(باخبر سوات ڈاٹ کام) سوات پولیس کے تمام تھانوں کے ایس ایچ اوز نے منشیات فروشوں اور ڈیلروں کے خلاف آپریشن بند کردیا۔ آج ہفتہ کے روز سے منشیات فروش بلا خوف و خطر منشیات فروخت کریں گے۔سوات میں منشیات فروشوں اور خاص کر آئس نشے کا استعمال زیادہ ہوگیا تھا۔ دو ماہ قبل ڈی پی او سوات محمد عمر خان نے تمام ڈی ایس پیز اور ایس ایچ اوز کا اجلاس بلا کر منشیات فروشوں کے خلاف خصوصی آپریشن کا حکم دیا، جس کے بعد تمام ایس ایچ اوز نے خصوصی کارروائیاں کرکے منشیات ڈیلروں کو گرفتار کرکے ہر ایک سے کئی کلو آئس، ہیروئن، چرس اور شراب برآمد کی۔ ایک ایس ایچ او نے نام نہ بتانے کی شرط پر مشرق کو بتایا کہ عدالت کی جانب سے حکم دیا گیا تھا کہ زیادہ منشیات پکڑنے والے ملزمان کو انسداد دہشت گردی سوات کی خصوصی عدالت میں پیش کیا جائے۔ جب ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا، تو عدالت کے جج نے ایس ایچ اوز کو کہا کہ اس میں پرائیویٹ گواہ نہیں اور سارے گواہ پولیس اہلکار ہیں۔ جواب میں پولیس نے کہا کہ منشیات ڈیلروں کے خلاف عوام ڈر کی وجہ سے گواہی نہیں دیتے۔ اس کے بعد انسداد دہشت گردی کے جج نے ویمن پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او نیلم شوکت، ایس ایچ اوز مجیب عالم خان ، حبیب سید خان، عزیز خان، سہراب خان، محمد اایاز خان، بخت اللہ، رفیع اللہ اور فضل کریم کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا۔ انسداد دہشت گردی کی عدالت کے اس فیصلے کے خلاف ذکر شدہ ایس ایچ اوز نے پشاور ہائی کورٹ مینگورہ بنچ میں اپیل دائر کی۔ گذشتہ روز ہائی کورٹ نے ایس ایچ اوز کی اپیل خارج کرتے ہوئے انسداد دہشت گردی کے فیصلے کو برقرار رکھا۔ قانونی ماہرین کے مطابق یا تو اب یہ ایس ایچ اوز وفاقی آئینی عدالت میں ہائی کورٹ کے خلاف اپیل کریں گے یا ان کے خلاف ایف آئی آر درج ہوگی اور تمام ایس ایچ اوز جیل جائیں گے۔ ذرائع کے مطابق ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد سوات کے تمام 25 پولیس تھانوں کے ایس ایچ اوز نے رابطہ کرکے فیصلہ کیا ہے کہ آج ہفتہ سے وہ منشیا ت فروشوں کے خلاف کارروائی نہیں کریں گے۔
