سوات (باخبر سوات ڈاٹ کام) سوات کے علاقے تختہ بند میں قائم زرعی تحقیقاتی ادارہ کو قائم ہوئے 55سال سے زائد ہوئے ہیں۔ اس ادارہ کا قیام 60 کی دہائی میں ریاستِ سوات کے دورمیں ہوا تھا۔ 1980ء میں اس ادارہ کو سٹیشن کا درجہ ملا۔ 2007ء میں ایم ایم اے دورِ حکومت نے اس ادارہ کو اَپ گریڈ کرکے اس کو انسٹی ٹیوٹ کا درجہ دیا۔ زرعی تحقیقاتی ادارہ کی اراضی 36 ایکڑ پر مشتمل ہے جس میں اس وقت 8 مختلف سیکشن کام کررہے ہیں، جہاں پر 160 سے زائد اہلکار خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اس انسٹی ٹیوٹ میں گریڈ19 کے 7 اور گریڈ 18 کے 11 افسران زمین داروں کی مدد اور جدید طرز کی تحقیق کررہے ہیں۔ اسی ادارہ نے پھلوں، سبزیوں اور غلوں کے شعبوں میں تحقیقات کرکے مزید 60 اقسام متعارف کرائی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سوات اس وقت پھلوں کا گھر بن چکا ہے جب کہ سبزیوں اور غلہ جات کے میدان میں سوات اور ملاکنڈ ڈویژن کا کوئی ثانی نہیں۔ اس انسٹی ٹیوٹ میں سالانہ ہزاروں زمین داروں کو تربیت بھی دی جاتی ہے۔ آئے روز کئی ایک زمین دار اور کسان اسی انسٹی ٹیوٹ میں آکر ماہرین کی خدمات حاصل کرتے ہیں لیکن اب اس ادارہ کو تالے لگانے کی کوشش کی جارہی ہے۔
