چیف ایڈیٹر : فیاض ظفر
ایڈیٹر : امجد صحاب
ریزیڈنٹ ایڈیٹر: عطااللہ خان بابا
ساجد علی ابوتلتانکالم

بے بسی کا شکار ہائی سکول درشخیلہ

ایک ناخواندہ حکمران میاں گل عبدالودود المعروف باچا صیب کو بخوبی اندازہ تھا کہ جدید تعلیم کے بغیر ریاست کو جدید خطوط پر کامیابی سے ہمکنار کرنا ممکن نہیں۔ اس لیے یہ خواب و خواہش ریاست میں کامیاب تعلیمی اداروں کی محرک بنی اور جہاں سے ریاست کی ضرورت پوری کرنے کے لیے مختلف علوم و فنون کے ماہر افراد کی خاصی فصل تیار ہوئی۔ اس پر بالتفصیل تبصرہ کرنا محال ہے۔ البتہ موضوع کے مطابق بالتخصیص تجزیہ ضرور کیا جاسکتا ہے۔ تحصیل مٹہ میں برہ درشخیلہ وہ خوش نصیب گاؤں ہے، جسے محل و قوع کے اعتبار سے چند قصبات کی طرح مرکزیت کا شرف حاصل ہے۔یہاں 1950ء کو سرکاری سکول کی عمارت قاضی بابا قبرستان کے قریب تعمیر ہوچکی تھی۔ اسی سال کوزہ درشخیلہ سے منتقل شدہ پرائمری سکول 6 مئی1950ء سے شروع ہوچکا تھا۔ داخل خارج رجسٹر میں 1953ء تک پرائمری سطح پر 476 طالب علموں کے اندراجات مکمل ہوچکے تھے۔ ان کی اکثریت ابتدائی جماعتوں میں سکول چھوڑ چکی تھی۔ رجسٹر میں مدرسہ چھوڑنے کا سبب زیادہ تر ’’غیر حاضری‘‘ لکھا گیا ہے۔ گو کہ اُن میں بعض دوبارہ بھی داخل ہوچکے تھے۔ اس طرح خان بہادر ولد ارجمند خان کوزہ درشخیلہ کو یکم مارچ 1952ء میں پہلا داخلہ دے کر مڈل کلاسوں کا آغاز کیا گیا۔ مڈل کلاسوں کے 11 اپریل 1963ء تک کے رجسٹر میں کل 371 طلبہ کا ریکارڈ موجود ہے، جن میں سے 144 کو Struck Off یا Left School لکھا گیا ہے۔ اگرچہ اُن میں سے بھی بعض طلبہ کو دوبارہ داخل کیا جاچکا ہے، پھر بھی سکول چھوڑنے والوں کی شرح38.81 فی صد بنتی ہے۔ 1963ء کو نہ صرف سکول نئی عمارت میں تبدیل ہوا بلکہ اس میں ہائی کلاسز کا اجرا بھی ہوا۔ امیر ثواب ولد امیر محمود سکنہ اشاڑے انرولمنٹ کے حوالے سے پہلے خوش نصیب طالب علم تھے( یاد رہے کہ موصوف بعد میں اسی سکول کے ’’پی ای ٹی‘‘ بھی رہ چکے ہیں) سلسلہ نمبر3 پر برہ درشخیلہ کے مرحوم میاں سید حمزہ تھے جو بعد میں اس سکول میں بحیثیت معلم اپنے فرائض منصبی سر انجام دے چکے ہیں۔ طالبات بہت کم سکول میں داخل ہوتی تھیں۔ اگر کوئی لڑکی ابتدائی جماعتیں پڑھ کر مزید پڑھنے کی خواہش رکھتی، تو وہ پرائیویٹ امیدوار کی حیثیت سے مڈل یا ہائی کا امتحان سیدو شریف میں دیتی تھی۔ بہ قول وکیل حکیم زے کہ وہ امتحان دینے کے لیے بڑی بہن کے ساتھ سیدوشریف گئے ہوئے تھے۔ تا ہم بعض طالبات کو مختلف درجات میں داخلہ لینے والی پہلی طالبات ہونے کا شرف حاصل ہے جیسے پرائمری میں شاہی باغ ولد اجڑ زرگر داخل ہوئی۔ مڈل میں یہ اعزاز حمیدہ بی بی بنت محمد افضل خان نے نمبر 628 کے تحت ششم جماعت میں 25 اپریل 1967ء کو داخلہ حاصل کیا، جو ایک سال بعد خارج ہوئی۔ اس طرح جماعت نہم میں رئیس بیگم بنت محمد روان خان کو سلسلہ نمبر73 کے ساتھ یکم اپریل 1971ء کو داخلہ ملا، لیکن دس دن بعد اُسے سکول چھوڑنا پڑا۔ یہ ادھورا مشن گاؤں بیدرہ کی شاہ بیگم ولد بابو جان نے سلسلہ نمبر1442 کی رو سے4 اگست1988ء کو جماعت نہم میں داخلہ لے کر پورا کیا۔ اس طرح وہ 17مارچ 1990ء کو پہلی بار ایک ریگولر طالبہ کی صورت میں امتحانی ہال پہنچی۔ یوں اُسے ہائی سکول درشخیلہ سے پاس ہونے والی پہلی طالبہ ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ اُس کی یہ کوشش آنے والیوں کے لیے باعث تحریک بنی اور اس سے دیگر ڈھیر ساری لڑکیوں کو حوصلہ ملا جس کے نتیجے میں اکثر طالبات یہاں سے امتحان پاس کرنے لگیں (بہ شکریہ محترم فضل الحکیم صاحب، مساوات خان دردان اور محترم علی زیب صاحب) جب کہ بعض طالبات گورنمنٹ گرلز ہائی سکول مٹہ میں تعلیم حاصل کرتی تھیں۔
قارئین، بات درشخیلہ ہائی سکول سے چلتے چلتے تعلیمِ نسواں تک پہنچ گئی۔ راقم نے اس بابت معلومات سمیٹنے کے لیے ایک سوال نامہ کے ذریعے میڈم زاہدہ بی بی سے بھی کچھ دریافت کیا، مثلاً 1981-82ء میں یہاں گرلزپرائمری سکول بنا، جو 1994ء کو مڈل اور 1998ء کو دس طالبات کی بدولت ہائی کلاسز تک ترقی پاگیا۔ جہاں آج کل پرائمری کے علاوہ450 طالبات زیرِ تعلیم ہیں۔ پچھلے سال حیران کن طور پر 200 طالبات داخل ہوئیں۔ میڈم نے مزید اضافے کا عندیہ دیا اور ایک سوال کے جواب میں یہاں ہائیر کلاسز کی اشد ضرورت بھی محسوس کی۔ اس طرح بوائز سکول کی تعداد کا اندازہ ہر سال ڈیڑھ سو کے قریب پاس ہونے والے طلبہ سے لگایا جاسکتا ہے، جن کے لیے دیگر اداروں میں داخلہ لینا یورپ میں گرین کارڈ حاصل کرنے کے مترادف ہے۔ کیوں کہ نہ تو یہ طلبہ کسی ادارے کے لیے لوکل کے زمرے میں آتے ہیں اور نا ان کے لیے کسی ادارے میں سپیشل کوٹہ ہی مقرر ہے۔ مجبوراً پچاس فی صد طلبہ غربت اور بے تحاشا مشکلات کے باعث مزید پڑھنے سے محروم ہوجاتے ہیں۔ ہاں اگر بعض طلبہ نجی تعلیمی اداروں میں داخلہ لے سکیں، تو ٹھیک ورنہ اللہ اللہ خیر صلا۔
قارئین کرام! پندرہ ہزارآبادی پر مشتمل یہ گاؤں اور آس پاس کے گنجان آباد دیہات کے باشندے 1963ء سے ہائیر سیکنڈری سکول کی راہ تک رہے ہیں۔ یہاں کے باشعور عوام دیکھ رہے ہیں کہ متعدد جونیئر تعلیمی ادارے اس میدان میں کیوں آگے نکل گئے؟ جب ایک دور دراز اور بلند و بالا پہاڑی علاقہ کو ہائیر سیکنڈری سکول کا درجہ دیا جاسکتا ہے، تو اس بوڑھے برگد کو دینے میں کیا مضائقہ ہے؟ حالاں کہ یہ ادارہ وہ سائبان ہے جس کی ٹھنڈی چھاؤں میں سکون سے ہم مستقبل کی راہیں ہموار کرتے چلے آئے ہیں۔ یہ ایک بارآور درخت ہے جس کا پھل ہر خاص وعام بلا ناغہ کھاتا چلا آیا ہے۔ یہ ایک مشفق ماں ہے، جس کی پیار بھری گود مدتوں سے شفقت اور محبت کی لوریاں سناتی چلی آئی ہے۔ خود کتنی مصیبتیں سہ چکی ہے لیکن کبھی بھی اپنی اولاد سے گلہ نہیں کیا۔ اُلٹا اس نے پیار بانٹنے والی آغوش میں بے شمار اساتذہ، افسران، وکلا، ڈاکٹر اور اعلیٰ تعلیم یافتہ حضرات کو پالا پھوسا اور اونچے مقام تک پہنچایا۔ الغرض مختلف شعبہ ہائے زندگی میں کتنوں کا تعلق اس ادارے سے رہا ہے۔ کیا وہ نہیں جانتے کہ کس قدر ضرورت ہے ایک سیکنڈری سکول کی۔ اگرچہ ان میں بااثر افراد کی کوئی کمی نہیں ہے،لیکن یہاں گلہ کرنا بے کار ہے۔ کیوں کہ تعلیمی اہمیت سے باخبر افراد کے بیٹوں کو شاید معلوم بھی نہیں کہ یہاں ایک گورنمنٹ ادارہ موجود بھی ہے۔ اور تو اور اُن اساتذہ کے بچے بھی یہاں پڑھنے نہیں آتے جن کے والدین اس ادارے میں معلمی کے پیشے سے وابستہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی زبوں حالی اور بدبختی پر کسی کی آنکھیں پُرنم نہیں ہوئیں۔ اگرچہ دکھاوے کے لیے ہر سال سیکنڈری سکول کی منظوری کا شوشا چھوڑ دیا جاتا ہے، لیکن بقولِ مساوت خان دُردان ہر بار ٹائی ٹائی فش ہوجاتا ہے۔ موصوف مزید فرماتے ہیں:’’ ہرکام ممکن ہے فقط یہ واحد کام ہے جو ناممکن لگتا ہے۔‘‘
محترم استاد صاحب! میں ان سطور کے ذریعے آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ جب پورے صوبے میں تمام ہائی سکول کو ہائیر سیکنڈری کا درجہ مل جائے گا تو اِن شاء اللہ! اس سکول کا نمبر سب سے آخر سہی لیکن آئے گا ضرور۔ مزید براں ادارے کے اساتذۂ کرام سے سُنا ہے کہ اس مد میں بہتیرا کوشش ہوئی لیکن کچھ پیش نہ گئی۔ مسئلہ صاف ظاہر ہے کہ یہ ادارہ عوام کا ہے، اس لیے بے یارو مددگار ہے۔ اگر یہاں امیروں کے بچے پڑھتے، تو اس کی حالت غریب کی جورو سب کی بھابھی جیسی نہ ہوتی۔یہ سکول تو گاؤں کے غریب متوسط طبقے کا ہے، جو ذاتی معاملات میں ایک دوسرے کو پچھاڑ سکتے ہیں لیکن بنیادی نوعیت کے قومی مسئلوں میں نابینا ہوجاتے ہیں۔
میرے پیارے بھائیو! مسائل سے آنکھیں چرانا عقلمندی نہیں ہے۔ آپ عوام ہیں اورعوام کا سیلاب روکنا کسی کے لیے آسان نہیں ہے۔ آپ کے حکم پر راقم نے مذکورہ مطالبہ بذریعہ تحریر ہذا اعلیٰ حکام کے گوش گزار کیا۔ اب آپ بھی یہ دیرینہ مسئلہ اپنے بھائیوں کے گوش گزار کرکے صف اول کے دستے کا حصہ بنیں۔ پھر جتنا ہوسکے گا اپنے جائز مطالبات منوانے میں حتی الوسع کوشش جاری رکھیں گے۔کیوں کہ ہم سب عوام ہیں اور عوام ازل سے اپنے حقوق کے لیے جدوجہد میں چلے آرہے ہیں۔ پس جو پُرعزم ہوتے ہیں، وہ اپنے مقاصد میں ضرور کامیاب ہوجاتے ہیں۔ ورنہ خاکم بدہن اگر ہم ناکام ہوئے، تور ب کائنات کے حضور گڑگڑا کر سر بسجود اور دست بہ دعا ہوجائیں گے کہ رحمت اللعالمین، سنگدل اعلیٰ حکام کے دلوں پر رحمت کی بارش نازل فرما! آمین
یا پھر میاں گل عبدالودود کی مرقد پر کھڑے ہوکر گزارش کریں گے کہ اے تعلیمی ریفارمر! علم کا جو پودا آپ نے برہ درشخیلہ میں بویا تھا، اب تناور درخت بن چکا ہے۔ آپ کے بعد1963ء کو آپ کے فرزند ارجمند نے اس کی آبیاری کر کے سینچا تھا، لیکن اب اسے مزید بڑھنے اور پنپنے کے لیے ایک اور مالی کی ضرورت ہے۔ شاید یہ بات آپ کے ارمانوں کے لے سوہانِ روح ہو، لیکن ہمیں آپ کے علاوہ انقلابی سوچ رکھنے والا نظر نہیں آتا۔ معاف کیجئے گا۔
آخر میں انتہائی معذرت کے ساتھ گرلز ہائی سکول کی میڈم زاہدہ بی بی سے التماس ہے کہ ازراہِ کرم آپ اپنے ادارے کی ترقی کے بارے میں سوچیے بھی نہیں۔ کیوں کہ ہم نے لڑکوں کے لیے55 سال تک انتظار کیا اور نتیجہ اعشاریہ صفر سے زیادہ نہ نکلا۔ اس حساب سے تو آپ کا ادارہ بہت کمسن ہے۔ ابھی تو اس کے دودھ کے دانت بھی نہیں نکلے اور آپ ہیں کہ ہائیر سیکنڈری کی اشد ضرورت محسوس کرتی ہیں۔ شاید آپ کی نظر میں ’’لیڈیز فرسٹ‘‘ والی بات ہو، لیکن پہلے تو ہمیں لڑکوں کا مسئلہ حل کرنے دیں۔ پھر آپ کی بچیوں کی باری آئے گی۔

Related posts

انتخابات، کس کا کیا مقام؟

Ba Khabar Swat

جب حکومتِ پاکستان نے کرونا کو آنے کی دعوت دی

Ba Khabar Swat

tasdiq iqbal babo

Ba Khabar Swat

Leave a Comment