کل ایک پیارے انسان نے مجھ سے پوچھا: ’’سر!آپ کو لوگ کیوں نہیں جانتے؟ مَیں نے کئی پڑھے لکھے دوستوں سے آپ کے بارے میں پوچھا، سب نے لاعلمی کا اظہار کیا۔‘‘
مَیں نے اُس وقت جو بھی سمجھ میں آیا اُن کو بتادیا…… لیکن اُس کے بعد واقعی میں نے سنجیدگی سے سوچا۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے اور مَیں اس کا سامنا کرنے کے لیے ابھی تک خود کو تیار نہیں کرپایا۔ سوچتے سوچتے تھک گیا، تو ہتھیار ڈال کر تسلیم کیا کہ یہی حقیقت ہے۔ دراصل مجھے اپنے بارے میں جو غلط فہمی تھی، کم از کم وہ تو دور ہوگئی۔
دوستو! اب کچھ باتیں آپ سے شیئر کرتا چلوں۔
یہ اکثر ہوتا ہے کہ طلبہ مجھ سے فون کے ذریعے رابطہ کرکے ملنے کے لیے کہتے ہیں۔ مَیں اُن کو بہ صد خوشی اجازت دے دیتا ہوں، اور یہ بالکل نہیں پوچھتا کہ میرا رابطہ نمبر اُن کو کہاں سے ملا؟
پھر اُنھیں اپنے گاؤں کا پتا بتاتا ہوں۔ ساتھ یہ بھی کہتا ہوں کہ آپ جب یہاں آئیں، تو ’’منصور‘‘ کا پوچھیں، پھر آپ مجھ تک پہنچ جائیں گے۔
در اصل منصور میرا پوتا ہے اور بہت سوشل ہے۔ وہ وسیع تعلقات رکھتا ہے۔
یہ تو رہی اپنے گاؤں کی حالت، دوسری بات یہ ہے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد 22 سال ہونے کو ہیں، مَیں کسی سرکاری افسر سے نہیں ملا۔ کسی اے سی، ڈی سی یا کمشنر کا نام مجھے معلوم ہے نہ ان سے کوئی مطلب ہی ہے۔ نہ کسی بڑے سرکاری افسر کے ساتھ تصویر اُتروائی ہے۔
مَیں صرف سچے اور کھرے تعلیمی راہ نماؤں کا فین ہوں، جن سے مجھے ملنے کا شرف حاصل ہے۔ اُن کے لاتعداد چاہنے والے ہیں اور وہ نام و نمود سے مبرا ہیں۔
ایک تو مَیں عمر کے جس مرحلے میں ہوں، مَیں زیادہ نقل و حرکت بھی نہیں کرسکتا۔ نہ میرے پاس کار ہے، نہ اس کی استطاعت ہی ہے۔ دائم المریض بندہ ڈاکٹروں کا تختۂ مشق بنا رہتا ہوں۔
تو پیارے دوست! مجھے کوئی کیوں پہچانے گا؟ لکھنے کا کیا ہے، مَیں جب اخبار پڑھا کرتا، تو درمیان والا ادارتی صفحہ الگ رکھتا کہ اس میں کیا الم غلم چیزیں ہیں۔ مَیں کالم کیوں پڑھ کر وقت ضائع کروں؟ یہی شاید میرے ساتھ ہوا۔ مَیں نے 700 سے زیادہ کالم لکھے۔ 1100 کے لگ بھگ اُردو قطعات لکھے، جو روزنامہ آزادی کے علاوہ ایک اور مقامی روزنامے میں چھپ گئے، اور کتنے عرصے میں…… کل ملاکے سات آٹھ سال میں، تو ادارتی صفحہ کتنے لوگ پڑھتے ہیں؟
انگریزی میں لکھنے پر آیا، تو ڈیڑھ سو سے زیادہ کالم لکھے، جو محترم جلال الدین صاحب کی مہربانی سے اُن کی ویب سائٹ ’’سوات انسائیکلو پیڈیا‘‘ پر اَپ لوڈ ہوتے رہے۔ اور کیا کروں کہ لوگ مجھے جان جائیں؟
اور اگر جان بھی جائیں، تو مجھے کیا سرخاب کے پر لگیں گے……!
آج ڈاکٹر پروفیسر محمد ہمایوں ہما صاحب نے اپنی ایک پوسٹ میں ایک نکتہ اٹھایا کہ افتخار عارف نے صرف دو شعری مجموعے لکھے ہیں، مگر اُن کو ’’کمالِ فن ایوارڈ‘‘ دیا گیا۔
اب آپ لوگ خود سوچیں، اور خوب سوچیں۔ یہاں کئی کئی کتابیں لکھنے والے کسی بھی اعزاز کے لیے منتخب نہیں ہوتے اور موصوف کے سینے پر کئی تمغے جگ مگ کر رہے ہیں۔
اللہ کا شکر ہے…… جن کو میں چاہتا ہوں وہ مجھے جانتے ہیں۔
متعلقہ خبریں
- کمنٹس
- فیس بک کمنٹس
