ایک سوسات صفحات پر مشتمل یہ کتاب برہ درشخیلہ (سوات) کے دانشور، محقق، پی ایچ ڈی سکالر، لیکچرار شعبۂ پشتو پشاور یونیورسٹی محترم بدر الحکیم حکیم زئ صاحب نے تحریر کی ہے۔ یہ ایک مختصر مگر جامع مقالہ ہے۔ سوات کے حالات کے حوالے سے یہ پہلا مقالہ ہے جسے پہلی دفعہ تاریخ کی روشنی میں ایک سائنسی اور تکنیکی تحقیق کا نام بجا طور پر دیا جاسکتا ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر عبدالوحید خان چیئرمین شعبۂ پشتو پشاور یونیورسٹی اس تحقیق کے بارے میں اپنے تعریفی کلمات میں لکھتے ہیں کہ ’’بدرالحکیم حکیم زئی صاحب نے ’سوات میں انتہا پسندی کے محرکات‘ کا بڑی باریک بینی اور علمی انداز سے جائزہ لے کر اس موضوع پر تحقیق کا حق ادا کیا۔ اُس نے حالات و واقعات کی روایت سے ہٹ کر سائنسی طور پر تجزیہ کرتے ہوئے نئے تعبیرات متعارف کرائے۔ مجھے یقین ہے کہ یہ تحقیقی کاوش پشتونوں کے لیے ذہنی توانائی اور اُن کی آنکھوں کے لیے بصیرت کی عینک ثابت ہوگی۔ بلاشبہ یہ مقالہ پختونخوا اور خصوصاً سوات کے تناظر میں پشتون قوم کی بشریات، سماجیات، سیاسیات اور نفسیات کے متعلق ایک معتبر حوالہ سمجھا جائے گا۔‘‘
پروفیسر ڈاکٹر عبدالوحید خان نے کتاب کے بارے میں بالکل صحیح تجزیہ کیا ہے۔ یہ میری نہیں بلکہ ہر اُس قاری کی ترجمانی ہے جس نے اس کتاب کو تاریخی اور تحقیقی آنکھ سے پڑھا ہے۔ اس سے پہلے بھی سوات کے فسادی اور خوں ریز حالات پرمقالے اور تحاریر لکھی گئی ہیں اور اُن پر بھی محنت اور کاوش کرکے تحقیق کے ساتھ انصاف کیا گیا ہے۔ ان میں فضل ربی راہیؔ صاحب کی 2011ء میں شائع شدہ کتاب ’’اور سوات جلتا رہا‘‘ فروری2009ء میں احسان حقانی کا شائع ہونے والا مقدمہ ’’سوات کا مقدمہ‘‘ اور 2016ء میں محترمہ تبسم مجید کی ایم فل کے لیے تحقیق ’’سوات کی شورش: تنازعہ کا تصفیہ اور قیامِ امن‘‘ کتابی صورت میں شائع ہوئی۔ دراصل یہ ریسرچ انگریزی زبان میں تھی لیکن سوات کے مایہ ناز مصنف اور سینئر صحافی محترم فضل ربی راہیؔ صاحب نے اس کا اردو ترجمہ کرکے اسے ایک تاریخی اور یادگاری شکل دے دی۔ تبسم مجید نے اپنے مقالے میں ریاست اور معاشرے کے مابین تعلق کے اُس پیچیدہ بیانیہ کا بھی تجزیہ کیا ہے جس نے شورش کے دوران میں تنازعہ کی بنیادی وجوہات کو جنم دیا تھا۔ اس بارے میں مصنفہ نے تنبیہ کی ہے کہ اہلِ سوات کے اصل مسائل اور مشکلات پر ہنگامی بنیاد پر توجہ مرکوز کی جائے۔
فضل ربی راہی ؔ کا ’’اور سوات جلتا رہا‘‘ دراصل بے بسی اور درد کا وہ اظہاریہ ہے جو پہلے اخباری کالموں کی شکل میں سامنے آیا تھا اور بعد میں اس نے کتابی صورت اختیار کی۔ اُس میں کالموں کے ذریعے بعض حالات و واقعات کو ایسے جرأت مندانہ انداز سے بیان کیا گیا ہے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ اُس وقت کے حالات کا خود مختار عناصر کو ببانگ دُہل ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔ ایسے مشکل اور دگرگوں حالات میں اگر کوئی سچ بیان کرنے پر اصرار کرتا ہے، تو ایسے قلم کے آگے سجدۂ نیاز بجا لانا چاہیے۔ بلا شبہ تبسم مجیداور فضل ربی راہی ؔ صاحب کے ساتھ ساتھ بدرالحکیم حکیم زئ کا قلم فخر و نیاز کے لائق ہے جنہوں نے سچ لکھ کر حقِ قلم ادا کیا ہے۔
بدرالحکیم حکیم زئی صاحب نے تاریخی تسلسل کے ذریعے طبقاتی جبر کا تجزیہ کیا ہے، جو محمودِ غزنوی کی فوج کی آمد سے لے کر یہاں بسنے اور گوجر طبقے سے زمینیں لے کر فوج میں تقسیم کرنے اور گوجر طبقے کو بے دخل کرکے پہاڑوں کی طرف زبردستی دھکیلنے سے لے کر بعد میں تقریباً چار سو سال کے بعد یوسف زئی قبیلے کے افغانستان سے بھاگ کر آنے اور پرانے سواتیوں (محمودِ غزنوی کی فوج کے باقیات) کے ساتھ وہی سلوک کرنے، جو پرانے سواتیوں نے گوجروں کے ساتھ کیا تھا اور زبردستی پرانے سواتیوں کو فتح کرکے دریائے سندھ کے پار بھگانے اور زمینوں پرقبضہ کرکے شیخ ملی کی تقسیم کے ذریعے یوسف زئی کے خیلوں پر تقسیم کرکے سوات کے زر خیز زمین کا مستقل باشندگان بنانے کا ذکر کیا گیا ہے۔ بعد میں ریاستی دور (1915-69) کی خوبیوں اور خامیوں اور پھر پاکستانی دور کی کارستانیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس تمام تسلسل، حقیقی کہانی میں طبقاتی جبر اور ناانصافیوں کا سائنسی طریقہ کار کے ذریعے تجزیہ کیا گیا ہے۔ Find out how TradeFT eases the learning curve for those just entering the market.
کتاب کا دوسرا باب ’’سماجی نا انصافی‘‘ پر مبنی ہے جس میں ناقص پالیسیوں، جھوٹی سیاست، ناقص نظامِ تعلیم اورجرنیلوں کی سیاست پر دل کھول کر تبصرہ کیا گیا ہے اور یہ ثابت کیا گیا ہے کہ سوات میں انتہا پسندی اور خوں ریزی کے سیلاب کو اگر ایک حادثہ بھی سمجھا جائے، تو حادثے یک دم رونما نہیں ہوا کرتے بلکہ دراصل برسوں پر پھیلے ہوئے مسلسل جبر و ظلم کے ضابطے و مغالطے اس کی پرورش کرتے ہیں۔
کتاب کا تیسرا باب ’’سواتیوں کی نفسیات‘‘ پر مبنی ہے۔
بدرالحکیم حکیم زئی صاحب نے بہت تفصیل سے اور نہایت جرأت کے ساتھ سواتیوں کی نفسیات حوالہ قلم کی ہیں۔ انہوں نے سواتیوں کی نفسیات میں جنگجویانہ مزاج سے لے کر مذہبی ذہنیت، توہم پرستی، حرص، مخاصمت، تکبر اور جذباتیت تک کا ذکر بہت دلچسپ انداز سے بیان کیا ہے۔ تمام تاریخی حالات واقعات میں مدلل طور پر خوبیوں اور خامیوں کا ذکر کیا ہے۔ کتاب اپنے تاریخی اور حالیہ حوالوں سے نت نئی معلومات سے بھر پور ہے۔ اول صفحہ سے لے کر آخر تک پڑھتے ہوئے قاری دنیا جہاں سے بے خبر ہوجاتا ہے۔
قارئین، میں نے یہ کالم اس لیے نہیں لکھا کہ کتاب کی تعریف و توصیف کے پل باندھوں بلکہ اس لیے لکھا ہے کہ معزز قارئین کرام کو اس کتاب کے بارے میں آگاہ کرسکوں کہ جہاں سے بھی یہ ملے، اسے ضرور پڑھیں۔
بدرالحکیم صاحب ایک محقق، دانشور اور ادیب ہیں۔ تحقیق کے حوالے سے اُس کے پشتو زبان پر بے شمار احسانات ہیں۔ وہ ناول اور افسانہ بھی تحریر کرتے ہیں۔ اب تک ان کی پانچ عدد تحقیقی کتب شائع ہوچکی ہیں۔ انہوں نے اپنی تحقیقی کاوشوں میں ڈھیر ساری گم نام شخصیات اور تخلیقات کو طشت از بام کیا ہے۔ ہم سب اُن کی گراں قدر خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں اور اُن کے کارناموں کو قدر کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ میں اُنہیں اس تحقیقی کتاب پر مبارک باد دیتا ہوں اور ساتھ شکریہ ادا کرتا ہوں کہ اُنہوں نے یہ مجھے تحفتاً عطا کی ہے اور میں نے قلمی اور علمی سوغات سمجھ کر اسے قبول بھی کیا ہے۔
قارئین کرام! واقعی بدرالحکیم حکیم زئی صاحب جتنے بڑے محقق اور عالم فاضل شخصیت کے حامل ہیں، اُتنے اچھے انسان بھی ہیں۔ سادگی اُن میں کھوٹ کھوٹ کر بھری ہے۔ ان کا رہن سہن، اٹھنا بیٹھنا، کھانا پینا سادگی کا ایک اعلیٰ نمونہ ہے۔ ملنے ملانے میں کمال تعلق و محبت رکھتے ہیں۔ ان سے ایک بار ملنے سے برسوں کی شناسائی کا گمان ہوتاہے۔
اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ
دعا ہے کہ انہیں لمبی زندگی نصیب ہو، آمین!
متعلقہ خبریں
- کمنٹس
- فیس بک کمنٹس
