روح الامین نایابکالم

اخلاقی جرأت

اقتدار ملنے کے بعد تحریک انصاف والوں نے جو دھینگا مشتی شروع کی ہے، اُس کی مثال ماضیِ قریب و بعید میں کسی بھی حکومتی وزرا و اراکین میں نہیں ملتی۔ عوامی رائے تو اس حد تک آگئی ہے کرپشن اور معیشت کے مسائل بھاڑ میں جائیں، ان میں تبدیلی لانا تو درکنار رویوں، سلوک اور اخلاقیات میں گزارہ کریں، تو بڑی بات ہے۔ جہاں تین دن کے دھرنوں کو بغاوت قرار دیا جا رہا ہے، وہاں چار مہینوں کے تشدد آمیز دھرنوں، مار پیٹ، بجلی، گیس کے بلوں کو جلانے، ٹیکس نہ دینے کی ترغیب، باہر سے بنکوں کی بجائے ہنڈی پر غیر قانونی پیسے بھیجنے جیسے احکامات کو ’’جمہوری جدوجہد‘‘ قرار دینے اور عوامی شعور بیدار ہونے کے عمل سے تشبیہ دیا جا رہا ہے۔ جعلی منڈیٹ ہی سہی لیکن اچھا ہوا حکومت تو ملی۔ اقتدار میں آئے تو اصطلاحات کے معنی ہی بدل گئے۔ کنٹینر پر کھڑے ہوکر باہر کی امداد کو ’’خیرات‘‘ کہا جا رہا تھا، شرم دلائی جارہی تھی اور تختِ اسلام آباد پر بیٹھ کر اُسی خیرات کو اب ’’امداد‘‘ کہا جا رہا ہے، اُس پر فخر کیا جارہا ہے اور قوم کو ’’خوشخبری‘‘ سنائی جارہی ہے۔ تین دن کے دھرنوں میں قومی املاک کو نقصان پہنچانے والوں کو ذمہ دارقرار دیا جارہا ہے۔ انہیں سزا دلانے کے لیے عدالتی کٹہرے میں لایا جارہا ہے۔فوج، عدلیہ نیز سیاسی لوگوں کو گالیاں دینے کی جرأت کو کھلم کھلا ریاست سے بغاوت قرار دیا جا رہا ہے اور وہ جو کنٹینر پر کھڑے ہوکر پارلیمنٹ پر لعنت بھیجی جا رہی تھی، سیاسی لیڈروں کو گالیاں دی جارہی تھیں، ریاست کو اربوں روپوں کا نقصان پہنچایا جارہا تھا، اس کا اِزالہ کون کرے گا؟ دوغلے پن، بے ایمانی، خود غرضی اور مفاد پرستی کی انتہا ہے۔ عوام اس عجیب صورت حال سے پریشان ہیں۔ مہنگائی الگ سے غضب ڈھا رہی ہے، کرپشن کا ڈھول پیٹ کر سیاست اور سیاسی لوگوں کو بدنام کیا جارہا ہے، لیکن اللہ کی مار اورمکافات عمل بھی کوئی شے ہے۔ عمران خان کی حکومت کو اپنے ایک ایک عمل کے لیے جواب دہ ہونا پڑے گا۔ ایک ایک ظلم، بہتان اور جھوٹ کا حساب دینا پڑے گا، لیکن یہ لوگ بلا کے ڈھیٹ واقع ہوئے ہیں، ان میں اخلاقی جرأت نام کو بھی نہیں کہ اپنی غلطیاں تسلیم کریں اور اُس پر شرمندگی کا اظہار کریں۔ اسمبلی کے اراکین اقتدار کے پہلے دن سے ہی عجیب و غریب حرکات کرتے چلے آ رہے ہیں۔ کہیں سڑک کنارے عام غریب آدمی کو تھپڑ رسید کرتے ہیں اور کہیں اپنے اختیارات کا ناجائز فائدہ اُٹھا کر غریب اور لاچار بے گھر گھرانے کو جیل میں ڈالواتے ہیں۔ طاقت دکھانے کے لیے وزیراعظم تک کو فون کرکے احکامات نہ ماننے پر پولیس افسران کو تبدیل کرواتے اور معطل کر دیتے ہیں۔ لعنت ہے ایسے انصاف پر، ایسی حکومت پر، چوری اور اوپر سے سینہ زوری کا ہر جگہ مظاہرہ ہورہا ہے۔
کیا اعظم سواتی کی کوئی عزت رہ گئی ہے؟ کوئی شرافت، کوئی حیا اور شرم ہے کہ اخلاقی جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کم از کم اپنے وزارتی عہدے سے ہی مستعفی ہوجائیں۔ سپریم کورٹ کے بار بار کہنے کے باوجود اُسے شرم نہیں آتی۔ ڈھیٹ بننے کی اس سے بدترین مثال اور کوئی نہیں۔ عمران خان سے مطالبہ ہے کہ وزرا کی کارکردگیوں کے بارے میں اپنے وعدوں کا پاس کرتے ہوئے اعظم سواتی کو فی الفور وزارتی عہدے سے الگ کرے۔ اگر چہ اُس نے تحریکِ انصاف پر سرمایہ کاری کی ہوئی ہے اور پارٹی کے لیے پیسہ لگایا ہے، لیکن پیسہ تو جہانگیر ترین نے بھی لگایا تھا۔ ہر جگہ اور ہر وقت تو پیسے کو نہیں دیکھا جاتا، پارٹی قانون اور پارٹی پالیسی بھی تو کوئی چیز ہے۔۔۔ اگر ہو تو ۔
میں سمجھتا ہوں کہ تحریک انصاف کا اپنا بنیادی اور نظریاتی کارکن ایسی غیر اخلاقی حرکات کبھی نہیں کرے گا۔ کیوں کہ وہ پارٹی اور عمران خان کے ساتھ مخلص ہے۔ اُس نے پارٹی کے لیے قربانی دی ہیں۔ اس قسم کی حرکات دراصل وہ عناصر کرتے ہیں جو وقتی اور ذاتی مفاد حاصل کرنے کے لیے باہر دوسری پارٹیوں سے قتاً فوقتاً شامل ہوتے آتے ہیں۔ اُنہیں تحریکِ انصاف کے منشور اور پروگرام سے کوئی غرض و غایت نہیں۔ انہیں صرف اور صرف اقتدار سے دلچسپی ہے، تاکہ اپنے معاشی اور معاشرتی مفاد حاصل کریں۔ ان میں اعظم سواتی بھی ہے جو مختلف پارٹیوں سے ہوکر اپنے پیسوں کے بل بوتے پر تحریکِ انصاف کے صفِ اول کے راہنماؤں میں شامل ہوگیا۔
قارئین، کیا بات ہے عمران خان کی کہ جو خود بے وفائیوں، پارٹیاں بدلنے، کرپشن کرنے اور لوٹ مار کرنے کا شاہکار ہے، اُسے کرپشن کے خلاف، سماج میں تبدیلی لانے اور تحریک انصاف کے نام پر انصاف کابول بالا کرنے کے لیے اپنی پارٹی میں راہنمائی سونپ دی۔ یہ لوگ تو عادی چور ہیں، یہ تو جہاں بھی ہوں گے، ایسی ہی حرکات کرتے رہیں گے۔ چور، چوری سے جائے ہیرا پھیری سے نہ جائے۔
عمران خان سے درخواست ہے کہ وہ پاکستانی عوام پر رحم کریں۔ ہوش کے ناخن لیں۔ وہ پاکستان کے غریب اور پسے ہوئے لوگوں کی اُمیدہیں، وہ اپنی پارٹی میں تطہیر کا عمل شروع کریں۔ اگر وہ کامیاب حکومت کرنا چاہتے ہیں، اگر وہ استحصال، لوٹ مار اور کرپشن سے پاک پاکستان بنانا چاہتے ہیں، تو اپنی پارٹی سے ایسے خود غرض، مفاد پرست اورلالچی افراد کو فوراً نکال دیں۔ پارٹی کو ایسی گندگی سے صاف کریں۔ یہ پارٹی اور پارٹی منشور کے لیے بدنامی کا باعث بن رہے ہیں۔ اقتدار کے لیے ہر ایرے غیرے کو بغیر کسی چھان بین کے پارٹی میں شامل کردیا گیا ہے۔ اب گاہے بگاہے ان سب کو بھگتنا پڑے گا۔ مزید بھگتنا چھوڑ دیں۔ ان کو نکال باہر کریں۔ تحریکِ انصاف کے مخلص ارکان سے درخواست ہے کہ وہ اعظم سواتی جیسے خود غرض اور مفاد پرست لوگوں کے خلاف خود دھرنا دیں نہ کہ اُن کی غلطیوں پر پردہ ڈالنے اور صحیح ثابت کرنے کے لیے بہانے اور جھوٹی دلائل تراشنا شروع کر دیں۔ یہ یاد رکھیں کہ حقیقت حقیقت ہے، سچ سچ ہے اور جھوٹ جھوٹ، خواہ کہیں بھی ہو اور جب بھی ہو۔ آپ بھی اخلاقی جرأت کامظاہرہ کریں سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ قرار دیں۔

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں