزگار کے یکساں مواقع ہوتے۔ میرٹ کی عزت ہوتی۔ سب کے لیے گھر اور مناسب رہائش سرکاری طور پر فراہم ہوتی۔ پبلک ٹرانسپورٹ کا بہترین نظام ہوتا۔ زبانوں کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے مادری زبان ایک طرح سے تدریسی زبان مقرر ہوتی۔ کلچر کا تحفظ ہوتا۔ بھرپور مذہبی آزادی ہوتی۔ حقیقی طور پر قانون کے تابع آزادیِ اظہار اور آزادیِ تقریر ہوتی۔ صوبائی اکائیوں کو مکمل اختیارات دیے جاتے۔ ان کے تمام بقایا جات اور رائلٹی ادا ہوتی۔ ادارتی و محکمہ جاتی ڈاؤن سائزنگ ہوتی، تو برا کیا ہوتا؟
مملکتِ پاکستان کی کسی پارٹی کی نیت پر شک کرنا معیوب سمجھتا ہوں، لیکن ہوسِ اقتدار کا نشہ ایسا ہے کہ جو اس کا چسکا ایک دفعہ لیتا ہے، اس کی لت اس کو پڑ جاتی ہے ۔دراصل سیاست دانوں کا کام ہی عوامی خدمت ہوتا ہے اور وہ کسی حد تک یہی امور سرانجام دے رہے ہیں۔ اگر کچھ غلط ہے، تو وہ ایک دوسرے کے ساتھ کھینچا تانی ہے۔اس میں تأمل نہیں کہ سیاست ایک انتہائی پیچیدہ عمل ہے اور اس میں ایک ایک قدم سوچ سمجھ کر رکھا جاتا ہے۔ ذرا سی بھی غلطی کی گنجائش نہیں ہوتی۔ یہ ایک پوری سائنس ہے، جس کو پولی ٹیکل سائنس کہا جاتا ہے۔سائنس اس لحاظ سے بھی کہ جیسے کسی سائنسی کلیے میں رتی برابر غلطی کا امکان نہیں ہوتا، اس طرح اس میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔ اگر ایک طرف سیاست دانوں کے خلوص کی ہم داد دیتے ہیں، تو دوسری طرف بعض اوقات ان کے مثبت وِژن اور مشن کو کوستے رہتے ہیں۔
قارئین، میں سمجھتا ہوں کہ انٹلیکچول فورس اس کی ناگزیر طاقت ہے۔ اس کو ساتھ لینا ہوتا ہے۔ مسلسل عوام کو ابلاغ کے ذریعے باخبر رکھنے کا پروگرام کیا جاتا ہے۔ٹھیک وقت پر کسی بھی کام کی ابتدا اور انتہا نتائج پر اثر انداز ہوتی ہے ۔اس طرح نہیں ہوتا کہ ایک کام شروع کیا اور کل اس کی بجائے دوسرے کام کو ترجیح دی جائے، اور پہلے والے کو کام پس پشت ڈال دیا جائے، یا پھر سرے سے ختم ہی کیا جائے۔
ہوتا یہ ہے کہ جب غلط فیصلے لیے جاتے ہیں، تو اس کے اثرات بھی دوررس ہوتے ہیں اور اس کا اثر پورے قوم پر پڑنے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ معروض کے حالات کے مطابق ایک فرد اور حکومت کو فیصلے لینے کا اختیار قدرت دیتا ہے لیکن اس کے نتائج کا بھرپور انتظام تمام قوانین میں موجود ہے۔ بات سادہ سی ہے۔ اگر آپ کے اخراجات آپ کی بچت سے زیادہ ہیں، تو آپ خسارے کا سودا کر رہے ہیں۔ اس لیے اپنے اخراجات کو کنٹرول کرنا اور اپنی بچت کے لحاظ سے منصوبہ بندی کرنا دانش مندی ہوتی ہے۔ لہٰذا وقت پر فیصلہ کرنا، منزل کی راہ کادرست تعین،زادِ راہ، وسائل،اصول اور تنظیم سے کسی بھی کام کو بخیر وعافیت کیا جاسکتا ہے ۔

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں