مجھے نہیں معلوم کہ شعور میں شعر کو سمایا گیا ہے یا اشعار کے ذریعے شعور کو بیدار کیا گیا ہے؟ میرے خیال میں شعر اور شعور دونوں میں اثر پیدا کرکے عوام الناس کو خوابِ غفلت سے بیدار کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ کیوں کہ خالقِ کتاب نے اپنی تخلیق کے بارے میں ایک شعر کے ذریعے اپنے مقصد کی وضاحت کچھ یوں کی ہے:
چی د غفلت د خوبولو نہ خوب وتختوی
خدایہ پہ ’’شعر او شعور‘‘ کے می اثر پیدا کڑی
’’شعر او شعور‘‘ ڈاکٹر سعید احمد سعیدؔ کا پشتو شعری مجموعہ ہے۔ خوبصورت اور جاذبِ نظر سرورق، سفید کاغذ کے 187 صفحات پر مشتمل اس شعری گلدستے کو غزلیات اور قطعات سے گل رنگ بنادیا گیا ہے۔ نیز اس مجموعے پر سعید اللہ خادم، ڈاکٹر بدرالحکیم حکیم زئی، رحمت شاہ سائلؔ ، اور میا علی نواب پریشانؔ جیسے نابغہ روزگار، مشہور و معروف شعرا اور دانشوروں نے اپنے تعارفی کلمات اور تبصرے لکھ کر کتاب کی خوبصورتی اور اہمیت کو چار چاند لگادیے ہیں۔ دراصل ’’شعر و شعور‘‘ کو ملا کر ایک نئی منزل کا تعین کیا گیا ہے۔
ڈاکٹر سعیداحمد سعیدؔ نے سوات میں ادب کی زر خیز مٹی اشاڑی گاؤں میں ایک مذہبی اور علمی گھرانے میں آنکھ کھولی۔ ’’اشاڑی‘‘ کی وہ تاریخی اور زرخیز زمین جس نے ابراہیم شبنمؔ ، جمال شاہ جمالؔ ، ابراہیم ناشادؔ ، عبدالمنیب مہجورؔ ، عبدالجبار راہیؔ ، ممتاز علی ممتازؔ ، اور سعید اللہ خادمؔ جیسے پشتو ادب کے سر خیل اور نامور شعرا کو جنم دیا۔ ڈاکٹر سعید احمد سعیدؔ مذہبی اور اعلیٰ خاندان کے چشم و چراغ ہیں۔ اُس نے بچپن میں ہی قرآنی اور حدیث کی تعلیمات حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ قرآن شریف بھی حفظ کیا ہے۔ بلاشبہ یہ ایک محنت طلب کام ہے لیکن حیرانی کی بات یہ ہے کہ ان خوبیوں کے ساتھ ساتھ وہ ایک ماہر خطاط کی حد تک خوش نویس بھی ہیں۔ ڈاکٹر سعید احمد سعیدؔ نے میٹرک ہائی سکول درشخیلہ سے کیا۔ ایف اے گورنمنٹ کالج مٹہ سے پاس کیا جب کہ بی اے کی ڈگری جہانزیب کالج سیدو شریف سے حاصل کی۔ انہوں نے پشاور یونیورسٹی سے ریاضی میں ماسٹر کی ڈگری لی۔ 2004ء میں پشاور انجینئرنگ کالج میں بحیثیت لیکچرار تعینات ہوئے، لیکن تھوڑے عرصے کے بعد اُسی پوسٹ پر ملاکنڈ یونیورسٹی میں تقرر ہوا۔ 2007ء میں بیرونی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے سکالرشپ کا امتحان پاس کیا اور سرکاری وظیفے پر لندن کی مشہور یونیورسٹی نوٹینگم میں “Applied Mathematics” میں پی ایچ ڈی ڈگری کے لیے داخلہ ملا۔ 2008ء میں اس علمی کاوش کا آغاز آخرِکار جون 2012ء میں اختتام پذیر ہوا۔ پی ایچ ڈی کی ڈگری کے ساتھ واپس وطن لوٹ آئے اور ملاکنڈ یونیورسٹی میں ریاضی کے اسسٹنٹ پروفیسر کی حیثیت سے اپنے فرائض کا آغاز کیا۔ ریاضی پر ڈاکٹر صاحب کے بے شمار علمی مقالے اور تحقیقی فن پارے بین الاقوامی مشہور جریدوں میں شائع ہوچکے ہیں، لیکن حیرانی کی بات یہ ہے کہ کہاں ریاضی جیسا خشک مضمون، ٹف فارمولے اور کہاں شاعری کے نرم و نازک الفاظ، نازک خیال، سوز وگداز اور مترنم رنگین اشعار کی برسات۔ خود ڈاکٹر صاحب نے اس جانب اشارہ کرکے کیا خوب ایک قطعہ حوالۂ قلم کیا ہے۔
لیجیے، اسے آپ بھی پڑھیے اور لطف اٹھایئے:
یو زائے بہ نہ شی، داسی اور م چرتہ اور اواوبہ
چرتہ کے شگی د بیدیا چرتہ کے شنہ باغونہ
د جانان غم، دروزگار فکر، دا یو زائے کڑل گنی
چرتہ سعیدؔ او ریاضی، چرتہ رنگین نظمونہ
یعنی جس طرح پانی اور آگ اکٹھے نہیں ہوسکتے، کہاں صحرائی ریت اور کہاں سر سبز باغات، لیکن غمِ جاناں اور غمِ دوراں نے اکٹھے ہوکر سب کچھ یکجا کردیا۔ ورنہ کہاں سعیدؔ اور ریاضی کا خشک مضمون اور کہاں شعر و شاعری کے رنگین نغمات۔
اصل میں یہ تو ڈاکٹر سعید احمد سعیدؔ کی فنکاری اور قلمکاری کی انتہا ہے کہ ایک جانب ضرب اور جمع اور دوسری جانب غمِ جاناں و غمِ دوران! کیا عجیب سنگم اور دشت جہاں ہے کہ خشک ریاضی پڑھاتے پڑھاتے ترو تازہ شاعری کے پھول بکھرنے لگتے ہیں۔ میرے خیال میں سوات کی زر خیز، مقدس اور پُرامن مٹی پر بے جا ظلم و جبر نے ان کے حساس دل کے نازک تاروں کو چھیڑ کر ان کے ولولوں اور جذبوں کو جلا بخش دی ہے۔ بارود کے شعلوں اور مظلوم انسانوں کی آہ و بکا نے ڈاکٹر صاحب کو قلم اٹھانے پر مجبور کر دیا ہے اور اپنے جذبات و احساسات کو شعروں کا رنگ دے کر کچھ یوں پیش کیا ہے:
دا کور کلے، دنیا ٹولہ، سر می لمبی راتہ خکاریگی
نہ پہ چا سترگی خوگیگی، نہ پہ چا می زڑہ ورخیژی
دا ہر سہ چی ما مجبور کڑی نو زہ ستا پہ لوری راشم
دا می ہیلہ دا امید دے چی بہ تا تہ زڑہ خکارہ کڑم
ڈاکٹر صاحب کی شاعری میں مذہبی چاشنی بھی ہے اور ساتھ نیکی اور اخلاقی شائستگی بھی۔ انہوں نے دلچسپ پیرائے میں پندو نصیحت بھی کی ہے، لیکن پختونوں کو اتفاق اور اتحاد کے حوالے سے ایک پیغام بھی دیا ہے، فرماتے ہیں:
شکریہ او جزا نہ غواڑم د بل نہ
دہ خالص می ستا رضا پہ تصور کے
خوا خوگی د قام جدا لہ زانہ سنگہ کڑم
دہ ہم دا زما کوڑمہ د زڑہ پہ کور کے
ڈاکٹر صاحب کی شاعری اگرچہ مزاحمتی شاعری نہیں ہے، اس میں انقلاب کی سرخی ہے نہ بغاوت کی للکار، البتہ اپنے پختونخوا اور پختون بھائیوں کے ساتھ زور و ظلم نے گلوں شکوؤں کے ساتھ اُسے انتقام پر بھی آمادہ کیا ہے:
پہ ڈیرہ بی دردی، د پختونخوا پہ لر او بر کے
اغیار د پختون کڑے سم بے دریغہ قتل عام دے
حالاتو ژڑولے ہر ارمان می پہ سرو سترگو
پہ نیت کے می بل شوے ورتہ اور د انتقام دے
استحصالی نظام، لوٹ کھسوٹ، طبقاتی جبر، مال دار اور غریب کے فرق کو وہ اپنے ان اشعار سے یاد کرتے ہیں:
پہ ھغہ زائے کے آخر سنگہ بہ سہ خیر پاتے شی
چی کوم یو زائے تہ شرمخ خویہ لیڈران ورسی
د زڑہ پہ وینومی مڑیگی نہ د تن پہ غوخو
راشہ فنا می کڑہ چی سر تہ دی ارمان ورسی
ڈاکٹر سعید احمد سعیدؔ کے ’’شعر او شعور‘‘ پر بہت کچھ لکھا جاسکتا ہے۔ کیوں کہ اُس کی سنجیدہ شاعری میں عامیانہ پن نہیں بلکہ پختہ خیالی ہے۔ معروضی حالات کی عکاسی کرتے ہوئے اُس کے بعض اشعار دل کو چھو کر گزرتے ہیں۔ احساسات میں طلاطم اور جذبات میں انگڑائیاں پیدا کرتے ہیں۔ لیکن کالم کی تنگی دامن آڑے آجاتی ہے۔ پھر بھی میں ڈاکٹر صاحب کے اس خوبصورت شعری مجموعے پر انہیں مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ ساتھ ممنون اور شکر گزار ہوں کہ انہوں نے اپنا قیمتی مجموعۂ کلام مجھے تحفتاً عطا کیا۔
یہ کتاب مناسب قیمت پر ہر اچھے بک سٹال پر اور ساتھ سید برادرز بکسیلرز حیات مارکیٹ مٹہ سوات، عثمان بک سیلرز زمان مارکیٹ مٹہ سوات اور مینگورہ میں شعیب بک سیلرز جی ٹی روڈ مینگورہ سوات پر دستیاب ہے۔
قارئین کرام! آخر میں ڈاکٹر صاحب کی کتاب سے ایک خوبصورت غزل کا انتخاب پیشِ خدمت ہے جس کے ساتھ ہی اجازت کا خواست گار ہوں۔
ساقی کہ ڈیر راتہ مینا یادوی
لیونے خیال مے دلربا یاد وی
راتہ خہ لوستی، بی روزگارہ زلمی
د نظام ظلم ناروا یاد وی
نڑی پہ بام د پرمختگ ولاڑہ
خوقام ماضی مو پہ بیا بیا یادوی
او دا جذبی کہ مو بیداری کڑلی
د ظلم شپی بہ بیا سبا یادوی
لگی پہ ما لکہ گوزار دٹوپک
سوک چی پہ بدہ پختونخوا یادوی
نور د جنگونو تذکری مہ کوہ
راتہ وختونہ بدنما یادوی
متعلقہ خبریں
- کمنٹس
- فیس بک کمنٹس
