روح الامین نایابکالم

بخت زادہ دانشؔ 

جی ہاں، بخت زادہ دانش شاعر ہیں، پشتو کے شاعر! اور ایسے شاعر جس نے بغیر پوچھے رفتہ رفتہ عوام کے دلوں میں اُترنا شروع کیا اور دیکھتے دیکھتے دلوں میں اپنے لیے جگہ کیا بلکہ محلات کھڑے کر دیے۔ اُس کی شہرت اور محبوبیت کا اندازہ اس سے لگائیں کہ ہمارے ہاتھوں میں اُس کی کتاب ہے نہ معلومات، پھر بھی آج ہم دل سے مجبور ہوکر اُس پر لکھنے کے لیے قلم اُٹھا رہے ہیں۔ ہاں، ہم اُس سے بار بار مل چکے ہیں۔ اُسے سنا ہے اور دوسروں کی طرح اُس کی شاعری کی منفرد فکر اور انداز کو پسند کرچکے ہیں۔ اُس کی شاعری براہِ راست دلوں کو چھو کر ڈیرے ڈال دیتی ہے۔ اُس کی شاعری معروضی حالات اور زمینی حقائق سے بہت قریب ہے۔ شاعری سے زیادہ اُس کا اندازِ بیان ایک منفرد حیثیت رکھتا ہے اُس پر رحمتِ خداوندی ہے کہ اُسے اپنی تمام شاعری زبانی یاد ہے۔ جہاں چاہو اور جب چاہو اُسے پکڑو، جو نظم یا غزل سننا چاہو بلا تاخیر بلا کسی جھجک سنتے جاؤ، وہ جہاں ہوں، جس حالت میں ہوں کھڑے کھڑے شروع ہوجائیں گے۔
پروفیسر بخت زادہ دانشؔ لمبا تڑنگا جوان ہے۔ جو ان آدمی اس طرح کہ وہ جوانی سے آدمی بننے کے مرحلے میں داخل ہوچکا ہیں غالباً چالیس کے قریب ہوں گے۔ خوبصورت ناک نقشہ، وسیع پیشانی جس نے آدھے سر کو بھی فتح کرلیا ہے، چست سمارٹ بدن کا حامل یہ شخص بخت زادہ دانشؔ کے نام سے ایک مجسم اخلاق و محبت ہے۔
عموماً دیکھنے میں آیا ہے اور تجربے و مشاہدے بھی گواہ ہیں کہ اچھا شاعر اچھا انسان نہیں ہوتا، یا یہ بھی ضروری نہیں کہ اچھا انسان اچھا شاعر بھی ہو۔ یہ دونوں گن ایک شخصیت میں بہت کم ملتے ہیں۔ ورنہ اور کچھ نہیں تو ہر شاعر، شراب شباب، کباب کار سیا تو ہوتا ہی ہے۔
مفت ہاتھ آئے تو برا کیا ہے
ہمارے تو بڑے بڑے شعرا بغیر شراب پیے شاعری کر نہیں پاتے تھے، لیکن بخت زادہ دانشؔ صاحب کی حالت یہ ہے کہ وہ شراب تو دور کی بات سگریٹ، نسوار تک کا شوق نہیں رکھتے۔ اس میں انسانیت کوٹ کوٹ کر بھری ہے۔ ہر بڑے چھوٹے کے آگے جھک جاتے ہیں۔ سادہ پہناوا، رہن سہن اور عاجزی و انکساری سے مزین یہ شخصیت ہر وقت مسکراتی رہتی ہے۔ بڑائی نہ غرور و تکبر کا نام و نشاں، سراپا پیار و محبت اس شخصیت کو ہم سلام، خلوص اور خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں اور ہمیشہ اُسے سرزمینِ سوات کی خوشبودار ادبی فضاؤں میں خوش آمدید کہتے ہیں۔
حال ہی میں اُس کی ایک کتاب ’’زہ بہ نہ لیونے کیگم‘‘ شائع ہو کر منظر عام پر آچکی ہے، جو ’’گرم کیک‘‘ کی طرح ہاتھوں ہاتھ لی جاچکی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اس کتاب کے تقریباً چھے ہزار نسخے تقسیم ہوچکے ہیں۔ میں قصداً ’’بکنے اور فروخت‘‘ کے الفاظ استعمال نہیں کر رہا۔ کیوں کہ میرے اندازے کے مطابق یہ تمام کتابیں مفت اڑائی جاچکی ہیں۔ کیوں کہ پختون کھانے، پینے، پہننے پر تو پیسہ خرچ کرلیتا ہے، لیکن کتاب پر پیسہ دینا وہ حرام اور ضائع سمجھتا ہے۔ دانشؔ اس رویے کو سمجھتے ہیں۔ اس لیے اُس نے ’’جشنِ دانش‘‘ میں اپنی تقریر میں کہا کہ ’’فن کو بیچنے کا قائل نہیں ہوں، میں انگریزی زبان کا پروفیسر ہوں اور پشتو زبان کا شاعر۔ لہٰذا انگریزی سے کماؤں گا اور پشتو پر خرچ کروں گا۔‘‘
بخت زادہ دانشؔ کی شاعری پر میں کیا لکھوں؟ میں فنِ تبصرہ میں ماہر نہیں۔ پھر میں نے اُس کی شاعری پڑھی بھی نہیں۔ کیوں وائے قسمت، کہ چھے ہزار کتابوں میں ہمیں ایک بھی نہ مل سکی، لیکن کیا گلہ کریں؟ یہ تو عموماً ازل سے ہوتا آیا ہے کہ ہمیشہ قدر مند اور عزت مند معیاری تخلیق بے قدروں کے ہاتھوں میں چلی جاتی ہے۔ قدرمند خالی ہاتھ رہ جاتے ہیں، لیکن میرے خیال میں بخت زادہ دانشؔ کی شاعری اتنی عوامی ہوچکی ہے کہ اُس پر لکھنے کے لیے کتاب کی ضرورت نہیں بلکہ ضرورت دلی جذبوں، ولولوں اور محبتوں کی ہے۔
بخت زادہ دانشؔ کی شاعری خوشیوں، غموں، اُمیدوں اور مایوسیوں کی آماجگاہ ہے، زخم خوردہ دلوں کا مرہم ہے، سلگتے ارمانوں کا مداوا ہے، خزاں رسیدہ موسموں میں بہار کا تازہ دم جھونکا ہے،ہر غصیلے اور برانگیختہ جذبات کے لیے راستوں اور منزلوں کا تعین کرتی ہے۔ وہ دراصل اپنی شاعری کے چھوٹے چھوٹے مصرعوں اور نظم کے بندوں میں بہت آسانی سے سادہ زبان میں اتنی بڑی بات کہہ جاتے ہیں، اتنا بڑا فلسفۂ زندگی بیان کرجاتے ہیں کہ سمجھ بوجھ والا انسان حیران رہ جاتا ہے۔ وہ کچھ دیر کے لیے کھو جاتا ہے، اپنے آپ میں گم ہوجاتا ہے۔ وہ بخت زادہ دانشؔ کی ہر دم موجزن شاعری میں غوطے پہ غوطے کھاتا ہے۔ ذرا سانس لینے کو رک جاتا ہے، تو اُس پر یہ راز کھل جاتا ہے کہ دانشؔ جو کچھ کہتا ہے، یہ تو میری کہانی ہے۔ یہ تو میرا درد ہے۔ میرا زخم ہے، جس کے احساس کے لیے اور بیان کرنے کے لیے اور مجھ کو جگانے اور سمجھانے کے لیے اس انسان نے لفظوں کا ایسا انتخاب کیا ہے جیسے تنگ و تاریک غار میں روشنیوں اور ہیروں کو تلاش کیا جاتا ہے۔ اس لیے تو ہر عوامی تقریب میں دانشؔ کو بے انتہا پذیرائی مل جاتی ہے۔ اُس کے آنے پر تالیوں اور نعروں کی گونج میں تمام موجود شرکا کھڑے ہوجاتے ہیں۔ اُس کے ایک ایک شعر پر داد و تحسین کے ڈونگرے برسائے جاتے ہیں۔ جوان، بوڑھے اُس کو چاروں طرف سے گھیرتے ہیں۔ وہ خندہ پیشانی سے ہر ایک کو وقت دیتا ہے۔ آٹوگراف دیتا ہے۔ تصویریں اتارتا ہے۔ سیلفی بنواتا ہے۔ نہ جلدی جانے کی تکرار، نہ وقت کی کمی کا رونا، ہر بندہ بشر کو مسکراہٹوں سے نوازتا ہے۔ اُس کی وسیع اور کشادہ پیشانی پر پریشانی کی ایک سلوٹ تک نہیں ہوتی۔ بہت عرصے کے بعد پختونوں کی قسمت جاگ اُٹھی کہ اُن کو ایک اچھے شاعر کے ساتھ ساتھ اچھا انسان ملا ہے۔ ایسا انسان جو اپنی شاعری اور خوش مزاجی میں سدا بہار ہے۔
بخت زادہ دانشؔ کوئی نئی بات نہیں کررہا، جو کچھ اجمل خٹک کہنا چاہتے تھے اور اردو میں جو بیانیہ بلکہ احتجاجی بیانیہ فیض احمد فیض اورحبیب جالب کا تھا، وہی نوحہ و کرب دانشؔ بیان کررہا ہے، لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ فکرِ فردا اور اندازِ بیاں منفرد ہے۔ اشاروں، کنایوں کے ساتھ ساتھ کبھی کبھی بات کھلی اور سیدھی بھی کہہ جاتا ہے۔ میں شاعری سے مثالیں نہیں دوں گا اور قصداً نہیں دوں گا۔ کیوں کہ میرے پاس کتاب نہیں ہے۔ لہٰذا مثال نہ دینا احتجاج بھی ہے، لیکن شاعری سے مثال دینا ضروری بھی نہیں۔ کیوں کہ دانشؔ کی شاعری دلوں پر تحریر ہے۔ لہٰذا میں جو بھی تبصرہ بغیر کسی شعری مثال کے کر رہا ہوں، ہر کوئی سمجھتا ہے، جانتا ہے کہ میں کیا کہہ رہا ہوں اور کیا تحریر کررہا ہوں؟ ہاں! تو بات یہ ہے کہ اجملؔ خٹک، فیضؔ اور جالبؔ نے جس طبقاتی جبر کا اظہار کیا، آمروں کے خلاف ببانگِ دہل اعلانِ جہاد کیا۔ ظالموں کو للکارا، عام انسانی کرب و درد و مظلومیت کو اشعار کا جامہ پہنایا، انسانی حقوق کی پائے مالی کا رونا رویا، وہی بیانیہ دانشؔ کا بھی ہے لیکن اب بھی ایک فرق ہے اور وہ یہ کہ اجمل خٹک، فیض احمد فیضؔ اور حبیب جالب نے اپنے مظلوم و محکوم بیانئے کے لیے جیلیں کاٹیں اور مار بھی کھائی۔ کیا آپ اپنی نظموں کے لیے مار کھانا پسند کریں گے؟ اگر خدانخواستہ ایسا ہوا تو شاعری کے ساتھ آپ کی شخصیت میں مزید نکھار آئے گا۔ آپ کی شخصیت اور شاعری دونوں ہمیشہ کے لیے اَمر ہوجائیں گے۔ آپ کی شاعری آبِ حیات پی جائے گی۔ آپ بے شک نہ ہوں، آپ کی تاحیات شاعری آپ کو زندہ رکھے گی اور مفلس عوام کی تاریک زندگیوں کو جلا بخشے گی۔ آخر میں گل نایاب کی خواہش اور دعا ہے کہ آپ اور آپ کی شاعری گل بہار کی طرح ہمیشہ تروتازہ اور معطر رہے، آمین!

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں