روح الامین نایابکالم

درندوں کی اس بستی میں

قارئین کرام! بہت افسوس، غم،درد اور سسکیوں سے یہ لکھنا پڑ رہا ہے کہ درندوں کی اس بستی میں بچوں اور بچیوں پر جنسی و جسمانی تشدد میں 14 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ایک غیر سرکاری ادارے (این جی اُو) ”ساحل“ کے مطابق رواں سال کے پہلے 6 ماہ میں 1489 بچوں کو نشانہ بنایا گیا، جن میں 785 بچیاں اور 704 بچے شامل ہیں۔ 38 واقعات میں زیادتی کے بعد بچوں کو قتل کیا گیا۔ 331 بچے اِغوا، 233 بدفعلی، 104 سے اجتماعی زیادتی، 168 لاپتا، 160 بچیوں سے زیادتی، 134 سے دست درازی، 69 سے اجتماعی زیادتی کی گئی اور 51 بچوں کی شادی کے واقعات رپورٹ ہوئے۔ اس طرح 490 متاثرین کی عمر 11 سے 15 سال اور 331کی 6تا 10سال بتائی گئی ہے۔ پنجاب میں سب سے زیادہ 57 فیصد واقعات رپورٹ ہوئے۔ سندھ 32 فیصد، خیبر پختونخوا میں 6 فیصد، اسلام آباد میں 35، بلوچستان میں 22، آزاد جموں کشمیر میں 10اور گلگت بلتستان میں ایک فی صد واقعات رپورٹ کیے گئے۔ واضح رہے کہ 2019ء کے پہلے چھے ماہ میں جنسی و جسمانی تشدد کے 1304 واقعات ہوئے۔ چائلڈ پروٹیکشن بیوروکے ماہر نفسیات راجہ یوسف کا اس حوالہ سے کہنا ہے کہ متاثرہ بچوں کی شخصیت ٹوٹ جاتی ہے۔ وہ بے چین، مضطرب اور والدین، یاروں اور دوستوں سے بھی الگ تھلگ ہوجاتے ہیں۔ (بحوالہ، روزنامہ آزادی 24 نومبر 2019ء)
قارئین کرام! یہ تو پچھلے سال کی ایک اخباری رپورٹ تھی، لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ اس سال یعنی 2020ء میں اسی درندگی میں کمی نہیں بلکہ اضافہ دو چند ہوگیا ہے۔ ساتھ ہی مزید تشدد اور درندگی میں بھی زیادتی ریکارڈ کی گئی ہے۔ ابھی پچھلے تین چار ماہ میں ہر دوسرے دن ایسے المناک اور دردناک واقعات سے اخباری صفحات بھرے ہوتے ہیں۔ اب تو تین سال اور چار سال کی بچیوں تک کو بھی نہیں بخشا جاتا۔ پنجاب کے علاوہ خیبر پختونخوا کے ہر شہر اور علاقہ میں ایسی درندگی کے واقعات مسلسل رونما ہو رہے ہیں۔ پشاور، مردان، نوشہرہ، چارسدہ، دیر، چکدرہ، سوات غرض کوئی بھی شہر اور بستی ان درندوں سے محفوظ نہیں۔ پورے ملک پر ایک دہشت اور خوف کی فضا چھائی ہوئی ہے۔ ابھی چند دن پہلے کشمور میں جو واقعات ہوئے، بچی کے ساتھ درندوں نے جو بہیمانہ سلوک کیا، اس نے ہر باضمیر انسان کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ بے چارہ اے ایس آئی محمد بخش واقعات سناتے ہوئے ہر جگہ اور ہر مقام پر روتا رہا۔ کون ہے جو اُس کی آنسوؤں کو خشک کرے؟ کون ہے جو داد رسی کرے، انعامات دینے سے کیا یہ دکھ کم ہوجائے گا؟ کیا یہ زخم مندمل ہوجائیں گے؟ کیا ایسے درندگی کے واقعات ختم ہوجائیں گے؟ ختم ہونا تو درکنار ان واقعات میں آئے دن اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ کیوں کہ ان واقعات کے سدباب کے لیے کوئی پلان اور لائحہ عمل نہیں۔ ہمارا پولیس اور عدلیہ کا موجودہ نظام اتنا فرسودہ اور ناکارہ ہوچکا ہے کہ اُس میں یہ دم ابھی ہے ہی نہیں کہ ایسے دردناک واقعات کا فوراً تدارک کرسکے۔ کشمور کے واقعہ میں اب رپورٹ درج ہوگا، میڈیکل ہوگا، گواہاں ہوں گے، تفتیش ہوگی، اُن درندوں کو بھی وکیل رکھنے کی سہولیات دی جائیں گی اور کالے کوٹوں میں ملبوس ایسے لوگوں کی کمی نہیں کہ چند ٹکوں کی خاطر اُس درندے کا کیس لڑنے کے لیے تیار ہو جائیں۔
ہماری حکومت اپنے اللوں تللوں سے فارغ ہوگی، نواز اور شہباز شریف کو گالیاں دینے سے فارغ ہوگی، تو اس طرف توجہ دے سکے گی۔ قانون سازی کی جائے گی، بین الاقوامی انسانی حقوق کا لحاظ رکھنا پڑے گا۔ سرِعام پھانسی اس لیے نہیں دی جاسکتی کہ انسانی حقوق کے علمبردار شور مچائیں گے۔ عجیب صورتِ حال ہے! کیا تین چار سال کی معصوم بچیاں انسان نہیں؟ لیکن ایسی عدالت کا کیا کیا جائے اور ا س جج کو کیا نام دیا جائے کہ جس نے دن دھاڑے نوجوان ”مشال“ کو قتل کرکے ٹکڑے ٹکڑے کرنے والے مجرم کی سزا پھانسی سے عمر قید میں بدل دی۔ اگر ایسے ہی فیصلوں سے مجرموں کو حوصلہ افزائی ہوگی، تو ایسے درندوں کی طرف سے حیوانیت کے واقعات کیوں رونما نہ ہوں گے؟
ہمارے ہاں حالات مختلف ہیں۔ ہمارے ہاں یورپ اور امریکہ کے کافروں کی طرح انسان نہیں بلکہ مسلمانی کے جامہ میں درندوں کا معاشرہ پنپ رہا ہے۔ وہاں دشمن کے بچوں کے ساتھ بھی انسانیت اور رحم کا سلوک کیا جاتا ہے۔ وہ معصوم بچوں کی نسل، زبان، قبیلہ، ملک، رشتہ، تہذیب، مذہب اور رنگ نہیں دیکھتے۔ وہ بچوں کی معصوم مسکراہٹ کو دیکھتے ہیں۔ وہ مسکراہٹ جس کا کوئی رنگ، نسل اور مذہب نہیں ہوتا۔ وہ مسکراہٹ تمام نسلوں، رنگوں اور مذہبوں پر بھاری ہوتی ہے۔ وہ ہر قسم کے فرق اور امتیازات سے عاری ہوتی ہے۔ لیکن ہم ایک عالی شان مذہب کے ماننے والے ہوکر اور ریاستِ مدینہ کے دعوے دار ہو کر بھی ان معصوموں کے چہروں سے مسکراہٹیں چھین رہے ہیں۔ انہیں آگ میں جھونک کر راکھ میں تبدیل کر رہے ہیں۔ ایسا کرتے ہوئے ہمارے دل کانپتے ہیں، نہ ہاتھ ہی لرزتے ہیں۔اللہ سے ڈرتے ہیں، نہ معاشرے، سماج اور عدالت سے ہمیں خوف ہی محسوس ہوتا ہے۔ معصوموں کے گلے دبا کر اور چہرے مسخ کرکے ہم کھانا کھاتے ہیں، چائے پیتے ہیں، ہنستے ہیں، باتیں کرتے ہیں اور اپنے بچوں سے پیار اور محبت کا ڈھونگ بھی رچاتے ہیں۔ تو کیا ہم کسی رحم اور ہمدردی کے قابل رہ گئے ہیں؟ کیا ہم انسان کہلوانے کے مستحق ہیں؟
ہاں، کیوں نہیں! عدالتیں جواز ڈھونڈیں گی، گواہ اور شہادتیں تلاش کریں گی۔
کشمور کے واقعات میں تو جج صاحب کا اگر تھوڑا سا بھی ضمیر زندہ ہوتا، تو وہ بلا کسی توقف کے عدالتی کرسی اٹھا کر بلکہ پورا عدالت اٹھا کر اُسی تھانے میں جاکر بیٹھتے۔ وہ اے ایس آئی محمد بخش گواہ ہے۔ محمد بخش کی جوان بیٹی گواہ ہے۔ 4 سالہ چھوٹی بچی کی نازک حالت گواہ ہے۔ اُس کی ماں کی گواہی اور فریاد عین شہادت ہے۔ اُسی لمحے اور اُس وقت اُسے تھانے کے سامنے ببانگ دُہل سرعام پھانسی پر چڑھا کر جج صاحب کو واپس آنا چاہیے تھا؟ کیا سپریم کورٹ کا چیف جسٹس اندھا اور بہرا ہے؟ کیا وہ اس معاشرے میں نہیں رہتا؟ کیا وہ انصاف کرنے سے لاچار اور مجبور ہے؟ کیا وہ فوراً سے پیشتر ایک دو رکنی بینچ تشکیل نہیں دے سکتا کہ ایک ہفتے کے اندر اندر مجرم کو قرار واقعی سزا دے کر عدل و انصاف کا نام روشن کرے۔
عدالتی نظام کے ڈیل اور سستی نے مجرموں کو پروان چڑھایا ہے، جرم کو زندگی بخشی ہے۔ یورپ کے نظامِ عدل کی تاریخ دیکھ لیں، ایسی بے شمار مثالوں سے تاریخ بھری پڑی ہے کہ موقع پر انصاف اور موقع پر سزائیں دلوائی گئیں، تب کہیں جاکر یورپ کا معاشرہ ایسے درندوں سے صاف کیا گیا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ عام عدالتی نظام سے ہٹ کر ایک تیز رفتار عدالتی نظام جلد از جلد تشکیل دیا جائے۔ عبرت ناک سزاؤں کا قانون منظور کیا جائے۔ جہاں واقعات رونما ہوں، وہاں کی مسجد، حجرے یا گلی کوچوں میں عدالت لگا کر موقع پر سزا سنا کر اُس پر عمل درآمد بھی کیا جائے۔ اگر عدالتیں عام رواجی طور طریقوں پر چلتی رہیں، تو مجرموں کی حوصلہ افزائی ہوگی اور درندوں کی اس بستی میں درندگی کے واقعات مزید بڑھتے جائیں گے۔
اگر ایسا نہ کیا گیا، اور تیز رفتار نظامِ عدل قائم نہ کیا گیا، تو عوام مجبور ہوکر ریاست سے بغاوت کرکے خود ایک عدالتی نظام قائم کرکے گلی کوچوں میں ان درندوں کو کیفرِ کردار تک پہنچائیں گے۔

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں