Swat

تھیلی سیمیا تیزی سے پھیلتی ہوئی موروثی اور موذی بیماری ہے، سرزمین خان گوجر

سوات  (باخبرسوات ڈاٹ کام)  تھیلی سیمیا تیزی سے پھیلتی ہوئی موروثی اور موذی بیماری ہے جو متاثرہ خاندانوں کی تکالیف اور مشکلات میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔ حکومت اور معاشرہ اس مہلک مرض کی روک تھام کے لیے عملی قدم اٹھائے اور شادی سے پہلے سکریننگ ٹیسٹ کو لازمی قرار دیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار تھیلی سیمیا اور وبائی و قدرتی آفات پر کام کرنے والے رضاکار سرزمین خان گوجر نے پختونخوا ریڈیو سوات سنٹر کے پروگرام ’’د سوات رنگونہ‘‘ میں بحیثیتِ مہمان اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔ سرزمین خان کا کہنا تھا کہ تھیلی سیمیا کا مرض بالعموم کزنز کی آپس میں شادیوں سے ان کی اولاد کو منتقل ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے تھیلی سیمیا موروثی مرض ہے۔ اس بیماری میں مریض کا خون انتہائی کم ہوجاتا ہے اور اس کی زندگی کو برقرار رکھنے کے لیے مہینے یا ہفتے میں ایک بار خون کی اشد ضرورت پڑتی ہے۔ ان مریضوں کو خون فراہم کرنے کے لیے ان کی فلاحی تنظیم الفجر فاؤنڈیشن رحیم آباد سوات سمیت مختلف ادارے کام کرتے ہیں، تاہم ہمیں معاشرتی سطح پر پرہیز علاج سے بہتر کا اصول اپنانا چاہیے۔

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں