فضل مولا زاہدکالم

یہی ہے رختِ سفر……!

مئی 2020ء کی 5 تاریخ اور 11ویں رمضان المبارک کا پہلا پہر ہے۔ جس بے ڈھنگے سے ہال نما کمرے میں اس وقت ہم تشریف فرما ہیں، یہ پاکستان کی وادی ”سوات“ میں کوکارئی جامبیل روڈ پر واقع ایک بلڈنگ کی دوسری چھت پر ہے۔ یہ سڑک یہاں سے ہوتی ہوئی کوئی 15 کلومیٹر آگے خوبصورت سیاحتی علاقے کلیل کنڈؤ پرضلع بونیر کے احاطہ میں داخل ہونے کے لیے بڑی بڑی پہاڑی چوٹیوں کی سرکوبی کرتی نکل جاتی ہے۔ کلیل کے اس ”ڈیورنڈ لائن“ پر جہاں ماضیِ قریب میں فوجی ناکا ہوتا تھا، اب اُس کی جگہ ”کرونا ناکا“ نے لے لی ہے، تاکہ آر پار کی اقوامِ عالم کو ایک دوسرے سے پرے رکھنے کے لیے، کچھ تو ہو جس کی پردہ داری ہو۔
ہمارے بائیں جانب ایک بڑا شیشہ لگا ہوا ہے جس میں دیکھتے ہوئے دور دور تک کھیتوں اور باغات کی ہریالی پر نظریں پڑتی ہیں، تو یک گونہ دل میں ایک ہوک سی اٹھنے لگتی ہے۔ یوں لگتا ہے کہ یہ دنیا کتنی آباد، پُرسکون اور خوبصورت جگہ ہے، اور زندگی میں کتنی رنگینی ہے۔ کچھ دیراس ہریالی سے نظروں کو مسرور کرکے خود کو ورغلاتے ہیں۔ دائیں طرف ٹرن لے کر کیا دیکھتے ہیں کہ کونے میں پانچ چھے افراد بڑے انہماک سے فرش پر بیٹھے گوشت تولنے، اسے آلو، پیاز، ٹماٹر اور سبزی وغیرہ سمیت تھیلوں میں ڈالنے اور ایک دو بندے اس کے تولنے اور پیک کرنے کے عمل میں مگن ہیں۔ عین سامنے کیا دیکھتے ہیں کہ درجنوں افراد بلڈنگ کے برآمدے پر قابض اِن ”فوڈ پیکٹس“ کی وصولی کے انتظار میں بیٹھے ہیں۔ ان میں دیگر کے علاوہ معمر افراد بھی ہیں، خواتین اور بچے بچیاں بھی۔ یہ ”خپل کلی وال تنظیم کوکارئی“ کے دوستوں کا معمول ہے کہ وہ روزوں میں روزانہ کی بنیاد پر سو سوا سو خاندانوں میں ”اپنا گھر، اپنا سالن پروگرام“ کے تحت مستحق افراد کومتناسب خوراک کا یہ پیکیج اِس مقصد کے لیے فراہم کر رہے ہیں، تاکہ ان کے لاغر اجسام کرونا کی وبا میں کچھ قوتِ مدافعت پیدا کرنے کے قابل ہوسکیں۔ ان میں کافی ایسے بچے بچیاں ہیں جن کو سال میں صرف ایک دفعہ بقر عید کے موقع پر گوشت کے چیتھڑے کھانا نصیب ہوتے ہیں، جب خوشحال لوگ جانوروں کی قربانی دیتے ہیں، گوشت فریزروں میں سٹور کرتے ہیں اور آنتیں، اوجھڑی اور ہڈیاں وغیرہ تھیلیوں میں بند کرکے ان کی طرف ”فی سبیل اللہ“ پھینکتے ہیں۔ قربانی کی یہ بات ذہن میں آئی، تو ہمیں اکتوبر 2005ء کے تاریخی زلزلے کے بعد ہزارہ ڈویژن اور آزاد کشمیرکے ماتمی فضاوں میں چھے مہینے مسلسل کام کے دوران میں جو تلخ مشاہدے اور تجربے ہوتے رہے، وہاں کے ایک دن کا واقعہ یاد آیا۔ جولائی کا مہینا تھا، گرمیوں کے دن تھے۔ ایک دوپہر وادئی کاغان کے کسی ہوٹل میں کھانا تیار ہونے کے انتظار میں بیٹھے تھے۔ ایسے میں آس پاس دیکھتے ہوئے تین بچوں کی طرف دھیان گیا،جو سڑک کنارے پڑے پتھروں پر بیٹھے، آپس میں گپ شپ لگا رہے تھے اور وقتاً فوقتاً کن اکھیوں سے ہماری طرف بھی کچھ یوں دیکھ رہے تھے، جیسے ہم کوئی مافوق الفطرت انسان ہوں، اور وہ خواہ مخواہ ہماری اس دنیا میں وارد ہوئے ہوں۔ دیر تک ان کے سراپے کا جائزہ لیتے رہے۔ وہ ملیشا کے پرانے سے کپڑوں میں ملبوس تھے۔واجبی سے سکول بستے ان کے کندھوں سے لٹک رہے تھے۔ ان کے انگ انگ سے غربت اور پس ماندگی چھلک رہی تھی۔ دماغ پرہتھوڑے برسنے لگے۔ آواز دے کر ان کو پاس بلایا۔ سامنے بٹھایا اورحال احوال پوچھنے لگے۔ وہ نزدیک گاؤں کے رہنے والے تھے، اورتینوں چوتھی کلاس میں پڑھ رہے تھے۔ ایک ہی بستی سے تعلق تھا، اُن کا۔ یہ بچے اپنے دیگر ساتھیوں کے انتظار میں یہاں بیٹھے تھے۔ تعارف کے بعد جس باتونی بچے سے ہماری گفتگو ہوئی، اس کا نام نواب خان تھا، یعنی وہ نام کی نسبت سے نواب بھی تھا اور خان بھی، لیکن نام کی حد تک۔ ویسے نام میں کیا رکھا ہے، ”اللہ رکھا“ بھی ہوتا، تو کیا ہوتا؟ خیر، ابتدائی باتوں کے بعد گفت وشنید کا جو سیشن ہمارے درمیان منعقد ہوا، اس سے معلوم ہوا کہ یہ بچے جب صبح صبح سکول جانے کے لیے اُٹھتے ہیں، تو ”روٹین“ میں شام کی بچی ہوئی مکئی کی روٹی گڑ کی چائے کے ساتھ نوشِ جاں فرماتے ہیں۔ چائے ایک قسم کے ویلیو ایڈیشن کے طور پرروٹی کے ”ہم پیالہ و ہم نوا“ کی جاتی ہے، وگرنہ یہی مکئی کی روٹی بستے میں رکھ کر ڈرل کے دوران میں بھی چشمے کے پانی سمیت معدے کو پارسل کی جاتی ہے۔ بعض اوقات لسی کے ساتھ بھی نظامِ ہضم بڑی فیاضی کے ساتھ یہ رزق بلا چوں و چرا ”انڈورس“ کرتا ہے۔ کوئی اس کو ناشتے کا نام دے، تو بیشک دے،ہمیں تو ناشتے کا یہ ہتک گوارا نہیں۔ ہاں، تو جیسے اس نشاستے دار کھانے کے بعد یہ بچے بستے باندھ کر گھروں سے سکول جانے کے لیے پلاسٹک کے ”مفلوج چپل“ پہن کر نکلنے لگتے ہیں۔ ایسے ہی ان کے والدین درانتیاں لے کر کھیتوں میں فصلوں پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ جہاں وہ چارہ وغیرہ کاٹتے ہیں جس میں ”شوتل“، ”شلخے“ وغیرہ کا ساگ بھی ہوتا ہے۔ یہ ساگ کچا ہو، تو مویشیوں کی خوراک ہوتا ہے۔ مویشیوں کی اس خوراک سے چوری چپکے کچھ بچ بچا کرکاٹ کوٹ کر نمک مرچ کا ویلیو ایڈیشن کرکے پکاتے ہیں، تو وہ گھر کا سالن کہلانے کا استحقاق حاصل کرجاتا ہے۔ کیوں کہ یہ ساگ تو پورا سال کھیتوں میں دستیاب نہیں ہوتا، اس لیے کچے چارے کی وافر مقدار کو بھی محفوظ کرنے کے لیے صاف کرتے ہیں۔ گھر کی چھت پرکسی کپڑے میں پھیلا کر سکھاتے ہیں، اور پھر ”رینی ڈیز“ میں پکانے کے لیے ذخیرہ کرلیتے ہیں۔ عمومی طور پر اسی ساگ کا شوربا ہی ان کا پکا پکا مستعمل سالن ہوتا ہے، جو بلا ناغہ سب کے گھروں میں ہفتہ بھر کے لیے یکمشت پکتاہے۔پکانے کا طریقہ یہ ہے کہ ساگ کو ایک بڑے برتن میں ڈالا جاتا ہے۔ ڈاکٹری اصولوں کے عین مطابق اس میں آدھا گرم پانی ڈال کر دھوتے ہیں۔ پھر ایک ہانڈی میں اُسے چھوٹے گوشت کی طرح طریقے سے سموکر منھ تک پانی کا بھرمار کر لیا جاتا ہے۔ پہلے بھی ذکر ہوا، نمک مرچ کا بگھارتودیا جاتا ہے بہتات کا دامن پکڑ کر، اگر ایک آدھ گھسا پھٹا ٹماٹر (یہ منھ اور مسور کی دال!) ہمسایوں سے کہیں ودیعت ہو جائے، تو خوشی سے گال سُرخ ہو جائیں اوربات بھی بن جائے۔ اُس ٹماٹر کو بڑے ادب کے ساتھ ”سالن ہذا“ کے ”انگریڈینٹس“ میں شامل کیا جاتا ہے، اور لکڑیوں کی آگ جلا کر لامحدد مدت تک ابالا جاتا ہے۔ حتیٰ کہ ذائقہ دار ساگ تیار ہو جاتا ہے۔ اس میں شوربا کا اتنا ذخیرہ چھوڑا جاتا ہے کہ چاہے سوپ کے طور پر ڈکاریں، یا چاہے روٹی کو آزادانہ طور پر اس میں ڈبوڈبو کر ایک ایک نوالے کو غوطے دلائے جائیں اور کھائے جائیں۔اس ساگ کا بوفے بھی تیار کرتے ہیں، توے پر ڈال کر اس کو خوب فرائی کروا کر۔ لیکن نواب خان کا ایک ساتھی کہتا ہے کہ یہ نصیبوں والے بچے کو ملتا ہے۔ بوفے ساگ کے علاوہ ہفتے میں ایک آدھ بار چاول بھی ابالتے ہیں۔ بعض خوشحال گھرانے، جس کو کچی لسی کے ساتھ ملغوبہ بنا کر کھاتے ہیں۔ لوبیا پکانے کی باری آ جاتی ہے، جس کے کھانے کو معدہ ترستا ہے۔
نواب خان کو تو متوازن غذا کے نام پر کبھی بلند بانگ مطالبے پر اُبلا ہو ا انڈا بھی نوشِ جاں فرمانے کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔ بعض اوقات ڈنر کے لیے پیاز، ٹماٹر اور تیزمرچی کی چٹنی ہوجائے۔ لنچ والے اوقات کی باقی ماندہ روٹی ہوجائے۔ دونوں، یعنی چٹنی اور روٹی بغل گیر کرکے کھایا جائے، تو مزہ دوبالا ہوجائے اور دل کی گہرائیوں سے بیسیار الحمد اللہ پڑھنے کی گنجائش پیدا ہو جائے۔ ہفتے میں ایک آدھ وقت جسم کو بھوک کا احساس دلانے کو فاقہ کشی بھی ہو جاتی ہے۔کیوں کہ سوشل،میڈیکل اور ریلیجس پوائنٹ آف ویو سے یہ امر بڑا ضروری ہے۔
”کبھی گوشت بھی پکاتے ہیں؟“
اس سوال پر ظالم نواب خان نے آنکھ کے گیلے پپوٹے اُٹھاکر میری طرف غضب ناک نظروں سے دیکھا۔ بے وقوفانہ سوال پر پہلے بتیسی نکالی۔ پھر سر کو دائیں بائیں ہلایا اور ایسے انداز میں گویا ہوا جیسے گوشت پکانا کوئی جرم ہو یا شرعی طور پر حرام بااللہ۔ لیکن کچھ دیر سوچ وفکر کے گھوڑے دوڑا کر دور کی کوڑی لاتے ہوئے کہا، ”ہاں!“ پکاتے ہیں، لیکن ہر سال بڑی عید کے موقع پر۔ جب ہماری بستی کے بعض لوگ قربانی دینے کے لیے مویشی ذبح کرتے ہیں، تو کچھ ہڈی، کچھ اوجھڑی کچھ پھیپھڑے، اور چیتھڑے پھینکنے کی بجائے ”چوہدری نواب خان اینڈ کمپنی“ جیسے خاندانوں کو عنایت کرتے ہیں۔ ان کی مائیں ان کو تاروں میں پرو کر دھوپ میں رکھ کر سوکھاتی ہیں۔ پھر چھت کی کسی لکڑی کے ساتھ لٹکا لیتی ہیں۔ جب کوئی خاص مہمان آجاتا ہے، تواس کو اُبالا دے کر اور شوربے کا تالاب بنا کر کسی بڑے بے ہنگم سے ”کاسے“ میں نکالتے ہیں۔ اس میں ڈھیر ساری روٹیوں کو تروڑ مروڑ کر شامل باجا کرلیتے ہیں۔ مہمانِ خصوصی کو پرنسپل سیٹ پر بٹھا کر ارد گرد دوسرے بندے بھی نشستیں سنبھال لیتے ہیں۔ پھر سوپ ملے روٹی کے ٹکڑوں پر اجتماعی یلغار کرکے فوری طورپر گرما گرم ہڑپ کرلیتے ہیں۔ نواب خان اور اُس کے ہم نوا اپنے ”کھاو پیو پالیسی“ اور شیڈول پر باتیں کرتے رہے، ہم پہلو بدلتے رہے، سنتے رہے، کبھی آنکھ چُراتے رہے، کبھی کان مروڑتے رہے اور اپنے جامہ اشرافی کے رموز اوقاف بھی درست کرتے رہے۔
گذشتہ پندرہ برسوں میں نام نہاد نواب خان اور اس کے ساتھیوں نے کتنا گوشت ڈکارا ہوگا اور آج کرونا کی وبا میں وہ لوگ اپنے نظام ِ خون کو کیسے دوڑا رہے ہوں گے؟ یہ تو ہمیں علم نہیں، لیکن یہ علم ضرور ہے کہ یہ ہے ہمارے ملک کی چالیس فیصد آبادی کی متوازن غذا کی برہنہ صورت حال۔ ہمارے ملک میں ایسے افراد کی تعداد پہلے بھی پانچ کروڑ سے کسی صورت کم نہیں تھی، تاہم کرونا کی وبا نے اس کو مزید گھمبیر بنا دیا ہے، اور اس کے اوپر بیس لاکھ تک سڑکوں پر مٹر گشت کرنے والے بچے علاحدہ۔
آج پندرہ سال بعد جس جگہ بیٹھے رمضان المبارک کے ان بابرکت دنوں میں ہمارے دوست اپنا گھر اپنا سالن پروگرام چلا رہے ہیں۔ یہ ہمارا اُن دنوں کا ایک خوابیدہ خواب تھا، جو اَب حقیقت کا روپ دھار چکا ہے۔ ”یہی ہے رخت سفر میر کارواں کے لیے۔“
ضبط کا عہد بھی ہے شوق کا پیماں بھی ہے
عہد وپیماں سے گذر جانے کو جی چاہتا ہے
درد اتنا ہے کہ ہر رگ میں محشر برپا
اور سکوں ایسا کہ مر جانے کو جی چاہتا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں