ایڈووکیٹ نصیراللہ خانکالم

حکومت پاکستان اور پی ٹی ایم

پختون تحفظ مومنٹ (پی ٹی ایم) پختون خواہ وطن اور بلوچ وطن میں غیر ریاستی عناصر کے جاری ظلم و بربریت کے خلاف پختونوں کی نمائندہ تحریک کے طور پر ابھر کر سامنے آئی ہے۔ جہاں تک میں سمجھتا ہوں پی ٹی ایم پاکستان کی سالمیت، خود مختیاری اور بقا پر یقین رکھتی ہے۔ پاکستان کے قانون و آئین کے اندر اپنے مطالبات کا پرچار کرتی ہے۔ شائد اس لیے سابقہ حکومت پی ایم ایل این نے پختون تحفظ مومنٹ کے ساتھ معاہدہ کیا تھا۔ اسلام آباد دھرنے کے مطالبات کو جلد از جلد حل کرنے کے لیے وعدہ کیا تھا۔ ملکی تمام پارٹیوں سمیت عسکری راہنماؤں نے بھی پی ٹی ایم کے مطالبات کو جائز مانا تھا۔ اب صورتحال یہ ہے کہ حکومت مطالبات کو حل کرنے میں پس و پیش سے کام لے رہی ہے، جس سے خیبر پختونخواہ سمیت قبائلی علاقہ جات میں ریاستی اداروں کے خلاف نفرت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ان حالات میں پختون تحفظ مومنٹ جگہ جگہ جلسے جلوس کر رہی ہے۔ سادہ مطالبات کو قصداً عمداً پیچیدہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ پی ٹی ایم کے فعال کارکنوں کو مختلف جگہوں پر ہراساں کیا جا رہا ہے۔ ان کے خلاف ایف آئی آرز کاٹی جا رہی ہیں، جس کی وجہ سے آئے روز پی ٹی ایم کے ممبران مختلف علاقوں میں مظاہرے اور جلوس کرنے پر مجبور ہیں۔ شائد اس لیے پی ٹی ایم کا عمومی تأثر ملکی سطح پر مزید نکھر کر سامنے آرہا ہے۔ مطالبات واضح ہیں: نقیب کیس میں راؤ انوار کی پھانسی، وزیرستان سے مائنز کی صفائی، چیک پوسٹوں پر نرم رویہ اور نامعلوم افراد کو عدالتوں میں پیش کرنا ہیں۔
قارئین، اب پی ٹی ایم کا بیانیہ دیکھتے ہیں جو جلسوں میں سٹیج کی طرف سے آتا ہے۔ پہلے ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ پی ٹی ایم میں کون سے سٹیک ہولڈر ان کی حمایت میں کھڑے نظر آتے ہیں اور ان کا سٹیٹ کے خلاف بیانیہ کیا ہے؟ کو ن کس کس سلوگن پرپی ٹی ایم کا پلیٹ فارم استعمال کرنا چاہتا ہے؟ اس کے اسباب اوروجوہات کیا ہیں اور کون اس کے ذمہ دار ہیں؟ ان سب سوالات کے جوابات ڈھونڈنا آسان نہیں۔ ایک طرف عوامی نیشنل پارٹی کا اپنا سیاسی ہدف ہے، تووہ پچھلے وقتوں میں پختونستان اور ’’لر او بر یو افغان‘‘ مطلب ڈیورنڈ کے آر پار ایک افغان وغیرہ کے نعرے لگا چکی ہے۔ اس وجہ سے ریاست کی طرف سے ٹف ٹائم بھی اسے دیکھنے کو ملا ہے ۔ پی ٹی ایم میں بارہا ان کے پارٹی ورکرز کی طرف سے ’’لر او بر یو افغان‘‘ کا نعرہ بھی سننے میں آتا ہے۔ یہی مذکورہ نعرہ پختونخوا ملی عوامی پارٹی کا بھی رہا ہے اوروہ ’’لوئے افغان‘‘ یعنی بڑے افغانستا ن کی بات کرتی ہے۔ ان مذکورہ پارٹیوں کی قیادت اگرچہ پاکستان سے وفاداری کا حلف لیتی ہے، پاکستان کی سالمیت اور بقا پر یقین رکھتی ہے اورسیاست اس نظریہ پر کرتی ہے۔ تاہم ان مذکورہ پارٹیوں کے ہمدرد پی ٹی ایم کے پلیٹ فارم سے انفرادی طور پرمذکورہ نعروں سے دل کو سکون پہنچاتے رہتے ہیں۔ یہ دوسری بات ہے کہ ان نعروں کی تردید ان کی سیاسی ونگ کی طرف سے کم ہی دیکھنے میں آتی ہے۔
دوسری طرف طبقاتی جدوجہد اور عوامی ورکر پارٹی کے ممبران جو کہ فعال طور پر پی ٹی ایم کے ساتھ منسلک ہیں اور تقریباً ہر جلسے، مظاہرے اور جلوس میں اپنا لہو گرماتے رہتے ہیں۔ ان تحریکوں کے علمبردار انقلابی سیاست کرتے ہیں اور تمام دنیا کے مظلوموں کے حق کے لیے آواز بلند کرتے ہیں۔ اس لیے پی ٹی ایم کے مطالبات سے اپنا مطلب اور سیاسی فائدہ لینا چاہتے ہیں۔ ان کا مقصد اگرچہ اس خطے کے مظلوم عوام کا حق لینا ہے اور وہ جو سالوں سے بلا جواز قید و بند کی صعوبتیں برداشت کررہے ہیں، اِن کی وابستگی کی دوسری بڑی وجہ اُن مظلوموں کے سینے میں اپنا نرم گوشہ پیدا کرنا بھی ہے۔ تاہم اس میں شک کرنے کی گنجائش نہیں کہ پی ٹی ایم کے تمام مطالبات عین قانونی اور آئینی ہیں، لیکن پشتو کی ایک کہاوت کے مصداق ’’پی ٹی ایم ایک گرم تندورہے جس میں ہر کوئی اپنی روٹی تیار کرنا چاہتا ہے۔‘‘
دیکھنے میں آیا ہے کہ رجعت پسند تحاریک، جہادی اور طالبان بھی پی ٹی ایم کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ کیوں کہ ان کے افراد سالوں سے جیلوں میں بند ہیں۔ پی ٹی ایم کا مطالبہ واضح ہے کہ جو دہشت گردی میں ملوث افراد ہیں، ان کو عدالتوں میں پیش کرکے مجرموں کو قرا ر واقعی سزا دلوائی جائے اور بے گناہوں کو چھوڑ دیا جائے۔ اس لیے وہ سمجھتے ہیں کہ جب یہی مذکورہ افراد عدالتوں تک آئیں گے، تو شائد ان کے دوست و احباب کو رہائیاں مل جائیں گی۔ اس طرح اگر ایک طرف پی ٹی ایم کے لیے ان کا نرم گوشہ موجود ہے، تو دوسری طرف پی ٹی ایم کو زچ یا ختم کرنے اور ان سے فائدے کے حصول کے متمنی بھی ہیں۔
تیسری قوت غیر ممالک کے سربراہان اور پاکستانی تارکینِ وطن پی ٹی ایم کے خیر اندیش ہیں اور ان کا مستقل سپورٹ اور تائید بھی اسے شامل ہے۔ اس طرح نیک تمناؤں کا سلسلہ جاری و ساری ہے۔
قارئین، یہی حالات و وجوہات ہیں جن سے پاکستان میں پی ٹی ایم کو غیر ملکی اہمیت ملتی ہے اور اس کو سپورٹ کیا جاتا ہے۔ حالاں کہ یہ سپورٹ قطعی طور پر بغاوت کے لیے نہیں۔ البتہ اپنے حقوق کے حصول بارے پُرامن مزاحمت کے لیے ہے۔ اس طریقے سے پی ٹی ایم کو اخلاقی سپورٹ ملنا ہماری حکومت پر ان کی بدگمانی کا واضح ثبوت ہے۔ عالمی اداروں کو متوجہ کرنا اور اُن کو اِن زیادتیوں کے حساب کے لیے بلانا بھی ریاست پر ایک طرح کا عدم اعتماد ہے۔ اس مسئلے کا حل اگر ایک طرف پی ٹی ایم اورحکومت نکالنا چاہتی ہے، تو دوسری طرف سے واضح اشارے نہ ملنے کا عمل بھی شکوک و شبہات کو ہوا دیتا ہے۔ (جاری ہے)

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں