(باخبر سوات ڈاٹ کام) ملاکنڈ ڈویژن کے نو اضلاع میں بھی نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق ایف بی آر نے نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ آرمی چیف کے حالیہ دورہئ پشاور میں ان کی ہدایات کے بعد کیا۔ سوات، شانگلہ، بونیر، ملاکنڈ، لوئر دیر، اَپر دیر، لوئر چترال، اَپر چترال اور باجوڑ میں اس وقت لاکھوں کی تعداد میں لوگوں کے پاس نان کسٹم پیڈ گاڑیاں موجود ہیں۔ ان گاڑیوں کی افغانستان سے براستہ چمن، طور خم اور وزیرستان آمد جاری ہے جس کی وجہ سے ان کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ اس سے پہلے ان گاڑیوں کو قانون کے دائرہ میں لانے اور ایکسائز کے ساتھ رجسٹرڈ کرنے کے لئے حکومت نے ایک ایمنسٹی اسکیم دی تھی جس کے ذریعے لاکھوں لوگوں نے کم کسٹم پر اپنی گاڑیاں رجسٹرڈ کی تھیں۔ اس کے بعد حکومت نے اعلان کیا تھا کہ مزید نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کو پکڑا جائیگا، لیکن ایسا نہ ہوسکا اور ملاکنڈ ڈویژن میں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے آنے کا سلسلہ جاری رہا۔ ملاکنڈ ڈویژن جو (فاٹا)”فیڈرلی ایڈمنسٹرڈ ٹرائبل ایریاز“ تھا، جہاں پر کسٹم اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو سمیت دیگر قوانین نافذ نہیں تھے۔ اس لئے یہاں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے خلاف کوئی سرکاری ادارہ کارروائی نہیں کر سکتا تھا۔ لیکن مئی2018ء میں 25 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے ”پاٹا“ اور ”فاٹا“ کی آئینی حیثیت ختم کردی گئی جس کے بعد سے یہ گاڑیاں ملاکنڈ ڈویژن میں غیر قانونی تصور ہونے لگیں۔ اُس وقت تحریک انصاف کی حکومت نے ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکس اور کسٹم کے نفاذ سے پانچ سال کی رعایت دی، جو جون2023ء میں ختم ہور ہی تھی، لیکن اُس وقت کے وزیرِ اعظم میاں شہباز شریف نے اپنے آخری بجٹ میں انجینئر امیر مقام کے اصرار پر اس رعایت میں مزید ایک سال کی توسیع کر دی۔ سوات اور ملاکنڈ ڈویژن کے کاروباری افراد اور عوامی حلقے بھی نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے خلاف ہیں، جس کی وجہ سے ملاکنڈ ڈویژن پر شدید ٹریفک کا دباو ہے، لیکن یہ حلقے نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کو پکڑنے کے بھی مخالف ہیں۔ ان کا مشورہ ہے کہ حکومت نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے مالکان کے لئے آخری ایمنسٹی اسکیم کا اعلان کرے اور اس اسکیم میں ان گاڑیوں پر کم سے کم کسٹم لگادے، تاکہ غریب لوگ وہ کسٹم ڈیوٹی ادا کرکے اپنی گاڑی کو قانونی کرسکیں جس کے بعد جو لوگ وہ گاڑی اپنے پاس رکھنا چاہیں، تو گاڑی قانونی ہوگی اور جو لوگ بیچنا چاہیں، اُن کو کچھ نہ کچھ آمدنی ہوگی۔ ایف بی آر کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے سابق ”پاٹا“ اور ”فاٹا“ میں آخری ایمنسٹی سکیم دی، تو کسٹم ڈیوٹی سے 20 ارب Watch USA online porn https://mat6tube.com teens, milfs, matures!روپے سے زائد قومی خزانے میں جمع ہوجائیں گے اور ان گاڑیوں کے سالانہ رجسٹریشن ٹوکن سے بھی حکومت کو ہر سال کروڑوں روپے ملیں گے۔
