(باخبر سوات ڈاٹ کام)ریاست سوات کے پہلے سکول ”ہائی سکول ودودیہ“ کے قیام کے 100 سال مکمل ہوگئے۔ 1915ء میں ریاست سوات کے قیام کے بعد ریاست کے بادشاہ میاں گل عبدالودود المعروف باچا صیب نے ریاست کے قیام کے 8 سال بعد سوات کے اس پہلے سکول کا قیام عمل میں لایا تھا۔ 1923ء میں اس سکول میں پہلے جس طالب علم نے داخلہ لیا تھا، ریکارڈ کے مطابق اس کا نام سلطان محمد خان تھا۔ سابق وزیرِ اعظم پاکستان لیاقت علی خان، برطانیہ کی ملکی الزبتھ سمیت کئی پاکستانی اور بین الاقوامی رہنماؤں نے اس سکول کا دورہ کیا ہے۔ سکول کی تعلیمی معیار کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ 1940ء میں اس کے ہیڈ ماسٹر پی ایچ ڈی سکالر ڈاکٹر جان محمد تھے۔ سوات میں دیگر سرکاری اور نجی سکولوں کے قیام کے بعد بھی لوگ اپنے بچوں کو ودودیہ ہائی سکول میں داخل کرنے کو ترجیح دیتے تھے۔ اس سکول سے فارغ التحصیل ہزاروں طلبہ اہم منصبوں پر تعینات رہ چکے ہیں۔ اس سکول سے فارغ ہونے والے طلبہ اپنے آپ کو ”ودودین“ کے نام سے پکارتیہیں۔ سکول کے موجودہ پرنسپل ظہور احمد نے مشرق کو بتایا کہ سکول کا معیارِ تعلیم آج بھی اچھا ہے۔ حالیہ بورڈ کے نتائج میں اس سکول کے بچوں نے سو فیصد نتیجہ دیا ہے۔ اس سکول کی پہلی عمارت کو زلزلے کے بعد محکمہ ورکس اینڈ سروسز نے ناکارہ قرار دیا تھا، جس کے بعد پرانی عمارت کو گراکر اس کی جگہ نئی عمارت تعمیر کی گئی۔
