چیف ایڈیٹر : فیاض ظفر
ایڈیٹر : امجد صحاب
ریزیڈنٹ ایڈیٹر: عطااللہ خان بابا
تصدیق اقبال بابوکالم

جامونہ د زمزم

مارے ہاں مقاماتِ مقدسہ پر حاضری کی روایت بڑی قدامت رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سفر کو وسیلۂ ظفر کہا گیا۔ اس روایت میں کافی حج نامے اور سیاحت نامے لکھے گئے، جن میں بعض ایک خالص خارجی بیانیہ پر مشتمل رہے، تو بعض ایک آپ بیتی اور رپورتاژ کی ہیئت اختیار کرگئے۔ معیاری تخلیقی سفرناموں کو انگلیوں پہ گنا جائے، تو دوسرے ہاتھ کی دو ایک انگلیاں پھر بھی بچ رہتی ہیں۔ سفرِ حجاز پہ اگر کوئی سفرنامہ سرفہرست رکھا جائے، تو وہ ’’ممتاز مفتی‘‘ کا ’’لبیک‘‘ ہے جس میں مفتی صاحب خانہ کعبہ کو ’’کالا کوٹھا‘‘ اور خدا کو ’’کوٹھے والا‘‘ تک لکھ جاتا ہے۔ بابا محمد یحییٰ خان اسے ’’کاجل کوٹھا‘‘ کہتا ہے۔ میں نے پشتو میں امیر حمزہ کا سفرِ حجاز تو نہیں پڑھا، البتہ اپنے سید صابر شاہ صابرؔ کا ’’مری نہ مکے تہ‘‘ نظر سے ضرور گزرا ہے جس میں اُن کی روایتی خود بیانی زوروں پہ نظر آتی ہے۔ تاہم اُن کی یہ تخلیقاتی کاوش سراہے جانے کے قابل ہے۔ پشتو میں یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔
ایاز اللہ ترکزی بھی اک تازہ دم لکھاری ہیں جنہوں نے شاعری، ناول، تحقیق اور افسانوں کی کئی ایک کتب لکھ کر ادب کے دامن کو وسیع کیا ہے۔ اُن کا یہ سفر ابھی تھما نہیں اور ’’جامونہ د زمزم‘‘ نامی معیاری سفرنامہ لکھ کر پشتو زبان و ادب میں سفرِ حجاز کے حوالے سے اِک مستند اور معتبر کتاب کا اضافہ کیا ہے۔ اس سفر میں انہوں نے جو دیکھا، جو محسوس کیا اُسے اپنے دلکش اسلوب اور سلیس پیرائے میں بیان کیا ہے۔ یہ اُن کا فنی کمال تھا کہ دورانِ مطالعہ میں نے محسوس کیا کہ جیسے میں بھی اُن کے ساتھ شریکِ سفر ہوں۔ اِک کامیاب سفرنامہ نگار کی یہی خوبی ہوتی ہے کہ وہ اوّل سے آخر تک قاری کو اپنے سحر میں جکڑلے اور اُسے انگلی تھما کر کوبہ کو، قریہ قریہ اور گلی گلی گھماتا پھراتا رہے۔ ایاز اللہ ترکزی اس مقصد میں کامیاب نظر آتے ہیں۔ چوں کہ اُن کا بیانیہ مقاماتِ مقدسہ کے گرد گھومتا نظر آتا ہے، اس لیے انہوں نے کوشش کی ہے کہ اُن مقامات کی تاریخی حیثیت کو بعینہٖ بیان کیا جائے۔ اس کے لیے انہوں نے مختلف تاریخی کتب کے حوالہ جات سے کام لے کر اپنی دلیل کو سند کا درجہ دینے کی بھی کوشش کی ہے۔ انہوں نے ضروری معلومات، بصری احساسات اور قلبی کیفیات کو بڑی روانی، سلامت اور عام فہم انداز میں بیان کیا ہے۔ اس میں معلومات کی فراوانی بھی ہے، وہاں کی تہذیب و تمدن اور معاشرت کے خدوخال بھی ہیں اور قلبی واردات کے احوال بھی، جس سے ادبی نثر پارے کا سا حظ اُٹھایا جاسکتا ہے۔ آپ کا شگفتہ اور سبک اندازِ تحریر قاری پہ بوجھ نہیں بنتا۔ یہی وجہ ہے کہ قاری شروع سے آخر تک خود کو اس سفر میں اِک کردار محسوس کرتا ہے۔ ادب کے قاری کے علاوہ طلبہ اور عازمینِ حج کے لیے اس سفرنامے میں کافی معلومات موجود ہیں۔ مثلاً ارکانِ حج، حج کی متعلقہ اصطلاحات، تفصیلات، مقامات، دعائیں اور فاصلے جیسی تفاصیل کا اِک بڑا ذخیرہ اس میں موجود ہے۔
سفرنامے کا آغاز ہی ایسا جاندار ہے کہ قاری پہلی ہی سطر سے خود کو ’’آگے کیا ہوگا؟‘‘ کی کیفیت میں محسوس کرنے لگتا ہے۔ رشتہ داروں کے ہجوم میں رخصتی، ماں کا لپٹ لپٹ کر بھیگی آنکھوں سے بیٹے کو رخصت کرنے کا منظر انسان کو اندر سے ہلا کے رکھ دیتا ہے۔ یہ منظر تو اُس کے لیے اور بھی کربناک ہوتا ہے جس کی ماں ہی نہ ہو۔ یہی وجہ تھی کہ میری آنکھوں سے ٹپ ٹپ کرتے دو آنسو گرے اور گریبان میں جذب ہوگئے۔
پاکستان ہی میں اُنہیں پہلا جھٹکا اُس وقت لگتا ہے جب ٹیکسی والا کپڑا سمگل کرتے پکڑا جاتا ہے اور اُنہیں گھنٹوں اذیت اُٹھانی پڑتی ہے۔ جہاز کی اُڑان کے بعد زمین کی منظر کشی کچھ انداز میں کرتے ہیں۔
(ترجمہ): ’’نیچے کا منظر بھی عجیب تھا، کہیں آبادی، کہیں پہاڑ اور کہیں سمندر کا نظارہ دل کھینچ رہا تھا۔ نیچے کی آبادی ماچس کی ڈبیوں کی طرح دکھ رہی تھی۔ پہاڑ چھوٹی ڈھیریاں جب کہ سمندر تو یوں دکھتا تھا جیسے کسی نے زمین پہ نیلی چادر بچھارکھی ہو۔‘‘
جب آپ مکہ مکرمہ کی اہمیت اور بزرگی کا ذکر کرتے ہیں، تو خانہ کعبہ کی تاریخ، فرشتوں کی کمک، فیل کا واقعہ اور غلاف وغیرہ کے متعلق تمام تر تفاصیل کے لیے مستند کتب اور قرآن و حدیث جیسے مآخذ سے بھی استفادہ کرتے ہیں۔ اسی طرح حجرِ اسود، مقامِ ابراہیم، چشمۂ زمزم اور اس کے پانی کی فضیلت کے ساتھ ساتھ مسجد جن، منیٰ، عرفہ اور غارِ حرا کے متعلق ایسے ایسے چشم کشا واقعات بیان کرتے ہیں کہ اُن کی اس تدوین پہ بندہ متحیر ہوکے رہ جاتا ہے۔
جب مدینہ منورہ کا ذکر کرتے ہیں، تو مدینہ کی تاریخ، اوس اور خزرج قبیلوں کا احوال، قبلتین اور قبا کی مساجد کا ذکر اور تمام مناسک کی تفصیل بڑی ترتیب اور تفصیل کے ساتھ اس سفری مجموعے کا حصہ ہے۔ کمال یہ ہے کہ یہ تمام اضافی معلومات اِک تسلسل کے ساتھ اپنی اپنی جگہ پہ سامنے آتی رہتی ہیں اور قاری کی بصیرت اور بصارت کو مزید وسعت دیتی رہتی ہیں۔
حج کے دنوں میں حمام، قصاب اور ٹیکسی والے جو زیادتیاں کرتے ہیں، اُنہیں بھی آپ نے لکھا ہے۔ نیز ایک مردان والے غصیلے بابا سے جب اُس کی صابر و شاکر بیوی گم ہوجاتی ہے، تو وہ اُس کی تلاش میں اتنا سرگرداں ہوتا ہے کہ اُس سے حج ہی رہ جاتا ہے اور بیوی حج کرکے اُس کے پاس آجاتی ہے۔ یہ اور اس قسم کی اور بھی چھوٹی موٹی باتیں سفرنامے کا حصہ ہیں۔ مثلاً گروپ کے عبدالحمید نامی شخص کا عمر رسیدہ بوڑھوں کے ساتھ ہلکی پھلکی گپ شپ لگانا ہو یا بھارت کے بابا کو اِک پاکستان سے دھمکا لگ جانے کا احوال یہ سب کچھ بڑا دلچسپ ہے۔
اختتامِ حج کی آخری دعا میں آپ کی ہچکیاں تھمنے کا نام نہیں لے رہی تھیں۔ آپ دست بہ دعا زار و قطار روئے جارہے تھے، یہاں تک کہ گھگھی بندھ گئی۔ آپ خودی و سر شاری میں روئے جا رہے تھے۔ ایسے میں اُن کے دوست عطاء الرحمان آئے، آپ کو تھاما، تسلی دی اور کہا۔ ’’مبارک ہو! یہ آپ کے حج کی قبولیت کا اشارہ ہے، ورنہ ہر کسی پہ ایسی کیفیت طاری نہیں ہوتی۔‘‘
واپسی پہ جدہ ائیر پورٹ میں اضافی سامان کی سرکاری فیس کے علاوہ چھپ چھپا کے مٹھی میں رشوت دینے اور لینے کا سلسلہ بھی چلتا ہے۔ ایاز اللہ نے اپنے پاکستانی ساتھیوں کو اس فعل سے منع بھی کیا لیکن پھر بھی کچھ حاجی سنی اَن سنی کرکے مٹھی گرما ہی گئے۔
213 صفحات پر مشتمل خوبصورت گیٹ اَپ والی یہ مجلد کتاب اُنہی کے ادارے ’’اعراف پرنٹرز‘‘ نے شائع کی ہے، جس پہ حنیف خلیل، سمیع الدین ارمان اور سید چراغ حسین شاہ کی خوبصورت تحریریں بھی موجود ہیں۔ ترکزئ صاحب نے اُسے اپنے استاد اور دوست ہر دلعزیز سید صابر شاہ صابر کے نام منسوب کیا ہے۔ کتاب پڑھنے کے لائق ہے۔ پڑھیے اور ہمیں بھی دعاؤں میں یاد رکھیے۔

Related posts

قصب گر ماما

Ba Khabar Swat

جنید خان …… طالبِ دعا

Ba Khabar Swat

منگلور بنجوٹ بائی پاس روڈ 

Ba Khabar Swat

Leave a Comment