ڈاکٹر شیر زمان طائزے 1931ء میں پبی ضلع نوشہرہ میں ’’کٹور شاہ‘‘ کے گھر پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی گاؤں کے سکول جسے ’’خدائی خدمت گار تحریک‘‘ کے بانی باچاخان نے تعمیر کیا تھا، میں حاصل کی۔ اُس سکول میں قرآنِ مجید اور بنیادی اسلامی تعلیم بھی لازمی تھی۔ اس کے علاوہ اُس سکول میں تعلیم پشتو زبان میں دی جاتی تھی، جس کی وجہ سے طالب علم قابل اور ذہین ہوتے تھے۔
ڈاکٹر شیر زمان طائزے پبی مڈ ل سکول سے فارغ ہوئے تو 9ویں اور 10ویں کی تعلیم وہاں کے ایک پرائیویٹ سکول سے حاصل کی۔ دسویں پاس کرنے کے بعد 1938ء سے 1949ء تک برٹش آرمی میں ملازمت اختیار کی۔ 1954ء میں آئی بی حولدار بھرتی ہوئے۔ ملازمت کے دوران میں ایم اے پرائیویٹ طور پر کیا۔ اس کے بعد کابل کے پاکستانی سفارت خانے میں اسسٹنٹ کی پوسٹ پر کام کیا۔ ایم فل ڈگری کے لیے ایریا سٹڈی سنٹر پشاور یونیورسٹی میں داخلہ لیا۔ ا س کے بعد ’’یو این ایچ سی آر‘‘ میں پروگرام اسسٹنٹ کے طور پر کام کا آغاز کیا۔ یونیورسٹی نے اُنھیں اختیار دیا کہ اگر پی ایچ ڈی کرنے کی خواہش رکھتے ہوں، تو اپنے ایم فل کو پی ایچ ڈی میں بدل دو۔ اس طرح اُنھوں نے پی ایچ ڈی کے لیے فیس جمع کی۔ اُنھوں نے اپنے تحقیقی مقالے ’’ثور انقلاب‘‘ کے سیاسی تجزیہ پر کام کا آغاز کیا۔ مقالہ جب پایۂ تکمیل تک پہنچا، تو اُس کے بعد ڈگری حاصل کرنے کے لیے اُنھوں نے اپنے مقالے کا بھرپور دفاع کیا اور کامیاب ہوئے۔
اُس کے بعد ڈاکٹر شیر زمان طائزے نے افغان کمشنریٹ میں کام شروع کیا۔ 1991ء میں ریٹائر ہونے کے بعد انگریزی روزنامہ فرنٹیئر پوسٹ پشاور میں اسسٹنٹ ایڈیٹر مقرر ہوئے۔ اس سے اُنھوں پشتو زبان و ادب کی بھرپور خدمت کی اور پشتو زبان کے شاعروں اور ادیبوں کو نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں پہچان دی۔ یہاں تک کہ موصوف نے راقم کی ادبی خدمات اور زندگی کو 1992ء میں ایک آرٹیکل میں نمایاں کیا۔
1997ء میں اُنھوں نے فریضۂ حج ادا کرنے کے بعد بی بی سی تعلیمی پراجیکٹ میں کام کا آغاز کیا۔
شادی اور اولاد:۔
ڈاکٹرشیرزمان طائزے کی صرف ایک شادی تھی۔ ان کے دو بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں۔
٭ ادبی خدمات:۔
ڈاکٹر شیر زمان طائزے خدائی خدمت گاروں میں سے ایک تھے، اور زندگی کے آخری لمحے تک پشتو زبان، اَدب کی خدمات پر مامور رہے، بلکہ اُن کی زندگی اس اعلا مقصد کے لیے وقف تھی ۔
پہلے پہل ’’غمجن‘‘ تخلص کرتے تھے۔ پھر ان کا بیٹا روڈ ایکسیڈنٹ میں اللہ کو پیارا ہوگیا۔ اُس حادثے کے بعد اُنھوں نے ’’غمجن‘‘ کو ترک کرکے ’’طائزے‘‘ تخلص اختیار کیا۔ اس تخلص سے لوگوں میں جانے پہچانے لگے۔
ڈاکٹر صاحب کا پہلا ناول ’’گل خان‘‘ سنہ 1974ء میں شائع ہوا ۔ اس کے بعد ان کے مزید چار ناول شائع ہوئے۔ اُن کے ایک شعری مجموعے ’’سوما‘‘ نے ’’چاچا کریم بخش پشتو ایوارڈ کمیٹی‘‘ سے فسٹ ایوارڈ حاصل کیا۔ اُنھوں نے بہت سے ڈرامے لکھے ہیں۔
اُن کی ایک افسانوں کی ایک کتاب ’’شپیلئی‘‘ (بانسری) شائع ہوئی ہے۔ اُن کے دو شعری مجموعے ’’ورشو‘‘ ( چراگاہ) اور ’’سوما‘‘ (ہندو مت کا مقدس پودا جو سوات کے جنگلات اور پہاڑوں میں اُگتاہے) زیورِ طبع سے آراستہ ہوچکے ہیں۔
اس کے علاوہ وہ ناول نگاری، پشتو لسانیات اور تاریخ پر مختلف زبانوں میں ان کے مفید تحقیقی مقالے منصۂ شہود پر جلوہ گر ہوچکے ہیں۔
موصوف ایک ذمے دار صحافی اور سفارت کار رہ چکے ہیں۔ مَیں اُن خوش نصیبوں میں سے ایک ہوں جسے اُن کا مکمل تعاون حاصل رہا۔ ادب اور خاص کر زندگی کے بارے میں، مَیں نے اُن سے بہت کچھ سیکھا ہے ۔
گو کہ وہ اَب ہم میں نہیں رہے، لیکن بہت پیارے انسان تھے۔ اللہ اُنھیں اپنے جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے، آمین!
(نوٹ:۔ اس تحریر میں، مَیں نے رشید احمد صاحب کی پشتو کتاب ’’پتو ک ژوند لیک لیکنہ‘‘سے استفادہ کیا ہے، راقم)
ڈاکٹر شیر زمان طائزے پبی مڈ ل سکول سے فارغ ہوئے تو 9ویں اور 10ویں کی تعلیم وہاں کے ایک پرائیویٹ سکول سے حاصل کی۔ دسویں پاس کرنے کے بعد 1938ء سے 1949ء تک برٹش آرمی میں ملازمت اختیار کی۔ 1954ء میں آئی بی حولدار بھرتی ہوئے۔ ملازمت کے دوران میں ایم اے پرائیویٹ طور پر کیا۔ اس کے بعد کابل کے پاکستانی سفارت خانے میں اسسٹنٹ کی پوسٹ پر کام کیا۔ ایم فل ڈگری کے لیے ایریا سٹڈی سنٹر پشاور یونیورسٹی میں داخلہ لیا۔ ا س کے بعد ’’یو این ایچ سی آر‘‘ میں پروگرام اسسٹنٹ کے طور پر کام کا آغاز کیا۔ یونیورسٹی نے اُنھیں اختیار دیا کہ اگر پی ایچ ڈی کرنے کی خواہش رکھتے ہوں، تو اپنے ایم فل کو پی ایچ ڈی میں بدل دو۔ اس طرح اُنھوں نے پی ایچ ڈی کے لیے فیس جمع کی۔ اُنھوں نے اپنے تحقیقی مقالے ’’ثور انقلاب‘‘ کے سیاسی تجزیہ پر کام کا آغاز کیا۔ مقالہ جب پایۂ تکمیل تک پہنچا، تو اُس کے بعد ڈگری حاصل کرنے کے لیے اُنھوں نے اپنے مقالے کا بھرپور دفاع کیا اور کامیاب ہوئے۔
اُس کے بعد ڈاکٹر شیر زمان طائزے نے افغان کمشنریٹ میں کام شروع کیا۔ 1991ء میں ریٹائر ہونے کے بعد انگریزی روزنامہ فرنٹیئر پوسٹ پشاور میں اسسٹنٹ ایڈیٹر مقرر ہوئے۔ اس سے اُنھوں پشتو زبان و ادب کی بھرپور خدمت کی اور پشتو زبان کے شاعروں اور ادیبوں کو نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں پہچان دی۔ یہاں تک کہ موصوف نے راقم کی ادبی خدمات اور زندگی کو 1992ء میں ایک آرٹیکل میں نمایاں کیا۔
1997ء میں اُنھوں نے فریضۂ حج ادا کرنے کے بعد بی بی سی تعلیمی پراجیکٹ میں کام کا آغاز کیا۔
شادی اور اولاد:۔
ڈاکٹرشیرزمان طائزے کی صرف ایک شادی تھی۔ ان کے دو بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں۔
٭ ادبی خدمات:۔
ڈاکٹر شیر زمان طائزے خدائی خدمت گاروں میں سے ایک تھے، اور زندگی کے آخری لمحے تک پشتو زبان، اَدب کی خدمات پر مامور رہے، بلکہ اُن کی زندگی اس اعلا مقصد کے لیے وقف تھی ۔
پہلے پہل ’’غمجن‘‘ تخلص کرتے تھے۔ پھر ان کا بیٹا روڈ ایکسیڈنٹ میں اللہ کو پیارا ہوگیا۔ اُس حادثے کے بعد اُنھوں نے ’’غمجن‘‘ کو ترک کرکے ’’طائزے‘‘ تخلص اختیار کیا۔ اس تخلص سے لوگوں میں جانے پہچانے لگے۔
ڈاکٹر صاحب کا پہلا ناول ’’گل خان‘‘ سنہ 1974ء میں شائع ہوا ۔ اس کے بعد ان کے مزید چار ناول شائع ہوئے۔ اُن کے ایک شعری مجموعے ’’سوما‘‘ نے ’’چاچا کریم بخش پشتو ایوارڈ کمیٹی‘‘ سے فسٹ ایوارڈ حاصل کیا۔ اُنھوں نے بہت سے ڈرامے لکھے ہیں۔
اُن کی ایک افسانوں کی ایک کتاب ’’شپیلئی‘‘ (بانسری) شائع ہوئی ہے۔ اُن کے دو شعری مجموعے ’’ورشو‘‘ ( چراگاہ) اور ’’سوما‘‘ (ہندو مت کا مقدس پودا جو سوات کے جنگلات اور پہاڑوں میں اُگتاہے) زیورِ طبع سے آراستہ ہوچکے ہیں۔
اس کے علاوہ وہ ناول نگاری، پشتو لسانیات اور تاریخ پر مختلف زبانوں میں ان کے مفید تحقیقی مقالے منصۂ شہود پر جلوہ گر ہوچکے ہیں۔
موصوف ایک ذمے دار صحافی اور سفارت کار رہ چکے ہیں۔ مَیں اُن خوش نصیبوں میں سے ایک ہوں جسے اُن کا مکمل تعاون حاصل رہا۔ ادب اور خاص کر زندگی کے بارے میں، مَیں نے اُن سے بہت کچھ سیکھا ہے ۔
گو کہ وہ اَب ہم میں نہیں رہے، لیکن بہت پیارے انسان تھے۔ اللہ اُنھیں اپنے جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے، آمین!
(نوٹ:۔ اس تحریر میں، مَیں نے رشید احمد صاحب کی پشتو کتاب ’’پتو ک ژوند لیک لیکنہ‘‘سے استفادہ کیا ہے، راقم)
