ایک کمرے میں دو ماہ سے زیادہ کا وقت گذارنا ایک عذاب سے کم نہ تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ابھی وائرس کے خلاف جنگ لڑنے میں بہت وقت باقی ہے۔ اس طرح بقولِ وزیر اعظم عمران خان اس سال وائرس کے ساتھ گذارنا پڑے گا۔ لاک ڈاؤن کی طرف واپس نہیں جاسکتے۔ زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں کو بند کر سکتے ہیں۔
اگر ایک طرف ان حالات میں معاشرے کی ورکنگ کلاس جو کہ سب سے زیادہ مستحق اور بے یارو و مددگار ہے، کو بہ امر مجبوری کام کرنے کی اجازت مل چکی ہے، تو دوسری طرف ان نرمیوں کے باوجود سائنس کے ساتھ وابستہ طبقہ خصوصاً داکٹرز میں سے کچھ یہ سوال اُٹھا رہے ہیں کہ کیا لاک ڈاؤن میں عام نرمی کے اقدامات بہت وسیع پیمانے پر نہیں ہیں، اور یہ کہ یہ اقدامات بہت عجلت میں نہیں کیے جا رہے ہیں، جو کہ ہمارا ملکی ہیلتھ کیئر سسٹم اس کو برداشت کرنے کا متحمل نہیں۔ اس طرح بے احتیاطی کی وجہ خدانخواستہ بہت زیادہ اموات ہونے کا خبر دے رہی ہے۔ بہت سے عام لوگوں کو تشویش لاحق ہے کہ لاک ڈاؤن کو بھی عجلت میں ختم کیا گیا ہے۔
ان حالات میں روزانہ کے معمولاتِ زندگی حیرتوں کا سامان لیے ہوئے ہیں۔ کسی پر قرضہ اور کرایہ کا بوجھ ہے، تو کسی کا کاروبار ٹھپ پڑا ہے۔ دوسری طرف لاکھوں افراد کو روزگار سے ہاتھ دھونا پڑا ہے۔
میرا ذاتی خیال ہے کہ خدانخواستہ ہم اس لاک ڈاؤن کی نرمی کے بعد ایک بھاری قیمت ادا کرنے جا رہے ہیں۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ میں لاک ڈاؤن کے حق میں ہوں، بلکہ جو لاک ڈاؤن ہوچکا، اس میں خامیاں اور نقائص اتنے تھے کہ اس پر بھرپور طریقے سے عمل نہیں کیا گیا، جس کی وجہ سے نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے۔ پاکستانی معاشرہ وبا اور ٹڈی دَل سے شدید دباؤ اور بے چینی کی زد میں ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان ہم آہنگی کا فقدان ہے، بلکہ یوں کہہ لیں کہ ایک دوسرے کی مخالف سمت چلتے جا رہے ہیں، جس سے ریاست کا بیانیہ عوام میں بری طرح ناکام ہونے جا رہا ہے۔ اس کا اثر یہ ہوا کہ اب بعض لوگ اس بات پر یقین کرنے کو تیار نہیں کہ وائرس اور وبا جیسی کوئی چیز کی موجودگی بھی ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ لاک ڈاؤن میں صوبائی حکومتیں اپنے شہریوں کو ریلیف دینے میں بری طرح ناکام ہوگئی ہیں۔ اس لیے حفاظتی امور پر بھرپور طریقے سے عمل نہیں ہوسکا ہے۔ درحقیقت ہزاروں لوگ ایسے بھی ہیں جو اس وقت حکومتی مشوروں اور ”ایس اُو پیز“ کو نظرانداز کر رہے ہیں۔ جب کہ انفیکشن اور اموات کی شرح تشویشناک حد تک بڑھ چکی ہے۔اس امرکے لیے کسی ثبوت کی مزید ضرورت نہیں۔ کیوں کہ وائرس انفیکشن اب بہت بڑی تعداد میں پایا جا رہا ہے، جو کہ دراصل سرکاری ہسپتالوں سے تصدیق شدہ کیس ہیں۔ میرا ماننا ہے کہ ایک وجہ سازشی نظریات ہے جو کہ مسلسل پھیلائے جا رہے ہیں۔ میڈیا مسلسل اگر ایک طرف وائرس کے خلاف احتیاطی تدابیر اختیار کرنے پر زور دے رہا ہے، تو دوسری طرف اسی میڈیا نے لوگوں کو نفسیاتی عوارض کا شکار کردیا ہے۔ وبا کے شکار مریضوں کے اعداد و شمار خطرناک حدود پار کر چکے ہیں۔ جس کی وجہ سے حساس لوگوں میں خوف و ہراس پھیل چکا ہے۔ اس مد میں حکومتی توجہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ یونین کونسل کی سطح پر لوگوں سے ٹیسٹ کے لیے نمونے لیے جاتے۔ کلیئر ہونے کی صورت میں اسی یونین کونسل سے لاک ڈاؤن ختم کر دیا جاتا۔
دوسری بات یہ ہے کہ ضلع کی سطح پر ایک مانیٹرنگ ڈیسک قائم کیا جاتا، جہاں پر ہر آنے والے مسافر یا شدید بخار کے حامل افراد کو تھرمل ڈیوائس کے ذریعے چیک کرکے بنیادی علامات ظاہر ہونے کی صورت میں ٹیسٹ کے نمونے لیے جاتے، تو شائد اس صورت میں حالات کو کنٹرول کیا جاسکتا تھا۔ لیکن آپ سب کو پتا ہے کہ اس طرح کے اقدامات کا مطالبہ یہاں پر بے معنی ہوتا ہے۔
مَیں سمجھتا ہوں کہ اس بے قابو صورتحال میں ڈاکٹر اگرچہ اپنے فرائض احسن طریقے سے ادا کر رہے ہیں، لیکن ان حالات کا تقاضا ہے کہ ڈاکٹر حضرات سازشی نظریات، توہمات، غیر مستند طریقہ ہائے علاج اور ہر قسم افواہوں کی روزانہ کی بنیاد پر تردید کریں۔ تاکہ لوگوں کو اصل حقائق سے بر وقت با خبر کیا جاسکے۔ دراصل بعض لوگوں کا وطیرہ بن گیا ہے کہ وہ اپنی سپیشیلٹی کے بجائے دوسرے کے کاموں میں ٹانگ اڑاتے ہیں، جس سے مسئلہ اور زیادہ پیچیدہ بن جاتا ہے۔
جو اقدامات آج حکومت کر رہی ہے، اگر دو ماہ پہلے کرتی، تو شائد اتنی ہزیمت اور معاشی نقصان نہ اٹھانا پڑتا۔ ان کے سامنے دنیا کے دوسرے ممالک کا تجربہ موجود تھا۔ ان تجربوں کے مطابق ”ایس او پیز“ بنائے گئے اور نہ ہی کوئی منصوبہ بنایا گیا۔ دراصل پہلے سے تیاری کرنی چاہیے تھی، جو نہیں کی گئی۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز، ٹریڈ یونینز اور عام افراد حفاظتی گائیڈ لائن، سوشل ڈسٹنسنگ اور فیس ماسک سے چہرے کو ڈھانپنے کے لیے عوام میں شعور بیدار کرسکیں۔ فیس ماسک نہ پہننے پر خیبر پختونخوا میں وباؤں کے کنٹرول اور ایمرجنسی ریلیف آرڈیننس 2020ء اور تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ کے خلاف ورزی کرنے والوں کو قید اور جرمانے کی سزائیں دی جائیں گی۔ اس لئے ضروری ہے کہ ہم سب قانون کی پاس داری کریں۔
یہ بعید از قیاس نہیں کہ وبا کی اس دوسری لہر میں عام لوگوں کو موردِ الزام ٹھہرایا جائے اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ عوام کی اکثریت اس وبا کو ایک ڈراما اور سازش قرار دے رہے ہیں۔ کھلے عام خلاف ورزی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ اس کے علاوہ حکومت کے با اثر افراد کی غیر ذمہ داری اور بعض نمائندگان کے بے تکے بیانات اور بے حسی پر پردہ ڈالا جا رہا ہے۔
درحقیقت حکومت اور عام لوگوں کا ایک بہت بڑا حصہ انتہائی غفلت کا مظاہرہ اور مجرمانہ خاموشی کا برتاؤ کر رہا ہے۔ دونوں الزامات سے بری نہیں ہوسکتے۔ غیر ذمہ دار قیادت اور عوام جن کو لگتا ہے کہ وہ اپنے کام اور زندگیوں کی ذمہ داری قبول نہیں کرتے، اور سمجھتے ہیں کہ وہ دشواری کا سامنا کررہے ہیں، دراصل حقیقت سے آنکھیں موڑنے کے مترادف ہے۔
اس لحاظ سے انفرادی ذمہ داری سب سے اہم ہوگی، لیکن ملک کے مختلف اجتماعات اور مظاہروں کی میڈیا رپورٹس کو دیکھتے ہوئے ایسا لگتا ہے کہ اس لاپروائی سے خدا نہ کرے لیکن زیادہ اموات ہونے کے امکانات کو رد نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے لیے تیار رہنا چاہیے۔
”کلاس ڈیفرنس“ اور اہلیت و صلاحیت بلکہ میرا خیال ہے کہ کسی کو استثنا حاصل نہیں کہ ان کو اس وائرس سے چھٹکارا حاصل ہو اور اسے بچایا جائے۔ جب تک ہر کوئی حفاظتی اقدامات نہیں کرتا، اس وائرس کے شکنجے سے نہیں بچ سکے گا۔
وائرس کا کوئی مذہب اور مسلک نہیں۔ یہ نادید ہ دشمن ہے۔ اگر یہ واضح ہوتا، تو شائد اس کا علاج بھی کر لیا جاتا۔اب حکومت چاہتی ہے کہ معیشت چلے اور ملک بھی چلے۔ صرف معیشت کا کوئی مطلب نہیں جب عوام کو خطرہ لاحق ہو۔ اس لیے وائرس کے بابت عوامی شعور کوبیدار کرنا ہوگا۔
ایک نئے طریقے سے زندگی شروع کرنا ہوگی۔ حکومت اور ہر فرد کو ذمہ داری لینا پڑے گی۔ اس کے بعد ہی ہم اس بائی وائرس سے نمٹ سکتے ہیں۔
متعلقہ خبریں
- کمنٹس
- فیس بک کمنٹس
