(باخبر سوات ڈاٹ کام) دیر کے راستے سوات میں داخل ہونے والے عسکریت پسندوں اور پولیس کے درمیان فائرنگ سے ایک شخص شہید اور ایک پولیس اہلکار زخمی ہوگیا۔ پولیس کے جاری کردہ بیان کے مطابق سوات کے تھانہ گوالیرئی کے دور افتادہ پہاڑی علاقے ڈوپ سر میں پولیس اور فتنہ الخوارج کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے، جس کے نتیجے میں ایک سول شخص موقع پر جان بحق اور ایک پولیس اہلکار صاحب زادہ شدید زخمی ہوا۔ پولیس جوانوں کی جانب سے انتہائی جواں مردی کے ساتھ بھرپور جوابی کارروائی کی جا رہی ہے، تاکہ علاقے میں امن و امان قائم رکھا جاسکے اور دہشت گرد عناصر کا مکمل خاتمہ ممکن بنایا جاسکے۔ ریجنل پولیس آفیسر ملاکنڈ شیر اکبر نے واقعے کی اطلاع ملتے ہی فوری طور پر جائے وقوعہ کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے صورتِ حال کا تفصیلی جائزہ لیا اور موقع پر موجود افسران اور اہلکاروں کو ضروری ہدایات جاری کیں۔ اس موقع پر ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سوات، محمد عمر خان بھی ان کے ہمراہ موجود تھے ۔پولیس کی بھاری نفری اور تازہ دم دستے سوات اور دیر کے سرحدی علاقہ ڈوپ سر بھیج دئے گئے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک ماہ قبل بیس سے پچیس کے قریب مسلح افراد اس پہاڑی میں داخل ہوئے تھے اور پولیس کے دستے بھی پہنچ گئے تھے، لیکن پولیس کو انہیں مارنے کی اجازت نہیں تھی۔ اب ایک شخص کی شہادت اور پولیس اہلکار کے زخمی ہونے کے بعد پولیس نے دہشت گردوں کے خلاف آپریشن شروع کردیا ہے۔
