(باخبر سوات ڈاٹ کام)سوات میں خاتون وکیل کو ہراساں کیا جانے لگا۔ شہناز بی بی ایڈوکیٹ ہائی کورٹ نے باخبر سوات ڈاٹ کام کو بتایا کہ ڈی پی اُو سوات اور سوات بار کے صدر کے حکم پر اُن کو پولیس اہلکاروں نے جوڈیشل کمپلیکس کے مین گیٹ پر روکا اور لوگوں کے سامنے پولیس اہلکاروں نے اُن کو ہاتھ سے پکڑلیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ8 سال سے وکالت کر رہی ہیں اور ان کے دو بچے ہیں۔ وہ 8 سال سے کمپلیکس کے اندر ایک سائڈ پر اپنی گاڑی کھڑی کرتی ہیں۔ چند روز قبل جب وہ مین گیٹ پر پہنچیں، تو وہاں موجود پولیس اہلکاروں نے ڈی پی اُو کے حکم پر انہیں کمپلیکس کے اندر جانے سے روک دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب میں نے پولیس والوں سے کہا کہ میں ایک وکیل ہوں، تو انہوں نے کہا کہ اوپر سے آرڈر ہے۔ اس سلسلے میں پولیس کا موقف جاننے کے لئے اُن کو فون اور وٹس ایپ پر آڈیو میسج بھی کیا گیا، لیکن اس بارے انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ شہناز بی بی نے سوات بار کے موجودہ صدر پر بھی ہراسانی کا الزام لگایا اور کہا کہ انہوں نے بلا وجہ ان کی بار ممبر شپ ختم کی اور وہ بھی ان کو ہراساں کررہے ہیں۔ اس سلسلے میں سوات بار کے صدر سعید خان کا موقف جاننے کے لئے ان کو فون کیا، لیکن انہوں نے فون نہیں اُٹھایا۔ اس سلسلے میں جب بار کے جنرل سیکرٹری کو فون کیا گیا، تو انہوں نے کہا کہ شہناز بی بی کی ممبر شپ بحال کردی گئی ہے۔ شہناز بی بی نے چیف جسٹس آف پاکستان، چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ، پاکستان بار کونسل اور خیبر پختون خواہ بار کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ خواتین وکلا کی ہراسانی روک دی جائے، ورنہ باقی ماندہ خواتین وکلا بھی پریکٹس چھوڑ کر گھر بیٹھ جائیں گی۔
