Swat

سوات کا سب سے قدیم حجرہ خستہ حالی کا شکار

سوات (باخبر سوات ڈاٹ کام )  حجرہ پختون ثقافت کا امین ادارہ ہے۔ ایک عرصہ تک حجرہ پختون ثقافت کا اہم حصہ رہا ہے لیکن موجودہ دور میں پختونوں میں اس کی روایت روز بروز کم ہوتی جا رہی ہے۔ ایسے وقت میں سوات کے علاقہ شموزئی کے گاؤں خزانہ میں 250 تا 300 سال پرانا حجرہ آج بھی اپنی اصل حالت میں قائم ہے۔ گاؤں خزانہ کایہ حجرہ آج بھی پورے گاؤں کے مل بیٹھنے کی جگہ ہے۔اس میں ہر وقت گاؤں کے لوگ بیٹھتے ہیں۔ حال احوال پوچھتے ہیں اور گاؤں کے غم اور خوشی کی تقریبات اسی حجرہ میں ہوتی ہیں ۔ اہلِ علاقہ کے مطابق یہ حجرہ ریاست سوات کے قیام سے پہلے یہاں بسنے والے قبائل نے تعمیر کیا تھا ۔ حجرہ میں موجود لوگوں کا کہنا تھا کہ گاؤں میں ہر گھر کے ساتھ لوگوں کی ذاتی بیٹھک اور حجرے موجود ہیں، لیکن ظہر اور مغرب کی نماز کے بعد گاؤں کے چھوٹے بڑے اس میں جمع ہوتے ہیں۔ علاقہ کے بزرگ بیماری کی حالت میں بھی کچھ دیر کے لیے ضرور حاضری لگاتے ہیں۔ نیز گاؤں کا بزرگ ہو یا جوان، اگر حجرے میں نہ دیکھا جائے، تو اس کی خیریت اس کے دوستوں سے دریافت کی جاتی ہے۔ اس حجرے کی وجہ سے گاؤں کے لوگوں میں کوئی اختلاف نہیں اور سب مل کر ایک چھت تلے بیٹھتے ہیں ۔ گاؤں خزانہ کا یہ پرانا حجرہ ریاستِ سوات دور سے پہلے تعمیر کیا گیا تھا۔ ریاست کی بنیاد رکھنے کے لئے جرگے بھی اس حجرہ میں ہوتے تھے اور ریاست سوات کے قیام کے بعد اس وقت کی ریاست کے بادشاہ میاں گل عبدالودود المعروف باچا صاحب نے اس حجرہ کو عدالت کا درجہ بھی دیا تھا، جہاں اس وقت کے تحصیلدار علاقہ کے مقدمات کے فیصلے اس حجرہ میں کرتے تھے۔ گاؤں خزانہ کے ایک بزرگ ملیزے ماما نے حجرہ کے حوالے سے کہا کہ اس کو حجرہ کے ساتھ ساتھ عدالت کا درجہ دیا گیا، تو اس وقت حجرہ میں ریاست نے ٹیلی فون بھی لگوایا۔ اس وقت علاقہ کے لوگوں نے ٹیلی فون کے بارے میں سنا تھا اور نہ اس کو دیکھا تھا، جس کی وجہ سے علاقہ کے لوگ اس کو دیکھنے کے لئے حجرہ میں آتے تھے۔ دارالخلافہ سیدو شریف سے کوئی بھی پیغام اس حجرہ میں ٹیلی فون کے ذریعے دیا جاتا تھا ۔ علاقہ کے بزرگوں کے مطابق 1964ء تک ان کے علاقہ میں سکول نہیں تھا۔ ریاست سوات کے بادشاہ نے جب اس علاقہ میں سکول کھولنے کا اعلان کیا، تو اس وقت کے پہلے پرائمری سکول کو بھی اس حجرہ میں کھولا گیا، جہاں علاقہ کے بچے صبح سے دوپہر تک تعلیم حاصل کرتے تھے۔ ایک بزرگ امین خان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس حجرہ میں پہلے سے پانچویں جماعت تک تعلیم حاصل کی اور جب علاقہ میں مڈل سکول تعمیر کیا گیا، تو پھر اس حجرہ کے طلبہ کو اس مڈل سکول میں منتقل کیا گیا۔ سیکڑوں سال پرانا یہ حجرہ اب خستہ حال ہوچکا ہے۔ اس کے کمروں کی دیواریں گر چکی ہیں جس کی وجہ سے حجرے کے کمرے قابل استعمال نہیں رہے۔ اب اہلِ علاقہ حجرہ کے برآمدے میں بیٹھتے ہیں۔ علاقہ کے بزرگوں کا کہنا ہے کہ یہ حجرہ تاریخی ورثہ ہے اور اگر حکومت اس کی ماہرین کے ذریعے پرانی حالت میں مرمت کی جائے، تو یہ تاریخی ورثہ آنے والی نسلوں کے لئے محفوظ رہ سکے گا ۔

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں