Swat

سوات، 2017ء کیا کھویا کیا پایا؟

مینگورہ (فیاض ظفر باخبر سوات ڈاٹ کام) سوات اور سوات کے لوگوں کے لئے امن کے لحاظ سے 2017ء خوش قسمت اور ترقی کے حوالے سے بدقسمت سال ثابت ہوا۔ سال 2017ء میں سوات میں بد امنی کا کوئی بڑا واقعہ پیش نہیں آیا۔ عید الفطر کے موقع پر کالام روڈ پر دو چھوٹے بم دھماکے ہوئے تھے جن میں فورسز کے تین جوان معمولی زخمی ہوئے تھے۔ دو ماہ قبل ملم جبہ کے علاقہ میں ایک چھوٹے بم دھماکے میں ایک شخص جاں بحق ہوا تھا ۔ اس کے علاوہ اس سال ٹارگٹ کلنگ کا کوئی خاص واقعہ بھی پیش نہیں آیا۔ 2009ء میں نقلِ مکانی کے بعد یہ سال سب سے پُرامن رہا جس کو سوات کے لوگ خوش بخت سال قرار دے رہے ہیں۔ ترقی کے حوالے سے سوات اس سال بد قسمت رہا۔ اس سال سوات میں کوئی بڑا ترقیاتی منصوبہ مکمل نہ ہو سکا۔ کوکارئی جامبیل، بحرین تا کالام، مہو ڈنڈ، ملم جبہ سمیت تمام اہم شاہراہیں تا حال آثار قدیمہ کا منظر پیش کر رہی ہیں۔ سوات جیل بار بار افتتاح کے باوجود نہ تو تعمیر ہو سکا اور نہ اس پر تعمیراتی کام کا آغاز ہی ہوسکا۔ سڑکوں کی انتہائی خراب صورتحال کی وجہ سے سوات کی سب سے بڑی صنعت سیاحت کو بہت بڑا نقصان پہنچا۔ اس وقت صوابی سے چکدرہ تک صوبائی حکومت کے تعاون سے ایف ڈبلیو او سوات ایکسپریس وے کی تعمیر کر رہی ہے جس کی تکمیل کے لئے مارچ کا مہینہ دیا گیا تھا، لیکن اب یہ منصوبہ مقررہ مدت میں مکمل نہیں ہو رہا۔ چکدرہ سے قندیل (مدین ) تک سعودی عرب حکومت کی مالی معاونت سے سڑک کی تعمیر اور کشادگی کا کام بھی شروع کیا گیا لیکن کام کی رفتار اور معیار سے لوگ مطمئن نہیں ہیں۔ ایم ایم اے دور میں شروع ہونے والے سوات سے پانچ سو بستروں پر مشتمل جدید ہسپتال کی تعمیر اس سال بھی نہ ہو سکی اور سوات کے سرکاری ہسپتالوں کی حالت زار کو بھی تبدیل نہیں کیا جاسکا

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں