قارئین کرام! دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔ کس کس ظلم اور نا انصافی کا ذکر کریں، کن کن المیوں اور حادثوں پر روئیں، کس سے فریاد کریں اور کس سے منصفی چاہیں؟ عجیب عجیب باتیں سننے کو ملتی ہیں۔ جیسے کہ اب جاگ گئے ہوں، جیسے کہ اب ان حضرات کو پتا چل گیا ہو۔
اب دیکھیے روزنامہ آزادی کے 24 جولائی کا شمارہ اور اس شمارے کے ”فرنٹ پیج“ پر ایک شہ سرخی ملاحظہ ہوں: ”درخت لگانا اور بچانا محکمہئ جنگلات کی ذمہ داری ہے، کمشنر ملاکنڈ ڈویژن۔“ موصوف مزید فرماتے ہیں کہ اس مقصد کے لیے تمام تر وسائل اور محکموں کی خدمات بروقت بروئے کار لائیں جائیں گے۔ جنگلات اور دریاؤں کو اصل حالت میں بحال کرنا دورِ حاضر کا اہم مشن ہے۔
قارئین، ماضی کی تاریخ گواہ ہے کہ اس حوالے سے سید ظہیر الاسلام صاحب الٹی بات کررہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ”درخت کاٹنا، اُسے بیچنا محکمہئ جنگلات کی ذمہ داری ہے۔“ سوات کے خوبصورت جنگلات کا ستیاناس کس نے کیا؟ سابق ریاست کے دور میں تمام جنگلات محفوظ تھے۔ کوئی ایک درخت بھی بغیر اجازت کے نہیں کاٹی جاسکتی تھی، لیکن افسوس ریاست کے ادغام کے ساتھ ہی جب جنگلات کا محکمہ یہاں وارد ہوا، تو جنگلات کی صفائی شروع ہوگئی۔ اُن کے تو مزے ہوگئے۔ فارسٹ گارڈوں، رینجروں اور متعلقہ تمام افسران کے وارے نیارے ہوگئے۔ محکمہئ جنگلات کا محکمہ ایسا ناسور محکمہ ہے، جو تنخواہ بھی لے رہا ہے اور بے دریغ کٹائی بھی کررہا ہے۔ ایسا محسوس ہورہا ہے بلکہ نظر آرہا ہے جیسے انہیں تنخواہیں اور مراعات اسی لیے مل رہی ہیں کہ کٹائی زور و شور سے جاری ہو۔ ورنہ یہ حقیقت تو روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ آخر میں جنگلات کا بے دردی سے صفایا کیسے ہوگیا؟ سوات کے خوبصورت فلک بوس پہاڑوں کی چوٹیوں کے جنگلات کا صفایا کیسے ہوگیا؟ ان چوٹیوں کو آخر گنجاکس نے کیا، کون ذمہ دار ہے اس کا، اس خوبصورتی کی تباہی کا ذمہ دار کون ہے؟ آخر اتنے بڑے عرصے میں جنگلات بڑھانے اور بچانے کے لیے اس ناسور محکمے نے کیا اقدامات کیے ہیں؟
بات یہ ہے کمشنر صاحب، اگر آپ کے ہاتھ خود اس گندگی سے صاف ہیں، تو پھر یہ پوچھنا آپ کا فرض بنتا ہے کہ یہ جنگلات کہاں گئے، اور یہ حالت کیوں ہے؟
کمشنر صاحب، حقیقت یہ ہے کہ جنگلات کی تباہی کا ذمہ دار خود یہی محکمہ ہے، جسے ”محکمہئ جنگلات“ کہا جاتا ہے۔ اس محکمے کے معمولی فارسٹ گارڈوں نے اپنے لیے محلات کھڑے کیے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ فارسٹ گارڈ کی تنخواہ کتنی ہوتی ہے؟ جس میں عالی شان گھر بنائے جائیں۔ آپ جتنے بھی وسائل بروئے کار لائیں گے۔ نتیجہ صفر کے علاوہ کچھ بھی نہیں نکلے گا۔ موجودہ نظام کی بنیاد لوٹ کھسوٹ پر ڈالی گئی ہے۔ اس لیے تمام وسائل، مراعات اور بجٹ میں سب سے پہلے اپنی جیب کا خیال رکھا جاتا ہے۔ قومی مفاد باڑ میں جائے۔ پہلے ذاتی مفادکا خیال رکھا جائے گا۔
کمشنر صاحب، آپ نے فرمایا ہے کہ ”جنگلات اور دریاؤں کو اصل حالت میں بحال کیا جائے گا۔“کون کرے گا یہ؟ دریائے سوات کے کنارے اور دریا کی حدود میں بنے ہوئے ہوٹلوں، کوٹھیوں اور بنگلوں کو کون ہٹائے گا؟ یہ تو مضبوط قبضہ مافیا ہے کہ دریاؤں میں اتر کر پانیوں کے اوپر محلات بنارہے ہیں، اور دوسری جانب پہاڑوں پر چڑھ کر چوٹیوں پر اپنے لیے خوبصورت صحت افزا مقامات بنائے جا رہے ہیں۔ ان کا بس چلے، تو اپنے حصے کا آسمان بھی قبضہ کرلیں۔ یہ سارے علاقے کے بڑے بڑے لوگ ہیں۔ بڑے بڑے خاندان ہیں۔ یہ تو بہت مضبوط ہیں۔ اتنے مضبوط کہ ریاست کی رٹ ان کے آگے کچھ بھی نہیں۔ ورنہ آئین و قانون کی رو سے ملک میں تمام دریا، چشمے، ندیاں، نالے، پہاڑ، دشت و صحرا، جنگلات ریاست کی ملکیت ہیں۔ لیکن یہاں تو دن دھاڑے ان سب پر قبضہ جمایا جاتا ہے۔
ہمارے بہادر اور شیر وزیر اعلیٰ نے حال ہی میں حکم نامہ جاری کیا ہے کہ ”دریائے سوات کے کنارے تجاوزات اور غیر قانونی تعمیرات کا سلسلہ فوری طور پر روک دیا جائے۔ نیز دریائے سوات کے کنارے قائم ہوٹلوں کے سیوریج کے نظام کو درست کیا جائے۔“ لیکن بات یہ ہے کہ آخر دریا کے کنارے تعمیرات کا سلسلہ جاری کیوں رہا؟ انصاف کا تقاضا تو یہ ہے کہ دریائے سوات کے کنارے تمام تعمیرات کو گرا دیا جائے اور کنارے کو صاف ستھرا رکھا جائے۔ سیاحوں کے لیے سرکاری طور پر خوبصورت مقامات بنائے جائیں۔ جتنا دریائے سوات خوبصورت ہے، تاریخی ہے، اسی طرح دریائے سوات کے کناروں کو خوبصورتی سے سجادیا جائے۔ پُرسکون، صاف ستھرا ماحول مہیا کیا جائے۔ دریائے سوات کے کناروں کو وسعت دی جائے۔ صاف ستھرا بہنا، خوبصورت ٹھنڈی ہوائیں چلنا، اس کے پانی میں لہریں اٹھنا دریائے سوات کا حق ہے۔
موجودہ حکومت سے درخواست ہے کہ اس بارے میں صرف گفتار کے غازی نہ بنیں، بلکہ کچھ عملی مظاہرہ بھی کردکھائیں۔ ہم سوات کے عوام نہایت مشکور رہیں گے۔
متعلقہ خبریں
- کمنٹس
- فیس بک کمنٹس
