Swat

سوات، محکمہ ماہی گیری میں اسامیاں نہ ہونے کے باوجود سیکڑوں افراد بھرتی

(باخبر سوات ڈاٹ کام)تحریک انصاف کی سابق حکومت میں مختلف سرکاری محکموں میں خالی اسامیاں نہ ہونے کے باوجود ہزاروں افراد کو بھرتی کیا گیا،لیکن سوات میں محکمہ ماہی گیری میں ایک ساتھ611 ملازمین جن میں 70 خواتین بھی شامل ہیں کو کلاس فور ملازمین کو بھرتی کیا گیا۔ سال 2022ء میں صوبائی حکومت نے محکمہ ماہی گیری سوات میں اسامیاں نہ ہونے کے باوجود سیکڑوں افراد کو بھرتی کیا، جن میں ذرائع کے مطابق زیادہ تر ملازمین کام نہ ہونے کی وجہ سے گھر پر تنخواہ حاصل کرتے رہے۔ جن 70 خواتین کو اس محکمے میں کلاس فور بھرتی کیا گیا، وہ اب تک گھر پر بیٹھے تنخواہ وصول کر رہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق باقی سرکاری محکموں میں بھی اسامیاں نہ ہونے کے باوجود ہزاروں افراد کو بھرتی کیا گیا۔ موجودہ صوبائی کابینہ کے اجلاس منعقدہ 24 اکتوبر 2024ء کو محکمہ ماہی گیری سوات کے560 کلاس فور ملازمین کو کا بینہ نے سر پلس قرار دیا۔ 51 کو کابینہ نے محکمہ کے پاس رہنے دیا اور سرپلس ملازمین ڈپٹی کمشنر کو دئے گئے، جن کو وہ دیگر محکموں کو دیں گے۔ لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ تمام سرکاری محکموں میں ملازمین سر پلس ہیں۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اگر اس محکمے میں اسامیاں خالی نہ تھیں، تو پھر سیکڑوں ملازمین کو بھرتی کرکے خزانے پر اضافی بوجھ کیوں ڈالا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ ان ملازمین کو دوسرے محکموں میں ضم کرکے ان اسامیوں پر محکمے کا وزیر مزید افراد کو بھرتی کرے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سر پلس اور محکمے میں رہ جانے والے کلاس فور ملازمین کی لسٹوں میں بھی رد و بدل کیا جارہا ہے اور بے یقینی کی صورتحال ہے۔ خاص کر اگر ان 70 کلاس فور خواتین ملازمین کو دوسرے محکموں میں بھیج دیا گیا، تو پختون معاشرے میں خواتین مردوں کے دفاتر میں کلاس فور کی اسامی پر کیسے کام کریں گی۔

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں