کالم نگاری

یلغار جاری ہے

روح الامین نایاب

✍️ کالم نگار: روح الامین نایاب

اشتہار / Advertisement

قارئین کرام! ملکِ عزیز پر ہر طرف سے یلغار جاری ہے۔ غریب عوام پر بے روزگاری، مہنگائی کا یلغار تو جاری ہی تھا کہ اچانک ڈینگی نے ایسا حملہ کردیا کہ سب کے اوسان خطا ہوگئے۔ درجنوں مر گئے ہیں، اور ہزاروں بے یارو مددگار ہسپتالوں میں ایڑیاں رگڑ رہے ہیں۔ کوئی پرسان حال نہیں۔ ”تقریر“ کا بخار چڑھنے لگا اور ابھی جذبات میں قوم تپ رہی تھی کہ لوگوں کے ہاتھوں میں ہزاروں روپے کے بجلی بل تھما دیے گئے۔ اربوں روپوں کی ہر مہینے میں اووربلنگ ہوجاتی ہے۔ اووربلنگ کی وجہ سے عوام سوچنے پر مجبور ہوگئے ہیں، کہ کیا ہم نے اپنے گھروں کو کرایہ پر چھڑا لیا ہے کیا؟ لوگ دفتروں کے چکر کاٹ رہے ہیں، کہ کسی طرح اپنے بل گھٹائیں۔ اوپر سے ہڑتالیں ہو رہی ہیں۔ ڈاکٹروں کی ہڑتالوں نے عوام کا جینا دوبھر کردیا ہے۔ لوگ بیمار پڑے ہیں۔ ہسپتال نہ جائیں تو کدھر جائیں۔ تمام ہسپتالوں میں تالے لگے ہوئے ہیں۔ ڈاکٹرز صاحبان حکومت کی پرائیویٹازیشن پالیسی یعنی نجکاری کے مخالف ہیں۔ وہ اس حوالہ سے نکل پڑے، تو حکومت نے ڈنڈوں اور آنسو گیس کا بے دریغ استعمال کیا اور مظاہرین کو لہولہان کردیا۔
بجلی کے بلوں کو دیکھ کر عوام کے ہوش و حواس اُڑ گئے۔ آخر کہاں سے اتنے زیادہ پیسے لائیں؟ لازمی بات ہے کہ نتیجے کے طور پر چوری، بے ایمانی، حرام خوری، دہشت گردی اور قتل و غارت گری بڑھے گی، اور ملک افراتفری کا شکار ہوگا۔ ایسے میں کون ہے جو غریبوں کی فریاد سنے، آنسو پونچھے۔ ہمارے قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کے اراکین کسی اور دنیا میں ہیں۔ بہرحال اُن کی جیبیں تو بھری ہوئی ہیں۔ ہمارے خالی جیبوں والوں کا مسئلہ خراب ہے۔ آخر ہم کس کس یلغار سے اپنے آپ کو بچائیں۔ گیس مہنگائی کی یلغار جاری ہے۔ اب گھریلو صارفین کو LPGکا چھوٹا سلینڈر 1500روپے میں ملا کرے گا۔ معیشت کے حوالے سے حالات دگرگوں ہیں۔ کاروباری طبقہ بے چینی اور بے قراری کا شکار ہے۔ حکومت اور نیب نے اُن کے کاروبار پر یلغار شروع کردیا ہے۔ انہیں توہین آمیز طریقے سے نیب کے سامنے لایا جارہا ہے۔ کرپشن اور آمدنی سے زیادہ اثاثوں کے نام پر اُنہیں تنگ کیا جا رہا ہے۔ تجارت پیشہ اور کاروباری طبقے کا اعتماد اور بھروسا ختم ہوتا جا رہا ہے۔ اگر اس پر توجہ نہ دی گئی، تو عنقریب اس کے خطرناک نتائج نکل سکتے ہیں۔
اس تمام تر صورتحال میں سوات یونیورسٹی انتظامیہ نے جہانزیب کالج کی امتحانی فیس کو اچانک پانچ سو روپے سے بڑھا کر ساڑھے چار ہزار روپے کرنے کی یلغار کی ہے۔ اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ طلبہ نے سڑکوں پر نکل کر اپنے غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ اور احتجاجی مظاہرے کئے ہیں اور یہ نو ٹی فکیشن واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ورنہ خطرناک نتائج کی دھمکی دی ہے۔ اب یہ یلغار کیا شکل اختیار کرتی ہے؟ یہ تو آئندہ چند دنوں میں ہی پتا چل جائے گا۔
قارئین کرام! بجلی بلوں کی یلغار نے عوام کو حیران و پریشان کردیا ہے۔ ہزاروں روپے کے بلوں نے عجیب صورت حال پیدا کی ہے۔ عوام نے جب واپڈا کے دفتروں پر واپسی یلغار کردی، تو واپڈا افسروں نے رو رو کر دہائی دی کہ ہمارے پاس مطلوبہ میٹر ریڈر نہیں ہیں۔ پچیس ہزار میٹروں کو دیکھنے کے لیے صرف دو عدد میٹر ریڈرز ہیں۔ لہٰذا تمام میٹر دیکھنا ناممکن ہے۔ اس لیے تمام صارفین کو اندازے سے بل بھیجے جاتے ہیں۔ متعلقہ ایکسین صاحب نے ایک بار کھلی کچہری میں ڈی سی صاحب کے سامنے برسرِعام اس مسئلے کا اظہار کیا تھا، اور یہ خوش خبری سنائی تھی کہ عنقریب میٹر ریڈرز بھرتی کیے جائیں گے۔تاکہ عوام کا یہ دیرینہ مطالبہ پورا ہوجائے۔
قارئین کرام! اندازہ لگائیں اور یہ ظلم، ناانصافی کا کھلم کھلا مظاہرہ دیکھیں کہ بھرتی واپڈا والے نہیں کرتے۔ میٹر ریڈرز اُن کے پاس کم ہیں، لیکن نتائج عوام کو بھگتنا پڑ رہے ہیں۔ بیس بیس ہزار کے بل جمع کرائیں، یہ غریب، محتاج لوگ، یہ بے روزگار عوام، یہ سادہ محب وطن بندے۔ آخر یہ اتنے گناہگار کیوں ہیں؟ ان کا قصور کیا ہے؟ یہ غریب اور مجبور لوگ دفتروں کے چکر کاٹ کر منت اور زاری کرکے بلوں میں کچھ رقم گھٹادیتے ہیں، لیکن افسوس کی بات یہ ہے اور المیہ یہ ہے کہ جو رقم مہیا کی جاتی ہے، وہ اگلے مہینے کے بل میں دوبارہ شامل کی جاتی ہے۔ اس طرح یہ ظلم و ستم کا سلسلہ چلتا رہتا ہے۔ سوات کے واپڈا کے دفتر میں اب بھی بوڑھے بیٹھے ہوئے ہیں۔ شاید اگلے دو، تین ماہ میں یہ ملازم بھی ریٹائرڈ ہوجائیں۔ پھر دفتر خالی ہوجائے گا، جب کہ نئے ملازم بھرتی ہونے کا کوئی امکان نہیں۔ سوال یہ ہے کہ کون ذمہ دار ہے اس افراتفری کا، اس بے خبری کا اور اس غیر ذمہ داری کا؟
قارئین، میں مانتا ہوں کہ کچھ غلطیاں پہلے سے بھی آرہی ہوں گی۔ وہ پچھلے لوگ بھی کوئی فرشتہ صفت نہیں تھے، لیکن بات تبدیلی کی ہورہی ہے۔ انصاف کی نوید سنائی جا رہی تھی۔ حالات کی مکمل کایا پلٹ کے نعرے لگائے جارہے تھے۔ نظام کی تبدیلی اور سٹسم کو ختم کرنے کی بات ہورہی تھی۔ لہٰذا پچھلی حکومتوں سے موازانہ کرنا بے انصافی ہوگی۔ وہ تو سارے چلے گئے۔ وہ تو چور تھے، کرپٹ تھے، نا اہل تھے، وہ تو جیلوں میں سڑ رہے ہیں۔ ناکام تھے، ملک و قوم کا بیڑا غرق کردیا۔ دیوالیہ کردیا گیا، خزانہ لوٹا گیا۔ لیکن اب آپ لوگ کیا کررہے ہیں، کیاکارکردگی ہے، کیا معاشی پالیسی ہے، کیا صحت اور تعلیمی پالیسی ہے، آخر کب تک نہ گھبرائیں؟ کب تک مہنگائی کے ظالم ہاتھوں کے مار کھاتے رہیں گے؟ آخر کب تک یہ ظالمانہ یلغار ہوتے رہیں گے؟ یہ تحریک انصاف کے نام پر تارکِ انصاف کب تک چلتا رہے گا؟یہ یلغار تو ہر کوئی کرسکتا ہے۔ ایسا نہ ہو کہ مولانا صاحب کی یلغار سب کچھ بہا کر لے جائے اور تم ہاتھ ملتے رہ جاؤ۔ کیوں کہ یلغار تو کب سے جاری ہے اور اسے جاری ہی رہنا ہے۔

اشتہار / Advertisement
اشتہار / Advertisement
اس تحریر کو شیئر کریں:

⭐ آپ کو یہ تحریر کیسی لگی؟ (درجہ بندی کریں)

براہ کرم اس تحریر کو 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹنگ دیں

اوسط ریٹنگ: 0 / 5 (0 ووٹ)

اپنا تبصرہ تحریر کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کی نشاندہی * سے کی گئی ہے۔